Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

زرعی آمدنی پر ٹیکس….!

یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت پاکستان نے زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیاہے۔ اس سے قبل زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں تھا۔ زمینداروں کے مزے تھے لیکن آئی ایم ایف کو احساس ہوا کہ ملک کی اکانومی میں25فیصد حصہ ڈالنے کے باوجود یہ شعبہ ٹیکس ادا نہیں کررہاہے‘ بلکہ عشرکے نام پر معمولی رقم حکومت کے خزانے میں دی جاتی ہے۔ صدرمملکت جناب آصف علی زرداری نے بھی اعلان کیاہے کہ زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرکے پاکستان کی اکانومی میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ چنانچہ لگتاہے کہ اب ایسا ہی ہوگا۔ زرعی شعبے پر ٹیکس عائد نہ کرنے کی صورت میں آئی ایم ایف اپنا غصہ کسی دوسرے شعبے پر نکالے گا۔ جس کا براہ راست عوام پر منفی اثرات پڑیںگے‘ جو پہلے ہی سے مہنگائی اور ناجائز ٹیکس کی صورت میں نیم جان ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ معاشرتی صورت حال کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے استحکام کے پس منظر میں انتہائی خطرناک ہے۔ دراصل یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ امیر طبقہ جائز انداز میں ٹیکس ادا نہیں کرتاہے بلکہ اس کو چھپاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کبھی بھی ٹیکس کی مد وہ رقم حاصل نہیں کرسکا ہے جس کا اندازہ لگایاجاتاہے۔ نیز اس صورت میں حکومت کو اپنا کاروبار چلانے کے لئے آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر مالیاتی اداروں کے پاس ’’ بھیک مانگنے‘‘ کے لئے جانا پڑتا ہے۔ تاکہ مملکت کاکاروبار چلتارہے۔ آئی ایم ایف کے بعض ارکان کا کچھ صحافیوں سے بات کرنے کے دوران یہ کہنا بالکل درست ہے کہ موجودہ حکومت کرپشن کو روکنے میں ناکام نظرآرہی ہے۔ بلکہ کرپشن میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ جس کی وجہ سے حکومت ایک عام آدمی کے معاشی‘ معاشرتی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے۔
ان حالات کی وجہ سے غربت کے ساتھ ساتھ محرومیوں میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔دوسری طرف مقامی سرمایہ کار نئے کارخانے لگانے سے گریزاں ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیرونی سرمایہ پاکستان نہیں آرہاہے۔ صرف چین ہی وہ واحد ملک ہے جس نے 60بلین ڈالر ز سے زائد براہ راست پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے بہت سے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکے ہیں۔
تاہم اگر زرعی آمدنی پر پوری ایمانداری اور حب الوطنی سے ٹیکس عائد کردیاجاتاہے اورز میندار حضرات بغیر کسی دبائو کے اپنا ٹیکس دینا شروع کردیں تو پاکستان کی اکانومی پر اس کے مثبت اثرات پڑیں گے اور بہت حد تک کسانوں کی زندگیوں میں خوشحالی کے زمرے میں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ جو ایک عرصہ دراز غربت میں زندگی بسرکررہے ہیں اوران کو ان کی پیداوار کاحقیقی معاوضہ بھی نہیں ملتاہے۔زرعی آمدنی پر ٹیکس لگنے کے بعد جہاں آئی ایم ایف کی ایک بڑی شرط کو حکومت منظور کرچکی ہے‘ وہیں دیہی علاقوں میں اس فیصلے سے بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ تاہم اگر زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے سے گریز کیا گیا تو آئی ایم ایف سے پاکستان کو کے آئندہ 8بلین ڈالر پاکستان کو آسانی سے نہیں مل سکیں گے۔
خود وزیرخزانہ نے بھی زرعی ٹیکس لگانے سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط کو اصولی طور پر منظور کیاہے اور کہاہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کی اکانومی پر بہتر اثرات مرتب ہونگے۔ واضح رہے کہ ماضی میں ممتاز دانشور اور ماہرین معیشت نے حکومت پر زور دیاتھا کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کیاجائے تاکہ ملک کی معیشت کومضبوط کیاجاسکے جو بعد میں کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کا سبب بنے گی۔ لیکن ماضی میں زرعی ٹیکس سے متعلق مطالبہ پورا نہیں ہوسکا۔ لیکن اب حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگاکر بہت حد تک پاکستان کی مجموعی آمدنی میں بہتری لائی جاسکتی ہے جبکہ اس صورت میں حکومتی اخراجات میں بھی کمی آسکتی ہے۔ دراصل پاکستان میں حکومت کرنے والے حکومت کا کاروبار چلانے کے سلسلے میں بیرونی قرضوں پر انحصار کرتے رہے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بیرونی اور اندرونی قرضوں میں ڈوب چکاہے جبکہ ان قرضوں کی فوری واپسی حکومت کے لئے درد سربنی ہوئی ہے۔ حکومت زیادہ خرچ کررہی ہے جبکہ آمدنی بڑھانے پر کسی قسم کی کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ قرضوں کا بوجھ زیادہ ہوتا جارہا ہے اور عوام کی بہتری کے سلسلے میں کوئی ایسے اقدام نہیں اٹھائے جارہے جوان کے لئے معاشی اورمعاشرتی ریلیف کاسبب بن سکیں۔

یہ بھی پڑھیں