Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

اسلامائزیشن کا عمل اور پاکستان

ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ابھی تک پاکستانی قوم کو آئین کے مطابق اسلامائزیشن کا حق بھی نہیں دے سکے،اگر آئین کے مطابق اسلامائزیشن کی سہولت ہی عوام کو مہیا کر دی جاتی تو آج ملک کے حالات بہتر ہو چکے ہوتے ،حکومتی سطح پر نئی نسل کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام عبادات کی بنیاد ہے،اس لئے ہم نے اپنی تحریروں، تقریروں اور اداریوں کے ذریعے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم عام کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا ، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی صیہونی ایجنٹوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والے بن جائیں، پاکستان کی حکومتوں کی کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی صیہونی طاقتیں اور انکے مقامی راتب خور جس طرح سے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ناموس صحابہؓ پر حملہ آورہیں وہ سب کے سامنے ہے، یاد رکھیئے! محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مسلمان کے دل میں سما سکتی ہے کہ جو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو،نئی نسل کو سیکولر شدت پسند بنا کر ان کے دلوں سے محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھرچنے کی کوششیں کرنے والے عقل و خرد سے فارغ عالمی اندھوں اور ان کے مقامی ٹاوٹوں کو کوئی بتائے کہ دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو یہ ضابطہ دیاہے کہ جو شخص جس سے محبت کرے گا اس کو اس کی رفاقت نصیب ہو گی ۔ حضرت انس ؓسے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺسے پوچھا ،یارسول اللہ ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺنے فرمایا تونے قیامت کے لئے کیا تیاری کررکھی ہے؟عرض کیا میں نے روزقیامت کے لئے اتنی زیادہ نمازوں ، روزوں،اور صدقات کے ساتھ تیاری نہیں کی لیکن اللہ اور رسولﷺ سے محبت رکھتا ہوں ، آپﷺنے فرمایا تو اپنے محبوب کے ساتھ ہی ہوگا ۔ (بخاری)
اس مبارک اور اہم ضابطہ پر صحابہ کرامؓ جس قدرخوش ہوئے اس کا بیان حضرت انس ؓ کی زبانی سنیئے فرماتے ہیں اسلام لانے کے بعد آج تک ہم کبھی اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے آج آپ کایہ فرمان سن کر خوش ہوئے کہ محبت کرنے والے کومحبوب کی رفاقت نصیب ہوگی پھر اسی خوشی میں وہ جھوم اٹھے اور کہنے لگے، اگرچہ میںنے اِن پاکیزہ ہستیوں جیسے عمل نہیں کئے مگر میں حضور ﷺ،ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ساتھ محبت ضرور رکھتا ہوں اور پرامید ہوں کہ اسی محبت کی وجہ سے مجھے ان کی رفاقت نصیب ہوگی ۔حضور علیہ السلام کی محبت اس قدراہم اور افضل واعظم ہے کہ خداوندقدوس ارشادفرماتے ہے،ترجمہ ’’تم فرما اگر تمہارے باپ اوربیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہاراکنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سوداجس کے نقصان کاتمہیں ڈرہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اوراس کے رسول ﷺکی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھ ،یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے‘‘(سورہ توبہ)
اس آیت کریمہ میں واضح طورپر معلوم ہواکہ جسے دنیا میں کوئی معززیاعزیزیامال اللہ اور رسول سے زیادہ عزیزہووہ بارگاہ الٰہی میں مردود ہے اورمستحق عذاب ہے، تاریخ گواہ ہے کہ رسول اکرم ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے اپنے والہانہ عشق ومحبت سے سرشارہوکر جس شانداراندازمیں اپنے آقاومولی ﷺسے اپنی عقیدت کا اظہا رکیا اس کی نظیر نہیں مل سکتی،بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ قسم اٹھا رکھی تھی کہ جب ہم صبح اٹھیں گے تو سب سے پہلے نبی علیہ السلام کا دیدارکریں گے،چنانچہ وہ نبی علیہ السلام کے حجرہ کے باہر بیٹھ کر انتظارکرتے جب آپ ﷺتشریف لاتے تو آپ ﷺکا دیدار کرنے کیلئے آنکھیں کھولتے،بعض حضرات رات کے وقت گھر سوئے ہوئے ہوتے آنکھ کھل جاتی تو نبی علیہ السلام کے خیال مبارک سے دل اداس ہوجاتا،گھر سے باہر آکر نبی ﷺکے حجرات کی زیارت کرتے رہتے ‘گھنٹو ں بیٹھے دیکھتے رہتے کہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں میرامحبوب ﷺ سویا ہواہے۔
ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ ایمان لائے اور کچھ عرصہ صحبت نبوی ﷺمیں رہنے کے بعد گھر واپس گئے ،وہاں ان کے کسی عورت کے ساتھ مراسم اور تعلقات تھے،وہ عورت ان سے ملنے کے لئے آئی، انہوں نے رخ پھیرلیا،وہ کہنے لگی ،کیابات ہوئی ؟وہ بھی وقت تھا جب تم میری محبت میں بے قرارہوکر گلیوں کے چکر لگاتے تھے ،مجھے ایک نظر دیکھنے کیلئے تڑپتے تھے ،میری ملاقات کے شوق میں ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے’ اب میں خودچل کرتمہارے پاس ملنے کیلئے آئی ہوں ،تو تم نے آنکھیں بندکرلیں،وہ فرمانے لگے کہ میں ایسی ہستی کودیکھ کر آیاہوں کہ اب میری نگاہیں کسی غیر پر نہیں پڑسکتیں ۔میں دل کاسوداکرچکا ہوں ، وہ عورت ضدمیں آکرکہنے لگی اچھا ایک مرتبہ میری طرف دیکھ تولو،اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،اے عورت !چلی جائو ورنہ میں تلوارسے تمہاراسرقلم کردوں گا۔
ایک حبشی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کے سر کے بال گھنگریالے تھے وہ غسل کرنے کے بعد چاہتے کہ سرکے بالو ںمیں مانگ نکالیں مگر نہ نکلتی،انہیں بہت حسرت رہتی کہ میراسر بھی نبی علیہ السلام کے سرمبارک سے مشابہہ ہونا چاہئے ۔ ایک دن فرط جذبات میں انہوں نے لوہے کی سلاخ گرم کی اور سرکے درمیان میں پھیر دی ۔ چمڑااور بال جلنے کی وجہ سے سر کے درمیان ایک لکیر نظر آنے لگی،لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے اتنی تکلیف کیو ں اٹھائی ؟ فرمایا ،تکلیف تو بھول جائوں گا جب میرے سرپر یہ مانگ اسی طرح نظر آئے گی جس طرح نبی علیہ السلام کے سرپر نظر آتی ہے ،عشق رسول ﷺ میں صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بہت اعلیٰ اور نمایاں مثالیں پیش کیں،ان کے سینے عشق نبوی ؐ سے معمورتھے اور ان کے پاکیزہ قلوب اس نعمت کے حصول پر مسرور تھے، پتا چلتا ہے کہ صحابیات رضی اللہ تعالی عنہم کے قلوب میں جو محبت نبیﷺکیلئے تھی وہ والد،بھائی اور شوہر کی محبت سے بھی زیادہ تھی یہی ایمان کامل کی نشانی بتائی گئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں