Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

نامراد کراچی

خالد فاطمی ٹی وی کے جانے پہچانے اینکر ہونے کے علاوہ بہت اچھے قلمکار بھی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک کتاب ’’ نا مراد کراچی‘‘ لکھی ہے جوکراچی سے متعلق ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کتاب میں کراچی کے ماضی کے حوالے سے ان شخصیات کا ذکر خیر کیا گیاہے جنہوں نے اس شہر کو اپنی کوششوں سے ایک مہذب شہر بنایاتھا‘ جس میں اس وقت کے طلبا لیڈرز کے علاوہ سیاستدانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ بقول خالد فاطمی اب یہ شہر ایک گوٹھ (گائوں) میں تبدیل ہوگیاہے جہاں کسی بھی قسم کی قانون پرعملداری نہ ہونے کے علاوہ کسی بھی قسم کا قانون موجود نہیں ہے۔ دہشت گردوں نے اس شہر کو یرغمال بنالیاہے‘ جس میں چھوٹے درجے کے پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں‘ جودن دھاڑے عوام اور خواص کو لوٹتے رہتے ہیں‘ بسااوقات انہیں لوٹنے کے بعد قتل بھی کردیتے ہیں۔ اس سال تقریباً 70 نوجوانوں اور بزرگوں کو جرائم پیشہ عناصر نے لوٹنے کے بعد قتل کیاہے۔
’’ نامراد کراچی‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کراچی کو ازسرنو دریافت کیا گیاہے اور یہ بات گوش گزار کرائی گئی ہے کہ کراچی کو 1947ء میں تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنانے میں بہت سے اہم افراد نے کردار ادا کیاتھا۔ ہرچند کہ اب ان میں سے بہت سے آسودہ خاک ہوگئے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں ان کے احوال پڑھ کر یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ کراچی اس وقت روشنیوں کا شہرتھا‘ آسودگی تھی‘ قانون کااحترام کہاجاتاتھا‘ ملازمتیں میرٹ پر ملاکرتی تھیں۔نیز پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے تھے‘ اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے تھے‘ اس وقت کراچی میں پشاور سے زیادہ پٹھان آباد ہیں جو سخت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ اس وقت ہر سو محبت اور یگانگت کے پھولوں نے اس شہر کو حسن کی ملکہ کا خطاب عطا کیاتھا۔
نامراد کراچی میں خالد فاطمی نے فیض احمد فیض کابھی ذکر کیا ہے اور لکھاہے کہ ایک دن عبدالکریم عابد فیض صاحب کے گھر آئے۔ واضح رہے کہ عبدالکریم عابد ’’سرخوں‘‘ کے سخت خلاف تھے اور دائیں بازو کے اخبارات میں ان سے متعلق بہت سی ناگوار باتیں لکھا کرتے تھے۔فیض صاحب نے ان سے کہا کہ میں آپ کی کیا خدمت کرسکتاہوں‘ عبدالکریم عابد نے کہا کہ وہ بے روزگار ہو گئے ہیں اس لئے آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ میری ملازمت کا کوئی بندوبست کردیں۔فیض صاحب نے فوراً شورش کاشمیری کو فون کرکے پوچھا کہ کیا کسی پڑھے لکھے فرد کیلئے آپ کے اخبار میں کوئی آسامی خالی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں ‘ چنانچہ فیض صاحب نے عبدالکریم عابد سے کہا کہ ان کی ملازمت کا بندوبست ہوگیاہے۔ آپ شورش کاشمیری کے پاس جاکر اپنا appointment لیٹر لے لیں۔ اس وقت وہاں مشہو ر ٹی وی اینکر اور کالم نویس جناب فرہاد زیدی بھی تشریف فرماتھے انہوں نے فیض صاحب سے کہا کہ آپ اس کی سفارش کررہے ہیں جو رات دن آپ لوگوں (سرخوں) کے خلاف لکھتا رہاہے‘فیض صاحب مسکرائے جناب فرہاد زیدی سے کہا کہ پیٹ ہرآدمی کے ساتھ لگا ہوا ہے پیٹ کو نظریات کی بنیاد پر تقسیم کرنامناسب نہیں ہے۔ ہر شخص کو بلاامتیاز معاشی تحفظ حال ہوناچاہیے۔
اس کتاب کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ خالد فاطمی کو کراچی سے متعلق ان کی یادداشت میں یہ باتیں کیسی محفوظ رہ گئیں‘ انہوں نے باریکیوں میں اتر کرکراچی کے خدوخال کوپیش کیاہے اوران ا فراد کو بھی جنہوں نے اپنے لب ولہجہ کے ساتھ ساتھ قلم وقرطاس کے ذریعے اس شہر کو ادب وشائستگی کے لازوال حسن سے مالا مال کیاتھا۔ اس وقت کراچی میں آسودگی کے علاوہ ہرشخص کے چہرے پر اطمینان وطمانیت نظر آتی تھی‘ بقول خالد فاطمی اس وقت میل جول اور تعلقات باہمی میں ’’ روپے‘‘ کاعمل دخل نہیں ہوتاتھا‘ بلکہ غریب ہونے پر فخر کیا جاتاتھا‘ یہی وجہ تھی کہ ‘’ کیفے جہاں‘‘ میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک پیالی چائے‘ پردنیا بھر کی سیاست اور معاشرت پر تبادلہ خیال کیاجاتاتھا۔ اس بحث ومباحثے میں اختلاف ضرورہوتاتھا‘ لیکن لڑائی ہاتھا پھائی کی نوبت نہیں آتی تھی‘ شاید اس وقت تہذیب کا دامن داغ دارنہیں ہواتھا اور نہ ہی انسانی اقدار کو پیروں تلے روند ا گیاتھا جس طرح آج کے کراچی میں ہرسو ایسا ہوتاہوا نظر آتا ہے۔
خالد فاطمی کی کتاب’’نامراد کراچی‘‘ ایک طرح سے ایک ایسی کتاب ہے جس میں ان تمام چہروں اور جگہوں کو بہ آسانی پہچاناجاسکتاہے جس کے ناطے اس شہر نے اس وقت بے مثال ترقی کی تھی اور روشنیوں کا شہر کہلاتاتھا‘ لیکن اب یہ واقعی ایک نامراد شہر بن چکاہے۔جس کے باسیوں کو ہر لمحہ خوف نے گھیر رکھاہے۔ تعلقات باہمی کو مہنگائی نے نگل لیاہے اور مسافروں نے رات کو نکلنا بند کردیاہے۔ کاش خالد فاطمی کی اس کتاب میں جس کراچی کا ذکر کیا ہے‘ وہ کراچی دوبارہ زندہ ہوجائے‘ اور اس کے ساتھ وہ تہذیب بھی جس نے کراچی میں بسنے والوں کو خلوص اور پاکستانیت کے جذبے میں پرو دیاتھا۔ خالد فاطمی کی یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ‘ اس کو پڑھ کر احساس ہوتاہے کہ ہم نے موجودہ کراچی کو اپنے ہی کرتوتوں سے کس طرح برباداور بدنام کیاہے۔

یہ بھی پڑھیں