Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

حقیقت انسان اور اس کی اصل منزل

انسان کی حقیقت اور اس کی اصل منزل کا سوال صدیوں سے فلسفیوں،اہل فرونظر اولیا اللہ اور علما کے درمیان غور و فکر کا موضوع رہا ہے۔ یہ ایک گہرا اور جامع سوال ہے جو انسان کی فطرت، اس کی دنیاوی زندگی، اور آخرت کی منزل کی تشریح کرتا ہے۔ انسان بظاہر ایک جسم اور روح پر مشتمل مخلوق ہے، لیکن اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اسلام کے مطابق، انسان اللہ تعالی کی مخلوقات میں سب سے افضل ہے کیونکہ اللہ نے اسے علم، فہم، اور اختیار عطا کیا ہے۔ انسان کے جسمانی وجود کی اہمیت ہے، لیکن اس کی حقیقت کا اصل جوہر اس کی روح ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت فرمایا: “پھر میں نے اس میں اپنی روح پھونک دی، اور فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کریں۔(سورہ الحجر: 29)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی روح اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک خاص نعمت ہے، جو اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ قرآن اور حدیث اور اسلامی تعلیمات کے مطابق، اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی۔ یہ عمل انسانی زندگی کو ایک مقدس باطن اور قدر عطا کرتا ہے۔اور پھر اللہ تعال نےفرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر آدم کو شرف اور کرامت تمام مخلوق پر عطا فرمائی ۔ ابلیس کے سوا سارے ملائکہ نے آدم کو حکم خداوند کے مطابق سجدہ کرامت یا ابلیس نافرمانی کے سبب اپنا مقام کھو کر راندہ بارگاہ الہی ہوگیااور بنی آدم کا ازلی دشمن بن گیا ۔ اور قیامت تک نسل آدم کی دشمنی اور اسے گمراہ کرنے کوشش کرتا رھے گا۔ اللہ تعالی نے اپنی رحمت اور قدرت سے انسان کو پیدا کیا اور اسے اشرف مخلوقات کا تاج پہنا کر معزز مقام پر فائز کردیا۔ جس پر بنی آدم کو اللہ کا ھمیشہ شکر گزار رہنا چاہئے اور اپنے مقام کرامت کا پاس رکھنا چاہیے اور کوئی گری ہوئی حرکت جو مقام شرف و کرامت کے شایان شان نہ ہو۔ اس سے باز رہنا چاہئے۔ ہر انسان کا احترام اس لئےہمارے اوپر واجب ہے۔ اختلاف اور ناراضگی کی حالت میں بھی دوسرے انسان کےاحترام کوپامال نہیں کرنا چاہیے۔ القران( ہم نے اولاد آدم کو عزت دی)۔ اور قرآن میں یہ بھی فرمایا، اللہ تعالی کی ربوبیت کا اعلان و اقرار ہم سمیت ہر انسان عورت مرد نے کیا۔ اور حدیث کے مطابق یہ اعلان و اقرار آدم کی جسمانی تخلیق کے پچاس ہزار سال پہلے ہر روح نے کیا۔ دنیاوی پیدائش سے قبل عالم ارواح میں قیام کے دوران کیا۔ دنیا سے رخصت یعنی دنیاو بدن کی موت کے بعد ہر روح واپس اپنے اصل گھر عالم ارواح میں چلی جاتی ہے اور وہاں اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کے ساتھ ایسے ہی میل جول رکھتی ہےجیسے دنیا میں۔ یہان یہ بات سمجھنے کیلئے عرض کردوں ہم اجنبی لوگوں کو ملتے ہیں تو ھم کہتے ہیں کہ ہم کہاں پہلے ملے یہ بڑی مانوس شخصیت لگتی ہے۔ اسکی وجہ عالم ارواح جان پہچان ہوتی ہے۔ کچھ اجنبی پہلی ملاقات میں ہی اجنبی نہیں لگتے۔ اسطرح ہماری روحیں ایک دوسرے کو پہچان لیتی ہیں۔ اسی طرح جب دنیامیں قیام کے دوران ہم باطنی طور پر بیدار ہوجاتےہیں تب ہماری روحیں باطنی بیداری کی حالت میں وہ کچھ دیکھ رہی ہوتی ہیں جو غیربیدارلوگ نہ سمجھ سکتے ہیں نہ تصور کرسکتے ہیں۔ حدیث کے مطابق جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا، خودشناسی اللہ تعالی کی پہچان کے درمیان داخلی روحانی ربط کو اجاگر کرتی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اندر اور ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ قران کا اعلان اور اللہ تعالی کا فرمان کہ ؛ ہم تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ پھر فرمایا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن تم مجھے دیکھ نہیں سکتے ۔ حضرت جلال الدین روم رحمتہ اللہ علیہ کو جب باطنی بیداری اور عرفان حضرت شمس الدین تبریز رحم اللہ کے ذریعہ اللہ تعالی عطا فرمایا۔ تب اپنے اشعار کے ذریعہ اسطرح اظہارفرمایا. کہ میں اللہ تعالی کی تلاش میں کعبہ و مسجد و کلیساہرجگہ گیامگربالآخرمجھےاللہ تعالی اپنے اندر ملے۔ اسی لئےاللہ کے وہ مقرب اولیا اللہ جو باطنی عرفان و ادراک سے مشرف وآشنا ہوں گے۔ حق تعالی انکی راہنمائی فرماتے ہیں۔ اور انکو ذر اور اور تعلیم دیتے ہیں تاکہ روح بیدار ہوسکے اورباطنی روشنی سے متلاشی حق تعالی اپنے من کےاندر اللہ تعالی کا احساس و ادراک کرسکے۔ ذر اللہ کے ساتھ رابطے کا واسطہ اور ذریعہ ہے۔ فرمایا،پس مجھے یادکرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ابن آدم کو اللہ تعالی نےکرامت کیساتھ اپنی نیابت کا شرف بھی عطا فرما کر اسے تمام مخلوقات پر فوقیت عنایت فرمائی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انسان کو “خلیفہ” یعنی اپنا نائب مقرر فرمایا ہے۔ انسان کو زمین پر اللہ کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے عدل، انصاف، اور امن کے فروغ کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ اس حیثیت میں انسان کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ وہ صرف ایک جسم نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار روح ہے جسے ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔انسان کی اصل اور ابدی منزل عالم ابدی ہے۔ جہان جنت اور دوزخ کے جہان ہیں۔ جو اللہ سبحانہ و تعالی اپنی رحمت اور عدل سے اپنی مخلوق کو عطافرمائیں گے۔ جو مستقل اوردائمی قیام کا جہان ہوگا۔ جہان دکھ، غم، پریشانی ،کام محنت اوربیماری ، بڑھاپے اور موت کا کوئی تصور باقی نہ ہوگا۔ عیش و راحت اور خوشیوں کاجہان خدا تعالی کے کرم و عنائت سے خدا تعالی کے بندوں کو ہدیہ انعام ہوگا۔ اسلام کے مطابق، انسان کی اصل منزل اللہ کی طرف واپسی ہے۔ دنیاوی زندگی ایک امتحان کی مانند ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں