Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

شیخ حسینہ کے اقتدار کا سورج بالآخر غروب ہو گیا

بنگلہ دیش شدید ہنگاموں کی زد میں رہا۔وہاں سے اچھی خبریں نہیں آرہی تھیں۔میڈیا جو کچھ دکھا اور رپورٹ کر رہا تھا وہ دل ہلا دینے والا تھا۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف ہونےوالاطلبا کا پرتشدد احتجاج سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکل کر سڑکوں پر آچکا تھا۔ملک گیراحتجاج میں سول سوسائٹی بھی شامل ہوگئی تھی جبکہ خواتین کی بھی بہت بڑی تعداد اس احتجاج میں شامل تھی اور ہراول دستے کا رول ادا کر رہی تھی۔ احتجاج کرنےوالے پولیس پر پتھرائو کرتے، تو آگے سے پولیس جواب میں احتجاجیوں پر گولیاں برساتی۔نجی املاک کو شدیدنقصان پہنچایاجارہاتھا۔ سرکاری املاک جلائی جارہی تھیں۔ ایوان وزیراعظم بھی محفوظ نہیں رہاتھا۔شدید ہنگاموں کےباعث 300 لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔ زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں پہنچ چکی تھی۔ایسے میں حسینہ واجد کے لیے ملک میں ٹھہرنا محال ہو گیا تھا۔پانچ اگست شیخ حسینہ کی زندگی کا وہ منحوس دن تھا جب ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔فوج نے انہیں ملک چھوڑنے کا محفوظ راستہ دیا۔یوں ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار وہ ڈھاکہ کو الوداع کہہ گئیں۔ہیلی کاپٹر بھارت کی طرف جارہا تھا جب اس نے ایوان وزیراعظم سے اڑان بھری تو شیخ حسینہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ایک لمحے تو وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگیں۔شیخ حسینہ کو بھارت کے کسی نامعلوم مقام کی طرف لےجانے والا ہیلی کاپٹر جب بنگلہ دیش کی حدود سے باہر نکل گیا تو سرکاری میڈیانے شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کی بریکنگ نیوز دی۔خبر سنتے ہی لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔فضا ان کے فلک شگاف نعروں سے گونجنے لگی۔ہر طرف خوشی تھی اور جشن کا گہرا سماں تھا۔ایک بے قابو ہجوم وزیراعظم ہائوس میں بھی داخل ہواجس نے خوب توڑ پھوڑ کی اور وزیراعظم ہائوس کو لوٹ لیا گیا۔بنگالیوں نے شہر میں آویزاں شیخ مجیب کے بنے پتھر کے مجسمے توڑ دیئے۔ہتھوڑوں اور کلہاڑوں کےوار کرکےاپنا غصہ نکالا۔شیخ حسینہ واجد کے اس 16 سالہ طویل دور اقتدار کا خاتمہ جس ذلت و رسوائی سے ہوا۔وہ ایک ڈکٹیٹر کےخلاف عوام کی نفرت کی ایک سبق آموز کہانی ہے۔حسینہ،شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں۔
شیخ مجیب ہی وہ شخص تھے جنہوں نے 60 کی دہائی میں ایک دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی کی بنیاد رکھی۔بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑنے کی سازش کی اور تحریک چلائی۔71 عیسوی میں وہ اس سازش میں کامیاب ہوگئے۔یوں پاکستان کا ایک حصہ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بن گیا۔شیخ مجیب الرحمن کو غدار پاکستان کا لقب بھی دیا گیا۔آج تک یہ لقب ان کے نام کے ساتھ برقرار ہے۔پاکستان کی تاریخ شاید انہیں کبھی معاف نہ کرے۔شیخ حسینہ واجد نے بھارت پہنچ کر اپنے عہدے سے بھی استعفی دے دیا۔وہ اس وقت بھارت میں کسی نامعلوم مقام پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔انہیں نریندر سرکار کی پوری آشیرباد حاصل ہے۔مبصرین کا کہناہےکہ بنگلہ دیش کی صورت حال سے مودی حکومت خاصی پریشان ہے۔شیخ حسینہ واجد کی بنگلہ دیش سے نقل مکانی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کا ایک اعلی سطح کا اجلاس بلایا جس میں خفیہ اداروں کے اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما اور قائد حزب اختلاف راہول گاندھی سے بھی بھارتی وزیر خارجہ کی بنگلہ دیش کی صورت حال پر تفصیلی ملاقات ہوئی جبکہ بنگلہ دیشی بارڈر پر بھارت کی سیکورٹی فورس کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کےاحکامات جاری کئے گئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس معطل کردی گئی ہے۔ ریلوے نے ٹرینیں اورایئرانڈیا سمیت نجی ایئرلائنز نےاپنی پروازیں بنگلہ دیش کے لئےمنسوخ کر دی ہیں۔شیخ حسینہ واجدکا ارادہ ہے کہ بھارت میں کچھ عرصہ قیام کےبعد برطانیہ چلی جائیں جہاں پہنچ کر سیاسی پناہ حاصل کریں۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے وہ عوامی لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں کا ارادہ رکھتی ہیں۔شیخ حسینہ واجد کے خلاف احتجاج کی قیادت کرنے والا طالب علم زاہد اسلام کون ہے؟ آئیے،زاہد اسلام کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔26 سالہ زاہداسلام ڈھاکایونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کاطالب علم ہے۔انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے خاصا مشہور ہے۔ زاہد اسلام نے قبل ازیں بھی شیخ حسینہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس پرحسینہ حکومت نے انہیں دہشت گرد قرار دیا۔19 جولائی 2024 کو زاہد اسلام کو سبز باغ میں اس کے گھر سے سادہ کپڑوں میں ملبوس 25 افراد اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔چند روز بعد چھوڑ دیا۔
دوسری بارباوردی اہلکاروں نے اغوا کیا۔ زاہداسلام کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر کسی نامعلوم مقام پر اس سے پوچھ گچھ کی گئی جہاں ہتھکڑیاں لگا کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔بھارتی میڈیا کے مطابق زاہد اسلام اس اغوا کے 2 دن بعد ایک پل کے نیچے سے بےہوش ملا۔زاہد اسلام کی جائے پیدائش ڈھاکہ ہے۔جہاں وہ 1998 میں پیدا ہوئے۔ان کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے۔والد سرکاری سکول میں ٹیچر ہیں۔والدہ ہائوس وائف ہیں جبکہ زاہد اسلام شادی شدہ ہیں۔جغرافیہ کے ایک طالب علم،نقیب اسلام نے رائٹر کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایاکہ زاہد اسلام کے پاس ناقابل یقین صلاحیت ہے۔اس نے ہمیشہ کہا کہ ملک کو بدلنے کی ضرورت ہے۔اسے پولیس نے اٹھایا۔بےہوش ہونے تک بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔پھر سڑک پر پھینک دیا۔اس سب کے باوجود وہ لڑتا رہا۔ہمیں یقین ہے وہ کبھی ہمت نہیں ہارے گا۔اس پر ہمیں فخر ہے۔شیخ حسینہ کے ملک سے چلے جانے اور استعفی کے بعد بنگلہ دیش میں کافی حد تک حالات معمول پر آ گئے ہیں۔طلبا تحریک نے 6 اگست کو صدر شہاب الدین سے اسمبلی تحلیل کا مطالبہ کیا تو صدر نے ان کے مطالبے پر اسمبلی تحلیل کر دی جبکہ صدر کے حکم پر ڈھاکہ جیل میں قید سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو بھی رہائی مل گئی۔
بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ نےعام انتخابات اور نئی منتخب حکومت کے آنے تک ریاستی امور چلانے کے لیے عبوری سیٹ اپ کا اعلان کیا ہے۔طلبا تحریک کی جانب سے تحریک کے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات پروفیسر یونس کو ملک کی قیادت سونپنے کا مطالبہ سامنے آیا جسے صدر اوربنگلہ دیشی چیف آف آرمی نے تسلیم کر لیا۔پروفیسر محمد یونس عبوری سیٹ اپ کی قیادت سنبھالنے کے لیے پیرس سے واپس بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔وہ عام انتخابات تک عبوری سیٹ اپ چلائیں گے۔شیخ حسینہ اپنے دورحکومت میں بھارت اور برطانیہ کے زیادہ قریب رہیں۔انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کی طرح حکومت کی اور جمہوری قدروں کو پامال کیا۔مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا اور انہیں سخت سزائیں دینا شیخ حسینہ کا وتیرہ بن گیا تھا۔جماعت اسلامی کے بہت سے رہنمائوں کو انہوں نے ناصرف پابند سلاسل کیا بلکہ کئی کو تو پھانسی تک کی سزا دلوائی۔ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ شیخ حسینہ کی پالیسیوں کے خلاف زبان کھولتے تھے۔میڈیا پر سخت بیان دیتے تھے۔حسینہ کے رخصت ہونے پر دنیا نے دیکھ لیا کہ جمہوری ملکوں میں کبھی ڈکٹیٹر شپ قائم نہیں رہ سکتی۔عوام غضبناک ہو جائیں تو طاقتور بھی خس وخاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں۔یہ سبق ہے ان کے لیے،جو جمہوری ملکوں میں ڈکٹیٹر بن کرحکومتیں چلاتے ہیں۔پھر وہ دن بھی آتا ہے جب عوامی غیض و غضب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں