Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

فوری الیکشن،استحکام پاکستان کی ضمانت

پاکستان کے باشعور افراد کے علاوہ خود عمران خان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی ومعاشی استحکام اس وقت ہی آسکتاہے جب ملک فوری انتخابات کرادیئے جائیں کیونکہ موجودہ سیٹ اپ یعنی پی ڈی ایم ٹو ملک کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے، اس سے قبل پی ڈی ایم ون بھی اس ہی طرح ناکام ثابت ہوا تھا لیکن اس میں شامل سیاستدانوں نے مبینہ طور پرخوب مال بنایا، اس وقت موجودہ سیٹ اپ خود پریشان اور مضطرب ہے کیونکہ اس کے پاس عوام کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ محض اخباری بیانات کے ذریعے یہ تاثر دیناکہ ملک معاشی استحکام کی طرف رواں دواں ہے سفید جھوٹ ہے۔ دراصل یہ خوشامدی ٹولہ اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر سوار ہوکر اپنا الو سیدھا کررہاہے اور بدنام اسٹیبلشمنٹ ہورہی ہے جس کے نتائج پاکستان کے لئے انتہائی خراب ثابت ہوسکتے ہیں۔ محض عمران خان کو بدنام کرکے اوریہ بے بنیاد پروپیگنڈا کرنا کہ اس وقت ملک میں جوافراتفری پائی جارہی ہے اس کی پشت پر پی ٹی آئی ہے، ایک ناقابل قبول پروپیگنڈا ہے۔ عوام اس کو مسترد کرچکے ہیں، اس وقت پی ٹی آئی اقتدار میں نہیں ہے اور نہ ہی اس کے مستقبل قریب میں اقتدار میں آنے کے امکانات ہیں بلکہ بوکھلاہٹ کاشکار یہ ٹولہ ایسے اقدامات کررہاہےجس کی وجہ سے ملک میں مزید عدم استحکام پیدا ہورہاہے ۔ دراصل موجودہ حکومت پاکستان کے عوام کی قوت سے اقتدار میں نہیں آئی ہے بلکہ محلاتی سازشوں کے ذریعے اس نے اقتدار حاصل کیاہے۔ جوان سے سنبھل نہیں پارہاہے ۔اس وقت ملک میں ہر طرف افراتفری نظرآرہی ہے اب تو اقوام متحدہ بھی حالات کی نزاکت سے پاکستان کو مسلسل آگاہ کرتے ہوئے انہیں ہوش کے ناخن لینے کامشورہ دے رہاہے۔ بعض باخبر امریکیوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار کو یہ احساس ہی نہیں ہوپارہاہے کہ ملک بڑی برق رفتاری سے زوال کی طرف جارہاہے جبکہ عوام کو درپیش سنگین معاشی وسماجی مسائل کو حل کرنے میں حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی پیشرفت نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ کا یہ بیان انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہورہاہے کہ ملک میں مہنگائی کم ہورہی ہے حالانکہ معروضی حالات اس کے برعکس ہیں پیٹرول، گیس اور بجلی کے بلوں نے عوام کو زندہ درگور کردیاہے، غربت اور بے روزگاری بتدریج بڑھ رہی ہے۔ جرائم اور دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ معاشرے میں بہت گہرا بگاڑ پیدا ہوچکاہے جبکہ حکومت کے پاس کوئی ایسی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے کہ اس پر عمل پیرا ہوکر ان حالات کو درست کیاجاسکتاہے۔
حکومت کی بوکھلاہٹ سے ایک عام آدمی کو یہ محسوس ہورہاہے کہ موجودہ حکومت میں حالات کو سدھارنے کی capacity نہیں ہے۔صر ف عمران خان کو تنقیدکا نشانہ بناکر عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ۔ نیز حکومت میں اتنا بھی حوصلہ نہیں ہے کہ وہ براہ راست عمران خان سے بات چیت کرکے موجودہ ناگفتہ حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے بلکہ اس کے برعکس حکومت کے ذمے دارافراد جس میں اقبال احسن سرفہرست ہیں، ان کا یہ بیانیہ ہے کہ عمران خان کو مزید پانچ سال جیل میں رکھیں گے، ان کی ذاتی دشمنی کا پتہ چلتاہے حالانکہ انہیں خود یہ نہیں معلوم کہ وہ مزید کتنے دن اقتدار میں رہ سکیں گے؟ اس مرحلے پہ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہاہے کہ یہ خوشامدی ٹولہ جان بوجھ کر ملک میں اتفاق رائے پیداکرنے کے بجائے نفاق اور بدامنی کوفروغ دینے کی کوشش کررہاہے تاکہ مزید کچھ دن اقتدار میں رہ سکیں۔
اس ضمن میں ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ ملک کو انتشار سے نکالنے کا واحد راستہ فی الفور انتخابات کرانے میں مضمر ہے، اگر ارباب اختیار یہ راستہ اختیار کرلیتے ہیں تو جہاں ملک سے افراتفری ختم ہوسکتی ہے وہیں نئے انتخابات کے ذریعے بننے والی نئی حکومت بڑی سنجیدگی اور تیزی سے سماجی وسیاسی حالات میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے گی۔ کچھ نادان افراد ملک کے موجودہ حالات کو سدھارنے کے سلسلے میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کا عندیہ دے رہے ہیں جوکہ اگر بن بھی جاتی ہے تو وہ بھی موجودہ حالات کو سنبھال نہیں سکے گی۔ بیورو کریسی ایسی غیر نمائندہ حکومت کے احکامات کو نہیں مانیں گے۔ اس صورت میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
اس لئے ملک کوموجودہ بحران سے نکالنے کا واحد راستہ عام انتخابات کرانے سے وابستہ ہے۔ جتنی جلدی ایسا ہوجائے اتنی جلدی ملک میں حالات بہترہوسکتے ہیں۔ موجودہ خوشامدی ٹولہ فوری انتخابات کرانے سے اس لئے راہ فرار اختیار کررہاہے کہ اس کو خوف لاحق ہے کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آجائے گی اور ان سے سیاسی انتقام لے سکتی ہے حالانکہ عمران خان نے واضح طور پر کہاہے کہ اگر عام انتخابات کی صورت میں ان کی پارٹی اقتدار میں آگئی تو وہ کسی سے انتقام نہیں لیں گے بلکہ فتح مکہ کا طریقہ کار اختیار کیاجائے گا جس سے باہمی اخوت ، اتحاد پیدا ہوسکے گا۔ اس صورت میں ملک نئے حوصلے کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ ے گا جس کی عوام کو دلی بلکہ دیرینہ خواہش ہے۔ ذرا سوچیئے۔

یہ بھی پڑھیں