Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

دو قومی نظریہ کہا ں ہے؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
بندے ماترم جس ناول آنند مٹھ سے لیا گیا تھا اس کی ساری کہانی مسلم دشمنی کے زہر سے لبریز ہے۔مسلمان عوام اور مسلم لیگی قائدین ہندوں کے اس صریح مسلم کش روئیے پر چیخ اٹھے،ہاں گاندھی جی کی مورتی بھی مدرسوں میں سجا دی گئی تھی جس کے روبروہاتھ جوڑ کر کھڑے ہونااور پر نام عرض کرنا شامل درس و تربیت قرار دیا گیا، مسلمان بچیوں اور بچوں کو بھی اس کارِ شرک پر مجبور کیا جانے لگا،چنانچہ مسلمانوں کو باقاعدہ کمیشن بٹھانے پڑے اور ان کمیشنوں نے تحقیقی رپورٹس شائع کیں،شریف رپورٹ اور اے کے فضل الحق رپورٹ کا تعلق اسی روداد ِ ستم و جور سے تھا،لیکن مسلمانوں کے صاحب بہادر،کیمونسٹ وغیرہ طبقے تو ایک رہے، عملدارانِ دین متین نے مسلمان عوام اور ان کے ہر دلعزیز قائدین کی ایک نہ سنی ۔ علما کے نمائندے مسلسل کہتے رہے کہ بندے ماترم قومی گیت ہے ہم گاتے رہیں گے، حضرت ابوالکلام آزاد جیسے بزرگوں نے اوپر بیان کردہ تحقیقاتی رپورٹ کی تردید کی اور جب مسلمانوں نے کانگرسی وزارتوں کے خاتمے پر دسمبر1939ء میں یومِ نجات منایا تو ہندو جاتی کو دکھ ہونا ہی تھا۔علما حضرات نے بھی مسلم عوام اور مسلم لیگ کے اس عمل کو متحدہ قومیت کی روح پر فتوح کے خلاف عناد و فساد قرار دیا۔یاد رہے کہ یومِ نجات میں اچھوتوں نے بھی مسلمانوں کا ساتھ دیا تھا جیسا کہ ڈاکٹر لنکا سندرام نے اپنی کتاب’’اے سیکولر سٹیٹ آف انڈیا‘‘ میں ذکر کیا ہے۔اپنی اس کتاب میں دوقومی نظریہ کے پس منظرمیں کیالکھتے ہیں،وہ بھی ملاحظہ فرمالیں:
ایک دور ایسا آیا کہ ہزاروں میل دور سے آئے انگریز برصغیر جنوبی ایشیا کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ان کے دور میں ہندوئوں نے بارہا مسلمانوں سے اپنے ایک ہزار غلامی کا بھرپور انتقام لیا اور دوسری طرف مسلمانوں کا یورپ کے قلب ہسپانیہ پر مسلمانوں کا ساڑھے آٹھ سو سالہ دورِ حکومت کا غصہ ،کینہ اور بغض ابھی تک ان انگریزوں کے دلوں میں موجود تھا۔ لیکن ایک موڑ پر ہندوں نے جنوبی ایشیا کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں سے جب امداداور تعاون طلب کیا تو مسلمانوں نے دستِ تعاون کو بڑے اخلاص سے تھام کر ہندوں کی مکمل مدد کی اور قربانیوں سے بھی دریغ نہیں کیا ۔ تاہم جب ہندوں کے اصل عزائم کھل کر سامنے آگئے تو دونوں کے راستے الگ ہو گئے۔بعض مسلمان رہنمائوں اور مصلحین کی دوربیں نگاہوں نے ابتدا سے ہی یہ بات سمجھ لی تھی کہ ہندوں کا مسلمانوں سے اتحادمقصد براری کے لئے ہے،اسی لئے جب انڈین نیشنل کانگریس قائم ہوئی تو سرسید نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اس میں شامل نہ ہوں۔
مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ عرصے میں اس جماعت نے حکومتی خود اختیاری کے مطالبہ کے بعدبرصغیرجنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ الگ وطن حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔علامہ اقبال نے 1930ء میں پاکستان کا تصوراتی نقشہ مسلم قوم کے سامنے پیش کر دیا جبکہ1932میں چوہدری رحمت علی نے لفظ’’پاکستان‘‘کی تشہیر کی۔اب تو ہندو قوم اور ہندو پریس بری طرح مسلمانوں کے پیچھے پڑ گئے ۔ پاکستان کے تصور کو دیوانے کی بڑ اور شاعر کا خواب کہا گیا۔لیکن چشمِ عالم نے یہ منظر دیکھ لیا کہ14 اگست1947ء رمضان المبارک کی ستائسویں شب کو یہی خواب حقیقت بن گیا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر کر آزاد خود مختار قوموں کی صف میں کھڑاہوگیااورآج ایک ایٹمی قوت بھی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علیحدہ وطن پاکستان کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟ کیا برصغیر جنوبی ایشیاکے مسلمان ایک آزاد اور خود مختار بھارت میں سکون کا سانس نہیں لے سکتے تھے ؟تو اس کا جواب ہی دوقومی نظریے میں مضمر تھا۔یہی نظریہ تھا جو قیامِ پاکستان کا محرک بنا!
دو قومی نظریے سے مراد یہ ہے کہ بھارت میں دو قومیں ہندو اور مسلمان رہتی ہیں جن میں صرف اولادِ آدم ہونے کے علاوہ اور کوئی قدر مشترک نہیں۔ان کا کھانا پینا،نشست و برخاست ،تہذیب و ثقافت،رسم و رواج،لباس اور خوراک تک ایک دوسرے سے مختلف اور بالکل علیحدہ ہیں۔اب یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ،اس میں دین و دنیااور مذہب و سیاست کی علیحدگی کو کوئی تصور نہیں۔ مسلمانوں کا مرنا جینا،اٹھنا بیٹھنا،کھنا پینا،حکومت کرنا،جہاد میں جنگ آزما ہونااور دوستی دشمنی نبھانا،سب رضائے الہٰی کے لئے ہے،جبکہ ہندوں نے اپنی زندگی کو مختلف خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ان کا مذہب ان کی سیاست سے بالکل الگ،اور ان کا کاروبارسچائی اور دیانت داری کے بالکل منافی ہے۔
ہندوں کا مذہب سختی سے ذات پات میں تقسیم ہے،اولادِ آدم کو غیر حقیقی انداز میں چار قوموں یا ذاتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب محبت،آشتی اور امن کا پیام دیتے ہیں لیکن ہندو مذہب میں سب سے نچلی ذات جسے شودر کا نام دیا گیا ہے اس کا کھانا پینا،رہن سہن ،رسوم و رواج اب بھی کسی تہذیب یافتہ قوم کے برابر نہیں حتی کہ اگر ان نچلی ذات کے شودر کے کانوں میں غلطی سے ہندوں کی مقدس کتاب گیتا کے اشلوک پڑ جائیں تو اس شودر کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دینا اس برہمن کے مذہب کا ایک حصہ ہے لیکن مسلمانوں کو تو ان شودروں سے بھی نچلی قوم سمجھا جاتا تھا ،اب بھلا آگ اور پانی اکٹھے کہاں رہ سکتے تھے۔مسلمانوں نے صدیوں تک ہندوستان پر حکومت کی اس لئے ہندو اور مسلمان اکٹھے رہے اور مسلمانوں کے دورِ حکومت میں خصوصا مغلوں کے دورِ حکومت میں تو ان کو اعلی عہدوں پر فائز رکھا گیا لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے اور کئی ہندو مؤرخین نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ اگر تیسرے مغل بادشاہ جلال الدین اکبرکے حرم میں ہندو راجپوت عورتیں داخل نہ ہوتیں تو سارے ہندوستان سے ہندو برہمن کا خاتمہ ہو جاتا لیکن ہندو محکوم ہونے کے باوجود بھی سازشوں سے باز نہیں رہے۔ہندوں کے بہت ہی مشہور مذہبی سیاسی رہنما چانکیہ کے حکومت کرنے کے اصول اگر آپ پڑھیں تو اس برصغیر خطے کے لئے دو قومی نظریہ ایک نعمت سے بالکل کم نہیں ۔
اب اگر متحدہ بھارت آزاد ہوتا تو جمہوریت کے مروجہ اصولوں کے مطابق اس کا کاروبارِ حکومت اور سیاست اکثریت کی رائے کے مطابق چلایا جاتا۔اس طرزِ حکومت میں شائد مسلمانوں کو سجدے کی تو اجازت ہوتی لیکن قانون رامائن اور گیتا کا چلتا۔متعدد معاملات میں مسلمان اپنے دینی شعائر پر عمل پیرا ہونے سے قاصر رہتے،کیونکہ یہ امر اکثریت کے مذہبی اقدار کے برعکس سمجھا جاتا،مثلاً گاؤ کشی کو ہی لے لیں، مسلمان گائے کا گوشت خدا کی نعمت اور حلال و طیب غذا سمجھ کر کھاتے ہیں جبکہ ہندوگائے کو اپنی ماتا (یعنی ماں)سمجھ کر اسے ذبح کرنے والوں کے گلوں پر چھری پھیر دیتے ہیں۔آئے دن اس معاملے پرخونی مسلم کش فسادات ہوتے رہتے ہیں۔گویا مسلمانوں نے دو قومی نظریہ کی بنیادپر پاکستان کا مطالبہ اس لئے کیا کہ وہ اس ملک میں اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت قائم کرنا چاہتے تھے جہاں ذات پات کی بھی کوئی قید نہیں اور اپنے اسلامی قوانین کے تحت وہ برابری کے اصول پر زندگی گزارنا چاہتے تھے۔
تاریخی تناظر میں اگر دو قومی نظریہ کو دیکھا جائے تو یہ کوئی نئی ذہنی اختراع نہیں،بلکہ یہ اصول تو اسلام کے ساتھ ہی وجود میں آگیا تھا۔حضورِ اکرم ﷺکی بعثت کے بعد دنیا میں دو خاص طبقے تھے۔ایک وہ جو توحید کے پرستار تھے اور دوسرے وہ جو توحید کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔برصغیر جنوبی ایشیا کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے قیامِ پا کستان میں دوقومی نظریہ کے کردار کوان الفاظ میں واضح کیا ’’پاکستان تو اسی دن وجو میں آگیا تھا جب برصغیر میں پہلا مقامی باشند ہ بر رضا و رغبت مسلمان ہوا‘‘۔آج سے تقریبا ایک ہزار سال پہلے مشہور عالم دین اور سیاح ابو ریحان البیرونی نے جو1001 ء میں بھارت آئے تھے،جنوبی ایشیا کے دو قومی نظریہ کو ان الفاظ میں واضح کیا’’برصغیر جنوبی ایشیا میں دو قومیں ہندو اور مسلمان رہتی ہیں، یہ دونوں قومیں نہ ایک ساتھ کھانا کھا سکتی ہیں اور نہ ہی ازدواجی تعلقات قائم کر سکتی ہیں‘‘۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں