(گزشتہ سے پیوستہ)
میں نے انتہائی مخلصانہ انداز میں مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا میں دوڑتی خبروں پر نہ یقین کیا کریں ۔ یہ زیادہ تر من گھڑت اور جھوٹی ہوتی ہیں ۔اس کے چہرے پر ابھرے تاثرات میری ناصحانہ التجا سے کچھ اتفاق کا عندیہ دینے لگے ۔ مباحث کچھ طویل ہوئی تو اسکا دامن دلائل سے خالی ہو گیا ۔ تاہم موقف کے دفاع میں ادھر ادھر کی مثالیں دینا لگا ۔ اس نے مظفر گڑھ کے ایک سیاست دان کی وڈیو چلا کر میرے سامنے رکھ دی۔ جس میں وہ سیاست دان ہتھکڑیاں پہنے پولیس کی حراست میں پولیس وین میں بیٹھا ہوا ہے۔ خود پہ ہونے والے ظلم و تشدد کا قصہ سنا رہا تھا ۔ جسکی ساری ذمہ داری حساس اداروں پہ ڈال رہا تھا۔ عوامی ہمدردی ، سستی شہرت کے حصول اور اداروں کو بدنام کرنے کے لئے بڑے سنگین الزامات لگا رہا تھا ۔ میں نے وڈیو کلپ غور سے دیکھا اورسنا ۔ گو کہ میں وہ پہلے بھی دیکھ چکا ہوا تھا ۔ اس سے ریاستی اداروں کی ساکھ کو داغدار کرنے کی سازش کی بو آ رہی تھی ۔اس میں سیاسی مفاد کا تڑکا بھی تھا۔ کلپ دکھانے والے سے میں نے پوچھا کہ کیا وہ اس سیاستدان کو سچا اور ایماندار سمجھتا ہے ؟ وہ ایکدم بولا بالکل۔
اس کے برجستہ جواب نے مجھےدلیل سے اسکو مات کرنے کا بہترین موقع فراہم کر دیا۔ میں نے شطرنج سی اک چال چلی جو فٹ بیٹھ گئی ۔ میں نے مظفر گڑھ کے اسی سیاستدان کاکچھ سال پہلے کا وڈیو کلپ یو ٹیوب سے نکال کر اس سامنے رکھ دیا ۔ جس میں اس نے اپنے حالیہ پارٹی لیڈر کے خلاف انتہائی گھٹیا اور کردار کش پریس کانفرنس کی تھی۔ بڑے ذاتی نوعیت کے الزام لگائے تھے جنھیں سن کر حتی کہ مغربی کلچر بھی شرما جائے ۔ اتفاق سے میرے اس اورسیز پاکستانی اور متذکرہ سیاسدان کا سیاسی لیڈر ایک ہی تھا ۔ اس نے وڈیو دیکھی تو اس پر سکتہ طاری ہو گیا ۔ حلق خشک ہوگیا اور زبان گنگ ہو گئی ۔وہ عجیب تذبذب سے دوچار ہو گیا ۔ پہلی وڈیو کلپ میں جس شخص کے الزامات کو درست کہہ چکا تھا اسی شخص کی دوسری وڈیو جس میں اس کے پسندیدہ سیاسی لیڈر کے خلاف الزامات تھے کو کیسے غلط یالغو کہے۔کچھ توقف کے بعد بولا ، سر آپ نے تو میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ ہمارے اذہان پہ چڑھے سوشل میڈیا کے اثرات کو کافی زائل کر دیا ہے ۔جن حقائق کیطرف آپ نے ہمیں متوجہ کیا ہے وہ واقعی سوشل میڈیا پہ رواں ملک دشمن پروپگنڈا کے نیچے دب چکے تھے ۔حالات کی ضرورت کو بھانپتے ہوئے انکو میں نے پاکستان کے خلاف جاری بیرونی سازشوں بارے بریف کیا ۔ جن کا ہدف ہماری فوج اور جوہری قوت ہے ۔جھوٹے پروپگنڈے کے ذریعے وہ ان کو عوام کی نظروں سے گرانے کی مذموم کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ وہ نفرت اور تقسیم کی آگ سے ملکی یکجہتی اور وحدت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سیاسی اور مذھبی فرقوں میں بٹ کر ، دشمن کی بدامنی اور بدگمانی کی سلگائی آگ کو غیر ارادی طور پر ہوا دے رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر فوج مخالف مواد دھونکنی کا کام کر رہا ہے ۔ ہم جتنا جلد اس کا ادراک اور احساس کریں لیں ملک و قوم کے لئے بہتر ہوگا ۔ سب نے میری بات بڑے تحمل اور کھلے ذہن سے سنی ۔میں نے بھی تہہ دل سے انکا شکریہ ادا کیا۔
یو کے اور یورپ کے ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے میل جول کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ان کی سوچ پر سوشل میڈیا کا گہرا اثر ہے ۔ جس کے باعث ان کی رائے اک خاص سیاسی پارٹی سے کافی ہم آہنگ ہے ۔ اس پارٹی کا سوشل میڈیا پر کافی عرصہ سے راج چلا آ رہا ہے ۔ اس کے پاس بڑے ماہر اور ہوشیار میڈیا ورکرز ہیں۔ بیرون ملک بسنے والے لوگوں کی وطن سے دوری اور زمینی حالات سے کم آگاہی کو انہوں نے خوب سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا ۔ان کے ذہنوں کوخاص سوچ سے بھر دیا۔ جس کے باعث وہ ملک بارے بہت فکرمند اور کچھ حلقوں کے سخت خلاف ہو گئے ہیں ۔ انکے دل و دماغ میں لگی بدگمانی اور بے چینی کی آگ کو جتنا جلد تسلی بخش جوابات سے بجھایا جائے اتنا ہی ملکی مفاد کیلئے بہتر ہے۔محب وطن پاکستانیوں اور متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ اورسیز پاکستانیوں کو زمینی حقائق سے ہمہ وقت آگاہ رکھیں ۔ سوشل میڈیا پہ جاری منفی اور ملک دشمن پروپیگنڈا مہم سے بروقت ان کی پہچان کرائیں تاکہ وہ اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہیں ۔