Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

غزہ کی جنگ اور بڑھے گی ۔۔۔!

پوری دنیا خصوصیت کے ساتھ عرب اور دیگر مسلم دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیل غزہ میں کس طرح فلسطینیوں پر بہیمانہ ظلم وتشدد کررہاہے‘ لیکن اس کی ننگی جارحیت کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ فلسطینیوں نے اپنی آزادی‘ بقا اور حقوق کے لئے جو قربانی دے رہے ہیں اس کا جدید دنیا میں تصور کرنا محال ہے۔ ایک طرف اسرائیل ہے جس نے 7اکتوبر کا بہانہ بناکر غزہ کی پٹی پر حملہ کردیا‘ ہوائی جہازوں کے ذریعے نہتے فلسطینیوں پر بمباری کی گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک40ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے‘ اسرائیل کے اس جار حانہ اور ظالمانہ رویے کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے ہورہے ہیں جس کی مذمت کی جارہی ہے‘ یہاں تک کہ اقوام متحدہ بھی اس جنگ کو روکنے میں ناکام ہوگیاہے۔ جبکہ مغربی ممالک اسرائیل کی جنگ کی مکمل حمایت کررہے ہیں‘ یعنی وہ ممالک جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں‘ اب اسرائیل کی وحشت ناک جنگی کارروائیو ں کے سامنے خاموش ہیں۔
چنانچہ اسرائیل یہ سمجھ رہاہے کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کا مکمل صفایا کرکے اس پٹی پرقبضہ کرلے گا یہ ایک ایسا جنونی خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیرنہیں ہوگا۔ دراصل اس جنگ میں جوکہ دس ماہ سے جاری ہے‘ اسرائیل یہ جنگ ہارچکاہے‘ اس کی ہیبت ختم ہوچکی ہے۔ دنیا بھر کے دانشور یہ کہنے پرمجبور ہوگئے ہیں کہ ہٹلر نے ان کے ساتھ دوسری جنگ عظیم کے دوران جو کچھ کیاتھا وہ صحیح تھا۔
تاہم دنیا کے بعض ممالک یہ پروپیگنڈا کررہے ہیںکہ اسرائیل کی جنگی قوت کو شکست دینا ممکن نہیں ہے‘ لیکن حماس نے ایسا کرکے دکھایا ہے۔ اسرائیل اپنی تمام ترزمینی اور فضائی قوت رکھنے کے باوجود حماس کو شکست نہیں دے سکاہے۔ نیز اگر وہ غزہ کے فلسطینیوں کو پوری نسل کشی بھی کردے تب بھی وہ غزہ پر اپنی حاکمیت قائم نہیں کرسکے گا۔ یہ پٹی فلسطینیوں کی ہے رہے گی۔ اب تو امریکہ بھی نہیں چاہتاہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر اپنا تسلط قائم کرلے اور اگر اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نفرت‘ عصبیت اور جنگی جنونی میں مبتلا ہوکر ایسا کرتاہے تب بھی یہ جنگ نہیں رکے گی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اب اس کاصرف ایک ہی حل ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کااعلان کرتے ہو ئے غزہ پر فضائی بمباری اور فوجی پیشرفت روک دے تو بہت حد تک امن کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں‘ لیکن اسرائیل کا جنونی اور کرپٹ وزیراعظم نیتن یاہو اپنا اقتدار برقرار رکھنے کیلئے فلسطینیوں کی نسل کشی کر نے پراترا ہوا ہے۔ اس کی یہ شیطانی سوچ آہستہ آہستہ پوری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے لے گی۔ غزہ میں جنگ نہ روکنے کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کی فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی جارحیت ہے‘ جس کا بدلہ کسی نہ کسی طرح اسرائیل سے لیا جائے گا۔ نوجوان فلسطینی اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جارحیت کو کبھی نہیں بھولیں گے بلکہ وقت کا انتظار کررہے ہیں۔
اس وقت عرب ممالک خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوئے ہیں‘ لیکن ان عرب ممالک میں رہنے والے عوام اندر اندر اسرائیل کے خلاف شدید غصے میں ہیں‘ اگران کو موقع ملا تو وہ فلسطینیوں کو بچانے کیلئے اس جنگ میں کسی طرح شامل ہوسکتے ہیں بلکہ ایسا نظر بھی آرہاہے۔ بیشتر عرب ممالک میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ بادشاہت ہے‘ یہ اپنی بادشاہت اور دولت کو بچانے کیلئے اسرائیل کے خلاف کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس کی وجہ سے امریکہ ان سے ناراض ہوجائے۔ بلکہ یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عرب ممالک میں قائم بادشاہت کا دارومددار امریکہ کی خوشنودی پر منحصر ہے۔ ٹرمپ نے ماضی قریب میں اپنے دور صدارت میں اس کا اظہار بھی کیاتھا۔ اسرائیل اس حقیقت کو بھانپ چکاہے یہی وجہ ہے کہ وہ غزہ پر ہولناک بمباری کررہاہے ‘ جس میں روزانہ کی بنیاد پر بچے ‘ بوڑھے‘ اور عورتیں بڑی تعداد میں شہید ہورہے ہیں۔ تاہم عرب اور دیگر اسلامی ممالک کب تلک اپنے مسلمان فلسطینی بھائیوں کی نسل کشی کے سامنے بے بسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کی اس ننگی جارحیت کو روکنے کیلئے آگے نہیں بڑھیں گے۔؟یہ بڑا اہم سوال ہے۔
تاہم اب یہ حقیقت کھل کر دنیا کے سامنے آچکی ہے کہ اسرائیل کی طاقت کا myth حماس نے پاش پاش کردیاہے۔ چنانچہ حماس نے آئندہ کے لئے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کیلئے کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کردیاہے۔ بلکہ ان کا یہ فیصلہ صحیح ہے۔ ظالم کے ساتھ کیوں کر مذاکرات ہوسکتے ہیں جبکہ اسرائیل مذاکرات کی آڑ میں غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی کررہاہے۔ اس وقت اسرائیل کے اندر اعتدال پسند عناصر نیتن یاہو کی اس جارحانہ پالیسیو ں کے شدید خلاف ہیںبلکہ وہ تھی اب بھی اس کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ دراصل نیتن یاہو نے حماس کی حربی قوت اور حوصلے کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ غزہ میں فضائی اور زمینی حملوں سے دہشت پھیلاکر جلد غزہ پر قبضہ کرلے گا‘ بلکہ فلسطینیوں کی جانب سے مزاحمت کی صورت میں ان کو نیست ونابود کردیاجائے گا۔ لیکن اسرائیل اس میں بھی کامیاب نہیں ہوسکاہے۔ بہت جلد یمن‘ لبنان اور دیگر غیر عرب ممالک اسرائیل کے خلاف ایک زبردست محاذ بناکر اس کی جارحیت کو ختم کرکے دم لیں گے‘ اسرائیل کو وہ سبق سیکھائیں گے جو وہ کبھی بھی بھول نہیں سکے گا۔ اسرائیل کا وجود انسانیت کے نام پر ایک دھبہ ہے اوراس دھبے کو مٹانا ہرمسلمان کا فرض ہے‘ کیونکہ اسرائیل امن کا سب سے بڑا دشمن ہے اور وہ پورے عرب ممالک پر اپنا تسلط قائم کرناچاہتاہے۔ غزہ پر ہونے والی اسرائیل کی جانب سے ننگی جارحیت اس بات کا بین ثبوت ہے۔ اسرائیل کیخلاف جنگ رکے گی نہیں بلکہ جاری رہے گی۔ ذرا سوچیئے۔

یہ بھی پڑھیں