(گزشتہ سےپیوستہ)
دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنا اور پاکستان میں سب سے زیادہ سرکاری رعایات سمیٹنا اس کے باوجود آپ فرماتے ہیں کہ ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے؟یہ سب کچھ بلاوجہ نہیں آج سے مہینوں پہلے ایک صدا کا اٹھنا کہ (۱) قانون میں ابہام ہے۔ (۲) قادیانیوں کے متعلق سپریم کورٹ جانا چاہئے۔ (۳) سپریم کورٹ سے ایک کیس کا متنازعہ فیصلہ آنا۔ (۴) اس کی نظر ثانی کی سماعت کا مکمل ہوجانا اور فیصلہ میں تاخیر کا ہونا۔ (۵) سبزواری صاحب کا سینیٹ میں قادیانی موقف کی ترجمانی کرنا۔ (۶) سندھ حکومت کا قادیانیوں کے متعلق آئی، جی کو حکم کرنا۔ (۷) امریکہ کا قادیانیوں کی حمایت میں بولنا۔ (۸) وفاقی وزارت داخلہ کا مبینہ طور پر عقیدہ ختم نبوت کی خدمات سرانجام دینے والوں کی فہرستیں تیار کرانے کا حکم جاری کرنا۔ (۹) غامدی ذریت کا قادیانی حمایت میں ہلکان ہونا۔ (۱۰) ہمارے بہت قابل احترام رہنماؤں کا فرمانا کہ ’’قادیانیوں کے شہری حقوق کے بارہ میں دن بدن بڑھتی چلی جانے والی کنفیویژن کا باہمی مشاورت کے ساتھ کوئی متوازن حل نکالیں‘‘ یہ بات وہ قابل احترام بزرگ فرمارہے ہیں جو خود بارہا فرما چکے ہیں کہ ’’قادیانی جب تک آئین میں مقرر کردہ اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے وہ کسی رعایت یا حقوق کے مستحق نہیں۔ ان کی حیثیت آئین کے ایک باغی کی ہے۔ ان کو قانون کا پابند بنایا جائے۔ یہ حکومت کے ذمہ ہے۔‘‘ یہی وہ بیانیہ ہے جس پر تمام دینی قیادت جمع ہے۔ یہی موقف اس وفد نے جناب شامی صاحب کے سامنے رکھا جو ان سے ملنے کے لئے گیا تھا۔ (۱۱) شامی صاحب کا ایک چینل پر قادیانی موقف کی وکالت کرنا اور کونوں کھدروں سے قادیانیوں کی بے جا حمایت اور فرضی مظلومیت کی جعلی کہانیوں کی بھر مار یہ سب کچھ بلا وجہ نہیں؟قادیانی عوام سے درخواست قادیانی جماعت اپنی ان شرارتوں سے ایک ایسی فضا بنا رہی ہے کہ دھول بیٹھنے کے بعد پتہ چلے گا کہ جس پر وہ سوار تھے وہ گدھا تھا یا گھوڑا؟ اﷲ تعالیٰ سے ہم پناہ مانگتے ہیں۔ امریکی لابی سی پیک کی دشمنی میں ہمارے ملک میں جو حالات بنا رہی ہے ہمارا ملک ان کا متحمل نہیں ۔ ہاں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں اگر ہمیں کہیں زنگ لگ گیا ہے او ر قدرت اسے دور کرنا چاہتی ہے تو زہے نصیب!
تحریکیں کسی کے کہنے پر نہیں چلتیں، تحریک کے حالات مسلسل واقعات کے نتائج میں بنتے ہیں پھرکوئی واقعہ تحریک کا باعث بن جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں قادیانی حماقتوں کے نتیجہ میں حالات نے تحریک کا رخ اختیار کیا۔ ظفر اﷲ قادیانی نے قادیانیت کو اسلام اور اسلام کو کفر کہا تو حالات نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کا روپ اختیار کیا۔ قادیانیوں نے چناب نگر میں نشتر کالج کے مسلمان طلباء کو مارا پیٹا، زخمی کیا تو ۱۹۷۴ء کی تحریک نے جنم لیا۔ اب قادیانیوں کی لابنگ، امریکہ، آئی ایم ایف کے ذریعہ پاکستان کے عوام کو مشتعل کرنا چاہتی ہے تو قادیانی عوام سوچیں کہ ان کے راستے میں پاکستان دشمنی کے کانٹے قادیانی قیادت کیوں بچھا رہی ہے؟ قادیانی خود بھی بچیں اور پاکستان کو بھی خوشحالی کے راستے پر چلنے دیں۔ اس میں سب کا بھلا ہے۔ رہی لیگ حکومت یا غامدی ذریت ان سے کچھ نہ کہنا، کچھ کہنے سے بہتر ہے۔ دس قادیانی عقائد شامی صاحب سے کی خدمت میں پیش کر دئیے جائیں:آئیے! قادیانی حوالہ جات اور ان کے نتائج پر پہلے نظر ڈالتے ہیں۔
’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلی ہوئے الفا ظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا اﷲ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل، ج۱۹، نمبر۱۳، مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء)
’’اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں جب کہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان ج۳، نمبر ۱۲۰ مورخہ ۱۸؍ جون ۱۹۱۴ء)
’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘ (تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ۶۰۷ طبع۴)ٔ
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا ورسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ص۲۷۵، ج۳)
’’کل جو مسلمان حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘(آئینہ صداقت ص۳۵ مصنفہ خلیفہ قادیان)
’’یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔ کسی مامور من اﷲ کا انکار کفر ہوجاتا ہے ہمارے مخالف حضرت مرزا کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے: لانفرق بین احد من رسلہ لیکن حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔‘‘ (نہج المصلٰی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص۲۷۴، ۲۷۵ مولفہ محمد فضل خان قادیانی)
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی ص۱۱۰)
’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کرسکے۔‘‘(انوار خلافت ص۹۰)
’’(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔‘‘(خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ج۱۰، نمبر۳۲، ص۶ مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۲ء)
’’پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘ (مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی کلمۃ الفصل ص۱۵۸)دس نتائج ان قادیانی د س حوالہ جات سے یہ دس باتیں ثابت ہوئیں کہ:
قادیانیوں کے نزدیک اﷲ تعالی کی ذات، حضور سرور کائنات علیہ السلام کی ذات، قرآن، نماز، روزہ، حج،زکوۃ میں مسلمانوں سے اختلاف ہے۔
(جاری ہے)