Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

مولانا اللہ وسایا بنام مجیب الرحمن شامی

(گزشتہ سےپیوستہ)
آپ کا یہ کہنا کہ ’’قربانی نہیں کرنے دیں گے، نماز نہیں پڑھنے دیں گے، بکرے اٹھالے جائیں گے، ۵۰ہزار کا خریدا ہے پچیس ہزار کا واپس لیں گے۔ آپ کو عبادت گاہ نہیں بنانے دیں گے۔‘‘ جواباً عرض ہے کہ قرآن مجید کی رو سے قربانی شعائر اسلام میں سے ہے قادیانی اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کے لئے قانوناً اسلامی شعائر استعمال نہیں کرسکتے۔ کیا آپ ان کو لائسنس مہیا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو کافر قرار دیں اور اسلامی شعائر کواستعمال کرکے اپنے کفر کو اسلام ثابت کریں اور ایک اسلامی ملک میں کفر واسلام کے امتیاز کو پائمال کریں۔ قادیانیت اور اسلام میں رات اور دن، اندھیرے اور روشنی، زمین اورآسمان سے زیادہ تفاوت ہے۔ قادیانی اس تفاوت کو مٹانے کے درپے ہیں۔ اس امر میں قادیانی موقف کی حمایت کا کیا جواز ہے؟ کاش اس پر غور کیا ہوتا۔بکرے اٹھا کر لے جائیں گے، یہ محض قادیانیوں کا غلط پروپیگنڈہ ہے۔ جان بوجھ کر انہوں نے مسلمانوں کے بدنام کرنے اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی کی کذب بیانی کے ریکارڈ کو بھی مات کیا ہوا ہے۔ کہیں پرایسے ہوا؟ اس کی کوئی مثال؟یہ تمام تر قادیانی ملعونا نہ پروپیگنڈہ ہے۔ جہاں کہیں اس قسم کی داستان وضع کی گئی، چیلنج سے کہا جاسکتا ہے کہ وہاں قادیانیوں کی اپنی شرارت، کذب بیانی، مکروفریب اور دھوکہ دہی کا رقص آپ کو نظر آئے گا۔ قادیانی خود ہی سازش کرتے ہیں، خود ہی اپنے کارندوں کے ذریعہ ماحول بنا کر اپنی فرضی مظلومیت سے پاکستان کو بدنام اور خود کو باہر کے ویزوں سے مالا مال کرتے ہیں۔ قادیانی پروپیگنڈہ اور مجیب شامی کا اس کی تائید کرنایہ وہ شاخسانہ ہے کہ اس پر جتنا افسوس کیاجائے کم ہے۔
آپ کا کہنا:’’آپ کو عبادت گاہیں نہیں بنانے دیں گے۔‘‘ قادیانی خود کو غیر مسلم تسلیم کریں، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کے مطابق اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی طرز پر نہ بنائیں، اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہ کہیں۔ لیکن قادیانی خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی طرز و ہیئت اور مسجد کانام دیتے ہیں، جو سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اور شامی صاحب ان کے اس غیر اسلامی، غیر قانونی طرز عمل پر ان کو روکنے کی بجائے مسلمانوں پر چڑھائی شروع کردیں تو سوچنے کی بات ہے کہ شامی صاحب کفر کی حمایت کررہے ہیں یا اسلام و ملک کی خدمت کر رہے ہیں؟
دنیا بھر میں کوئی مسیحی اپنے چرچ کو مسجد اور کوئی مسلمان اپنی مسجد کو چرچ نہیں کہتا۔ کہیں کوئی ایسا واقعہ نہ ہوا اور نہ ہوگا۔ نہ دور دور تک اس کا کوئی خدشہ ہے۔ رہے قادیانی تو وہ اپنے کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہیں، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی ہیئت و طرز پر بنائیں اور اس کو مسجد کا نام دیں جو پاکستان کے قانون، سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بھی منافی ہے اور اس پر شامی صاحب آپے سے باہر ہوکر فرمائیں کہ ان کو کیوں عبادت گاہیں نہیں بنانے دیتے؟کراچی کے صرف صدر کے علاقہ میں چھ چرچ ہیں۔ ایک ایک چرچ کئی کئی کنالوں کے رقبہ پر مشتمل ہے۔ کہیں کسی نے اعتراض کیا؟ وہ تمام جگہ چرچ کے نام پر ہے۔ قادیانی تمام عبادت گاہوں کی زمین مساجد کے نام پر ہے یا قادیانیوں کے گھر اور سکنی رقبہ ہے۔ اپنے گھر کو یا مسجد کے نام پر جگہ کو اپنی عبادت گاہ قرار دیتے ہیں جس سے اشتعال پھیلتا ہے۔ خود کو غیر مسلم تسلیم کریں۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے علاوہ کسی نام سے رجسٹرڈ کرائیں۔ اگر ان کی طرز و تعمیر مسجد کی طرز و ہیئت پر ہو، نقشہ منظور کراکر تعمیر نہ کرائیں اور شرارت سے غیر قانونی حرکت کریں، مسجد کی جگہ کے نام سے الاٹ شدہ قطعہ پر یا اپنے گھر کے سکنی رقبہ پر عبادت گاہ تعمیر کریں۔ جو آئین، قانون، اخلاق اور انتظامی لحاظ سے یکسر منافی ہو اور اس پر شامی صاحب کا پروپیگنڈہ اور وکالت، کیا یہ بلا وجہ ہے؟ اس پر اسلامیان وطن غور فرمائیں۔
آپ کا فرمانا:’’خدا خوفی کریں۔‘‘ آپ سے بھی یہی درخواست ہے کہ کفرکی ناجائز وکالت کرکے پاکستان کو بدنام کرتے ہوئے ’’خدا خوفی کریں۔‘‘ آپ کا فرمانا: ’’ ان کی حدو قیود طے کریں۔‘‘ قادیانیوں کی حدود و قیود قانون نے طے کردی ہیں کہ وہ غیر مسلم ہیں قادیانی خود کو ان حدود قیود کا پابند بنائیں۔ آئین و قانون کو تسلیم کریں، کہیں ان سے زیادتی ہورہی ہے تو وہ عدالت جائیں۔ جن سے زیادتی ہو وہ عدالت جاتا ہے، وہ جائیں عدالت۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کا موقف سن کر فیصلہ عدالتیں دے چکی ہیں۔ ان پر عمل کرنا ایک وفادار محب وطن شہری کا فرض ہے۔ اس سے ان کو کوئی شکایت ہے تو خود کو غیر مسلم رجسٹرڈ کرائیں۔ ہندو، سکھ، مسیحی، بدھ مت وغیرہ مذاہب سے کسی کوئی تنازعہ نہیں۔ ان کی عبادت، ان کے عقائد وہ سب پر واضح ہیں۔ قادیانیوں کا مسلمانوں کے شعائر پر قبضہ اور وہ بھی غاصبانہ اس لئے کہ ان شعائر پر چودہ سو سال سے اسلام کی ملکیت کا ٹھپہ، امت مسلمہ کی شناخت کی چھاپ لگی ہوئی ہے قادیانی مسلمانوں کی ملکیت اور شناخت مجروح کرکے خود ان کے مالک بن بیٹھیں اور مسلمانوں کو بے دخل قرار دے دیں اور مجیب الرحمن شامی ان کے اس طرز عمل کی وکالت پر غم و غصہ اور جلال و جاہ کی آتش بیانی کا منظر قائم کریں۔ ہم مسکینوں کو چیلنج کرنے کی بجائے بتایا جائے کہ آخر اس کا کوئی جواز ہے؟
آپ کا فرمانا:’’یہ جو قادیانی حضرات ہیں ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی باتیں سنیں، دستوری طور پر ان کو ایک اقلیت قرار دیا ہے۔ ان کے حقوق کا احترام کریں۔‘‘ محترمی! آپ کے جذبات یا مفادات آپ کو جو تیاری کرائی گئی اس کا اظہار تو آپ کو مبارک ہو:
قادیانیوں کا قائد اعظم کے جنازہ پر موجود ہونے کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ نہ کھڑا ہونا۔پاکستان کو اکھنڈ بھارت بنانے کے بھاشن دینا۔ گورداس پور کو ہندوستان کے سپرد کرکے اس کو کشمیر کے لئے راستہ دینا۔ قومی اسمبلی میں ان کا ہفتوں موقف سننے کے بعد قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ کرنا۔درجنوں بار، مہینوں سپریم کورٹ کا ان کے موقف کو سننا اور ان فیصلوں پر مسلمانوں کا اطمینان کا اظہار کرنا ۔ قادیانیوں کا قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پاؤں تلے حقارت سے روندنا۔ مسلمانوں کا جنازہ نہ پڑھنا۔مسلمانوں سے رشتہ نہ کرنا۔ مسلمانوں کو بیک جنبش قلم کافر قرار دینا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں