مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے قادیانی گروہ کی وکالت کے حوالے سے اپنے ٹی وی پروگرام میں جو وضاحت پیش کی،اسے عذر گناہ بد تر از گناہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے،بہرحال ہم ان کی ہدایت کے حوالے سے اللّٰہ کے حضور دعا ہی کر سکتے ہیں،اگر شامی صاحب نے قادیانی کذب بیانی کو آگے پھیلانے کا ٹھیکہ اٹھا ہی لیا ہے،تو انکی مرضی ،پاکستان ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانوں ،دیوانوں اور فرزانوں کا ملک ہے،یہاں اگر کسی نے منکرین ختم نبوت کی ٹاؤٹی کر کے انہیں نا جائز ریلیف دینے کی کوشش کی تو پھر ایسا دما دم مست قلندر ہو گا کہ اسکی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی ،مولا نا اللہ وسایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائد اور بزرگ عالم دین ہیں،انہوں نے مجیب الرحمٰن شامی صاحب کے انتہائی متنازعہ مؤقف کے حوالے سے ایک مدلل اور پر مغز خط انکے نام لکھا ہے،بدھ کی صبح مولانا اللہ وسایا کی مہربانی سے وہ خط اس خاکسار تک پہنچا،جسے اس نیت سے مینارہ نور کی زینت بنا رہا ہوںشاید کہ اتر جائے ان کے دل میں مولانا کی بات، مولانا اللہ وسایا لکھتے ہیں کہ کہنہ مشق، صحافی مجیب الرحمن شامی نے ایک نجی چینل کے پروگرام میں ۲۴؍جون ۲۰۲۴ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ایک اقلیت تو ایسی ہے کہ ہم اس کا نام ہی نہیں لے سکتے جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور ہم انہیں قادیانی کہتے ہیں۔ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے ۔ آپ کو قربانی نہیں کرنے دیں گے، آپ کو نماز نہیں پڑھنے دیں گے، آپ کے بکرے جو ہیں ہم اٹھا کے لے جائیں گے، آپ نے ۵۰ ہزار کا خریدا ہے، ہم اسے ۲۵ ہزار کا واپس لے لیں گے ۔ یہ کیا تماشا ہے ؟ اور آپ کو عبادت گاہ نہیں بنانے دیں گے ۔ او بھائی! آپ بیٹھیں۔ ہمارے حافظ نعیم الرحمن حضرت مفتی فضل الرحمن اور منیب الرحمن اور تقی عثمانی یہ بیٹھیں۔ خدا خوفی کریں۔ ان کی بھی حدود و قیود طے کر دیں۔ اس طرح نہ کریں کہ یہ پاکستان کو ہندوستان بنادیں۔ ہندویاتروں والے یہاں دندناتے پھریں اور آپ چین سے بیٹھے رہیں۔ ہر شخص جو پاکستان کا شہری ہے خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، کسی نسل سے تعلق رکھتا ہو، کسی علاقے کا رہنے والا ہو اس کی جان اس کے مال، اس کی آبرو کی حفاظت حکومت پاکستان کی اور ریاست پاکستان کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ یہ جو قادیانی حضرات ہیں ان کے ساتھ بھی بیٹھیں۔ ان کی باتیں سنیں۔ ان کو آپ نے دستوری طور پر ایک اقلیت قرار دیا ہے، اور غیر مسلم قرار دیا ہے ان کی بات سنیں ان کے اپنے شہری حقوق ہیں۔ ان کا احترام کریں۔ تو اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ خوف کی چادر جو ہے اس کو اتار پھینکیں اور جو بات حقیقت ہے اس کو بیان کریں اور اس سے نہ ڈریں،نہ ہجوم سےڈریں اور نہ بے لگام مذہبی رہنماؤںسے ڈریں۔‘‘
نجینیوزچینل پر جس مسلمان نے شامی کا بیان سنا، وہ ششدر رہ گیا کہ اتنی تو تو، میں ،میں، جارحانہ گفتگو، اشتعال انگیز زبان، توہین آمیز طرز تخاطب، اس عمر میں شامی صاحب کی شایان شان نہیں تھا۔ چنانچہ اس پر بعض حضرات کا سوشل میڈیاپر شدید رد عمل آیا۔ بعض حضرات نے اسے قادیانیوں کی وکالت پر محمول کیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ کراچی میں ایک این جی او چلانے والے ناصر جبران جن کے گھر شامی صاحب کی سگی بھتیجی ہیں اور وہ قادیانیوں کی حمایت میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ یہ اس تعلق کا نتیجہ عمل ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ قادیانی لابنگ کے اثرات اس گفتگو کے ایک ایک لفظ سے ٹپکتے ہیں۔ تحریک لبیک کے بعض حضرات کے شامی صاحب کی اس گفتگو پر ریمارکس تو جواب آں غزل قرار دئیے جاسکتے ہیں، شامی صاحب نے ان نوجوانوں کی گفتگو کو ’’بدتمیزی‘‘ سے تعبیر کیا۔
شامی صاحب کی یہ گفتگو جس میں ’’بے لگام مذہبی رہنمائوں‘‘کے الفاظ استعمال کئے۔ ان کے متعلق نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ الفاظ جس لابی نے ان کے منہ میں ڈالے ہیں یہ بلاوجہ نہیں۔ ورنہ اس عمر میں ان کے اس طرز تخاطب کو آبرو مندانہ کہنا بہت مشکل ہورہا ہے، انہیں نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر کوئی چاہتا ہے میرا احترام سے نام لیا جائے تو اس کا بھی فرض بنتا ہے کہ خود احترام کا دامن نہ چھوڑے۔ ورنہ یہی ہوگا جس کا آپ نے سامنا کیا۔
ہے یہ گنبد کی صدا، جیسی کہو ویسی سنو!
