(گزشتہ سے پیوستہ)
معزز شرکائے محفل! اصل مسئلہ اجتہاد کے باب کا کھلا ہونا یا بند ہو جانا نہیں بلکہ آج کے دور میں انسانی معاشرہ کو درپیش مسائل اور اجتہادی عمل کے درمیان پائی جانے والی وہ خلیج ہے ہو ہر باشعور شخص کو واضح طور پر نظر آرہی ہے اور ہر شخص اپنے ذوق اور ذہن کے مطابق اس کی تعبیر کر رہا ہے۔ اس خلیج کا باعث اجتہاد کی بندش نہیں بلکہ اجتہاد کے جاری و ساری عمل کو صحیح طور پر استعمال میں نہ لانا ہے۔ اور میری ناقص طالب علمانہ رائے میں مسائل حاضرہ اور اجتہادی عمل کے درمیان پائی جانے والی خلیج کے اہم اسباب یہ ہیں:
اب سے تیرہ صدیاں قبل اسلامی اعتقادات پر یونانی فلسفہ کی یلغار کے دور میں ہمارے علماء نے اس فلسفہ کی ماہیت اور مضرات کا صحیح طور پر بروقت ادراک کر لیا تھا اور اس سے کماحقہ واقفیت حاصل کر کے اسی کی زبان میں اس کے توڑ اور مقابلہ کی فضا پیدا کر دی تھی جس کی وجہ سے یونانی فلسفہ اسلامی اعتقادات پر حملہ میں کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ مگر اب سے کم و بیش دو سو برس پہلے سائنسی ایجادات و انکشافات، صنعتی ترقی اور مغرب کے لادینی فلسفۂ حیات کی بیک وقت پیش رفت کے موقع پر ہمارے علمی ادارے اس سہ جہتی یلغار کی نوعیت اور نفع و نقصان کا صحیح طور پر اندازہ نہ کر سکے اور رازیؒ، غزالیؒ، ابن رشدؒ اور ابن تیمیہؒ کی طرح مخالف فلسفہ کا برابر کی سطح پر مقابلہ کرنے کی بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ مغرب کا فلسفہ لادینیت امت مسلمہ کے مختلف طبقات کے ذہنوں میں غیر شعوری ارتداد کی کمین گاہیں قائم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اگر اس دوران ہمارے علمی ادارے اور دینی مراکز سائنسی علوم، صنعت و حرفت اور مغربی فلسفہ سے واقفیت اور اس کی تعلیم کے دروازے بند نہ کر لیتے اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہی علوم کے ہتھیاروں کو ان سے مقابلہ کے لیے اختیار کرتے تو آج مغرب کا لادینی فلسفہ مسلمانوں کے اعتقادی، نظریاتی، قانونی، معاشرتی اور تہذیبی ڈھانچے کے لیے اس قدر کھلا چیلنج نہ بن پاتا۔
کوئی نظام جب تک معاشرہ میں نافذ العمل رہتا ہے، معاشرہ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنا اور نئے پیش آمدہ مسائل اور قانون میں مطابقت پیدا کرتے رہنا قانون اور اس سے متعلق اداروں کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ مگر بیشتر مسلم ممالک پر استعماری قوتوں کے تسلط کے دور میں یہ صورت قائم نہ رہ سکی۔ ان ممالک کے قانون و نظام بدل گئے، قضا کا منصب افتا کی صورت اختیار کر گیا اور اسلامی احکام و قوانین پر عمل کی حیثیت ایک اختیاری عمل کی سی رہ گئی۔ جس کی وجہ سے معاشرہ کی ضروریات کا جائزہ لینا اور قانون کے ساتھ ان کی تطبیق کی صورتیں پیدا کرنا قضا و حکم سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں کی ذمہ داری نہ رہا بلکہ یہ ذمہ داری عام مسلمان کو منتقل ہوگئی کہ وہ کسی معاملہ میں شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہے تو کسی مفتی سے دریافت کر لے۔ اس ’’تنزل‘‘ نے احکام و قوانین کی اجتماعیت کا تصور مجروح کر دیا، انفرادیت اور محدود سوچ اجتہادی عمل پر غالب آگئی اور معاشرہ کے اجتماعی مسائل و مشکلات کو اجتہاد کے ذریعے حل کرنے کا کوئی مربوط نظام باقی نہ رہا۔
