Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

بجٹ اور آئی ایم ایف سے آخری معاہدہ

28 جون کو قومی اسمبلی نے بجٹ کو منظور کر کے آئی ایم ایف کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا،12جون کو پیش کیا جانے والابجٹ 16 دن بعد یعنی 28 جون کو منظور ہوا تو وزیر اعظم شہباز شریف نے میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں ان حالات پر روشنی ڈالی جن میں یہ سارا عمل مکمل ہوا‘ وزیراعظم نے بتایا کہ آئی ایم ایف کیساتھ مل کر بجٹ بنانا جان جوکھوں کا کام تھا۔
ایک طرف مالیاتی ادارے کا دبائو اور دوسری جانب عوام کی توقعات، مسائل اور مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے اپنے جذبات کے حوالے سے صراحت کی کہ میں سو فیصد عوام کیساتھ ہی رہنے، ان کے تمام مسائل حل کرنے اور ان کیلئے زندگی کو آسان بنانے کا آرزومند ہوں، لیکن معاشی مشکلات کی وجہ سے بہت کچھ سوچنا سمجھنا پڑتا ہے۔ اس عمومی تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے تمام مطالبات کو بلا چون و چرا مان لیا ہے اور عوام کو بجلی گیس کے نرخوں اور ٹیکسوں میں ہوش ربا اضافے کی شکل میں مہنگائی کے سیلاب کی نذر کردیا ہے، وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ مالیاتی ادارے کے متعدد مطالبات مانے نہیں گئے‘کیونکہ اگر ہم آئی ایم ایف کی تمام باتیں مان لیتے تو بہت سے ایسے شعبوں پر بوجھ پڑ جاتا جس کے باعث ملک کی بھاری اکثریت کی مشکلات بے پناہ بڑھ جاتیں‘ انہوں نے بتایا آئی ایم ایف زراعت اور کھاد پر مزید ٹیکس لگانے پر اصرار کر رہا تھا اور اس سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا لیکن انہوں نے بذات خود مالیاتی ادارے کے وفد سے تمام نکات پر مفصل گفتگو کی اور ان معاملات میں رعایت حاصل کی جس کی وجہ سے زراعت اور کھاد پر مزید ٹیکس نہیں لگایا گیا۔
وزیراعظم کے بقول آئی ایم ایف کا اصرار تھا کہ بہت سے طبی آلات پر ٹیکس لگایا جائے حتی کہ ان کی خواہش بلکہ کوشش تھی کہ خیراتی اسپتالوں کے طبی آلات پر بھی ٹیکس لگایا جائے لیکن انہوں نے عالمی ادارے کو قائل کیا ایسا کرنا لوگوں کی مشکلات ناقابل برداشت حد تک بڑھانے کا سبب بنے گا، لہٰذا حکومت کیلئے ایسے اقدامات ممکن نہیں‘ وزیراعظم کے مطابق بہت سے دیگر ٹیکسوں کے معاملے پر بھی ایک ایک نکتے پر بحث ہو ئی، آئی ایم ایف کو ان تمام معاملات پر راضی کیا گیا جو کہ آسان کام نہ تھا‘میاں شہباز شریف نے بجٹ سازی کے مرحلے میں عالمی ادارے سے کامیاب مذاکرات کا بھرپور کریڈٹ اپنے متعلقہ ساتھیوں کو دیتے ہوئے کہا کہ میری پوری ٹیم نے بہت اچھا کام کیا‘ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ پٹرولیم اور لیوی بڑھانے کا معاملہ آئی ایم ایف سے تعلق نہیں رکھتا‘ بلاشبہ وزیر اعظم چونکہ میاں شہباز شریف ہیں،اس لیے بجٹ کی تعریف میں جتنا کچھ بھی کہہ دیں وہ کم ہے، یقینا وہ اور ان کی ٹیم ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے محنت کررہے ہوں گے ،آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر وہ مہنگائی میں کمی کیسے لائیں گے، آنے والے دنوں میں اس کا بھی پتہ لگ جائے گا ، جن دوست ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کے مثبت پیغامات آرہے ہیں‘کیا پاکستان میں پایا جانے والا سیاسی عدم استحکام اس سرمایہ کاری کے راستے کی رکاوٹ تو نہیں بنے گا، مضبوط معیشت وزیر اعظم کا خواب تو ہو سکتا ہے،لیکن آئی ایم ایف اور ’’سود‘‘ جیسی لعنت کی موجودگی میں یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،بجٹ کے بعد حکومت کو آئی ایم ایف سے نئے پیکیج کے حصول کا مرحلہ طے کرنا ہوگا جو وزیر اعظم کے مطابق عالمی ادارے کیساتھ ہمارا آخری معاہدہ ہوگا، اورجس کے بعد عوام کو مزید ریلیف ملے گا‘ تاہم مالی وسائل کیلئے ملکی ذرائع کا زیادہ سے زیادہ بہتر استعمال کیا جانا ضروری ہے تاکہ بیرونی سہاروں سے جلد ازجلد نجات ممکن ہو‘ آئی پی پیز سے انتہائی مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے کم سے کم وقت میں ختم کرکے سورج، پانی، کوئلے اور ہوا سے توانائی کے حصول کی جدوجہد جنگی بنیادوں پر شروع کی جانی چاہئے اور ہمہ گیر، بے لاگ و خود مختار نظام احتساب کے ذریعے سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کرکے قومی وسائل کو ضائع ہونے سے بہرصورت بچانا پڑے گا،مگر یہ سب کرے گا کون؟مطلب یہ کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟
دوسری طرف وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ اضافی ٹیکس سے کافی لوگوں پر دبائوبڑھا ہے جیسے ہی کوئی مالی گنجائش ہوئی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیں گے ‘ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے اورطویل پروگرام پرمثبت اوردرست سمت میں پیش رفت ہورہی ہے ‘ ورچوئل مذاکرات جاری ہیںجولائی معاہدہ ہونے کی امید ہے امریکی کانگریس میں پاکستان کے بارے میں پیش ہونے والی قرار داد کا آئی ایم ایف کے پروگرام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘ ضروری نہیں کہ عالمی مالیاتی فنڈکی ٹیم پاکستان آئے‘ انھوں نے قوم کو خوشخبری سنائی کہ وزراء نے تنخواہ لینے سے انکارکردیاہے، اورہم اپنے یوٹیلیٹی بلز بھی خود دے رہے ہیں۔
وزیر خزانہ اورنگزیب اب بس بھی کر دیں ‘ کیاوہ قوم کو رولانا چاہتے ہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ 42ہزار رٹیلرزکی رجسٹریشن ہوچکی ہے، جن پریکم جولائی سے ٹیکسوں کااطلاق ہوگا‘ ایف بی آر حکام اور ٹیکس دہند گان دونوں چوری میں ملوث ہیں‘ معیشت کی صورتحال مستحکم ہے، حکومتی اقدامات سے عالمی برادری اوربین الاقوامی اداروں کااعتماد بحال ہوا، معاشی استحکام کوتسلسل کی طرف لے کر جائیں گے‘ نان فائلرز کی اختراع کوختم کریں گے ‘ڈھانچہ جاتی اصلاحات نہیں لائیں گے تومسائل جاری رہیں گے‘ اب مہنگائی کی شرح کم ہوکر 12فیصد کی سطح پرآگئی ہے‘پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری پرحاصل منافع کی منتقلی میں رکاوٹیں بھی دورکردی گئی ہے اوراس حوالہ سے مئی کے آخر تک بیک لاگ کو کورکرلیاگیاہے اورلیٹرآف کریڈٹس کے حوالہ سے مسائل بھی حل کردئیے گئے ہیں‘ عالمی بینک نے داسوڈیم کیلئے ایک ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے، وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے کیا دعوے ،کیا باتیں اور کیا خواب ہیں،مگر یہ سب سننے کے بعد بھی عوام کہتے ہیں۔
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

یہ بھی پڑھیں