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن، تنظیم المدارس العربیہ کے سربراہ مولانا مفتی منیب الرحمن، وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہم ایسے گرامی قدر اور ذی وقار جید علماء کرام کے متعلق شامی صاحب کی عامیانہ گفتگو کو جتنا بھی نرم الفاظ میں بیان کریں تب بھی سوقیانہ انداز تخاطب باعث تعجب ہی نہیں باعث ندامت بھی ہے۔حیرانگی اس امر پر ہے کہ انہوں نے اپنے ذوق جنوں کی تسکین یا قادیانیوں کی وکالت میں جو آتش بیانی کی، لگتا ہے کہ شامی صاحب نے قادیانیوں کی وکالت میں حقائق کو جس بری طرح مسخ کیا ہے۔ اس کے پس منظر میں کیا کیا عوامل کام کررہے تھے۔ ذرا سوچئے! ہم نے اس پر نمبر لگا دیئے ہیں قارئین نمبر وار ان کا جائزہ لیں:
’’ایک اقلیت تو ایسی ہے کہ اس کا نام ہی نہیں لے سکتے جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور ہم انہیں قادیانی کہتے ہیں۔‘‘ شامی صاحب نے ایک ہی جملہ کے اول اور آخر میں دو متضاد باتیں فرما دیں کہ ان کا نام نہیں لے سکتے اور پھر اس جملہ کے آخر میں ان کا نام احمدی اور قادیانی ذکر کردیا۔ اس تضاد بیانی کو کیا نام دیا جائے؟اور اس میں انہوں نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کردیا کہ قادیانی صرف خود کو احمدی نہیں کہتے بلکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو مسلمان اور حضور علیہ السلام کے ماننے والوں کو کافر گردانتے ہیں۔ اگر آپ نے سچ کہنا تھا تو پورا سچ بولتے کہ عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ تمام مذاہب کے رہنما اور پیروکارحضور علیہ السلام کی امت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے ماننے والے مسلمان ہیں؟ ایک قادیانی اقلیت ایسی ظالم ہے کہ وہ حضور علیہ السلام کے ماننے والے مسلمانوں کو کافر اور مرزا قادیانی کے ماننے والوں کو مسلمان کہتی ہے۔
آپ نے فرمایا کہ ’’ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔‘‘ تمام تر احترام کے باوجود مجیب الرحمٰن شامی کا یہ کہنا سراسر قادیانی غلط بیانی کا شاہکار ہے۔ پاکستان میں قادیانی کاروبار کررہے ہیں ان کی ملیں ہیں، ان کی فیکٹریاں، دکانیں، مکانات، جائیدادیں ملازمتیں ہیں ان پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ اس کے علی الرغم باہر کے ویزے لینے کے لئے قادیانی جماعت کی قیادت دروغ گوئی کے ذریعہ سے پاکستان کو بدنام کرتی ہے۔ مغربی اداروں(اقوام متحدہ، آئی ایم ایف) کے سامنے اپنی نام نہاد مظلومیت کی فرضی داستانیں وضع کرکے پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کرتے ہیں ان کی اس پاکستان دشمنی کو سپورٹ کرتے ہوئے شامی صاحب کا کہنا کہ ’’ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے‘‘ پاکستان کو بدنام کرنے میں قادیانیوں کے الزام کو حقیقت کے روپ میں پیش کرنے کی مجیب الرحمن شامی سے توقع نہ تھی۔ اس پر سوائے اظہار افسوس کے اور کیا کہا جائے؟(جاری ہے)