دورِ غلامی میں دینی مدارس اور ان کے نظامِ تعلیم کا بنیادی ہدف اسلامی عقائد، دینی علوم اور مسلم معاشرت کا تحفظ تھا جس میں انہیں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور برصغیر میں دینی مدارس کے ہاتھوں فکری اور تہذیبی شکست مغربی فلسفہ کے علمبرداروں کے لیے ابھی تک سوہانِ روح بنی ہوئی ہے، لیکن بنیادی ہدف چونکہ تحفظ تھا اس لیے دینی مدارس کے نصاب و نظام کی ترجیحات اسی ’’تحفظ‘‘ کے گرد گھومتی رہیں۔ اور معاشرہ میں شرعی احکام و قوانین کی تطبیق و تنفیذ ان کے اہداف میں نہیں تھی اور نہ ہی دور غلامی میں اس کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا اس لیے فطری طور پر تطبیق و تنفیذ سے متعلقہ اجتہادی عمل دینی مدارس کی ترجیحات میں جگہ نہ پا سکا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کی غالب اکثریت اجتہاد کی اہمیت و ضرورت، معاشرہ میں اس کے حقیقی کردار اور اس کی صلاحیت و استعداد کے تقاضوں سے یکسر بے خبر ہے۔
اجتہاد کا عمل اس دوران بند نہیں ہوا بلکہ اس کا دائرہ محدود ہوگیا تھا۔ مختلف مکاتب فکر کے بڑے بڑے دارالافتا اس دوران جو کام کرتے رہے اس کا بیشتر حصہ اجتہاد کے زمرہ میں آتا ہے۔ لیکن معاشرہ میں شرعی احکام و قوانین کی تطبیق و تنفیذ کا عمل اجتہاد کے دائرے میں شامل نہ رہا اور مغربی فلسفۂ حیات کی ہمہ جہتی یلغار کا صحیح طور پر ادراک نہ کرتے ہوئے اس کے مقابلہ کے لیے بروقت پیش بندی کی ضرورت محسوس نہ کی گئی جس کی وجہ سے مسائلِ حاضرہ اور اجتہادی عمل کے درمیان وہ خلیج نظر آرہی ہے جس نے نہ صرف اصحابِ فکر و نظر کو مسلسل پریشان کر رکھا ہے بلکہ مسلم ممالک بالخصوص پاکستان میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ میں ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔
حاضرینِ مکرم! اجتہاد کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے ایک اور سوال کا جائزہ لینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ ہے اجتہاد کی اہلیت کا مسئلہ جس نے علمائے دین اور جدید اہل دانش کے درمیان باقاعدہ ایک تنازعہ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بعض خطبات کا سہارا لیتے ہوئے ان کے فرزند جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اور ان کے ساتھ قانون دانوں کا ایک طبقہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ علمائے کرام چونکہ آج کے علوم و فنون اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مسائل اور ان کے اسباب و نتائج سے براہِ راست واقف نہیں ہوتے اس لیے ان میں اجتہاد کی اہلیت نہیں ہے اس لیے اجتہاد کا یہ حق پارلیمنٹ کو منتقل ہوجانا چاہیے۔ جبکہ علمائے کرام کا موقف یہ ہے کہ فقہاء نے شرعی اجتہاد کے لیے جن علوم کی مہارت کو شرط قرار دیا ہے مثلاً (۱) قرآن کریم (۲) سنتِ رسولؐ (۳) اجماع امت (۴) اقاویل سلف (۵) علوم عربیت ، چونکہ پارلیمنٹ اور دیگر آئینی ادارے ان علوم سے آگاہی نہیں رکھتے اس لیے ان کے لیے اجتہاد کا حق تسلیم کرنے سے تحریفِ دین کا دروازہ کھل جائے گا۔ ( جاری ہے )