Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

آہ قاضی عبد الرشیدؒ !

مولانا قاضی عبد الرشیدؒ بھی چل بسے،وہ، وفاق المدارس پنجاب کے ناظم اعلیٰ جامعہ فاروقیہ دھمیال کے مہتمم ، شیخ الحدیث اور تمام دینی تحریکوں کے سرپرست اور روح رواں تھے ،وہ مسلک دیوبند کے ایسے سپوت تھے، کہ جن کا احترام بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی میں یکساں پایا جاتا تھا،وہ خود جہادی تھے اور جہادیوں سے پیار بھی کرتے تھے، جڑواں شہروں، یعنی راولپنڈی ،اسلام آباد کے علماء کو متحد کر کے کبھی ختم نبوتؐ اور کبھی ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ کے تحفظ کے لئے تحریک کو منظم کرنا ان کا طرئہ امتیاز رہا، ان کا چیف ایڈیٹر روزنامہ اوصاف محترم مہتاب خان سے بھی خصوصی تعلق رہا، ہماری دعوت پر وہ کئی بار آبپارہ اسلام آباد میں روزنامہ اوصاف کے دفتر بھی تشریف لائے، وہ جب بھی آتے مہتاب خان صاحب کے سامنے دینی مدارس کی ترجمانی کا خوب خوب حق ادا کرنے کی کوشش کرتے، تحفظ ناموس رسالتﷺ ، تحفظ ناموس صحابہؓ واہل بیتؓ اور تحفظ دینی مدارس کے ساتھ ساتھ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت، چیف ایڈیٹر اوصاف محترم مہتاب خان اور شیخ الحدیث مولانا قاضی عبد الرشید نور اللہ مرقدہ کا مشترکہ درددل رہا۔
اس خاکسار کا ان سے تعلق 28 برسوں پر محیط رہا، میری ان سے جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں، ہر ملاقات میں دینی اقدار اور دینی مدارس کے تحفظ کے حوالے سے متفکر لیکن انتہائی پرعزم بھی پایا، جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ممتاز عالم دین قاضی عبدالرشیدؒ کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے بجا طور پر درست کہا کہ قاضی عبدالرشید مرحوم کی وفات حسرت آیات سے دل غمزدہ ہے ۔ قاضی صاحب مرحوم بہترین مدرس، نکتہ داں خطیب، سلیقہ مند منتظم ہونے کے ساتھ متحرک ، زیرک اور نڈر رہنما تھے ۔ مدارس دینیہ ،تحفظ ختم نبوتﷺ سمیت اہم دینی ایشوز پر ہمیشہ فکر مند پایا، قاضی صاحب مرحوم کی دینی، تدریسی، دعوتی، سماجی ،سیاسی اور تحریکی خدمات شاندار اور قابل تحسین ہیں ۔ قاضی صاحب مرحوم کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ دعا ہے کہ اللہ کریم قاضی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے اور اپنے شایان شان بدلہ عطا فرمائے ۔ مرحوم کے لواحقین، متعلقین اور تلامذہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں ۔اللہ کریم لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
حضرت قاضی عبد الرشید ؒ ایک عبقری شخصیت تھے، مشکل سے مشکل بات کو چٹکی میں سمجھانے کا گر بطریق احسن جانتے تھے، وہ صاحب اللسان ہونے کے ساتھ ساتھ دین اور دینی اداروں کا درد رکھنے والے عظیم انسان تھے، پوری زندگی مدارس اور دین کے دفاع میں گزار دی، یقینا ان کی رحلت سے علماء میں جو دینی خلا پیدا ہوا ہے وہ مدتوں پر نہ ہوسکے گا۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
مولانا قاضی عبدالرشیدؒ کو خالق کائنات نے گونا گوں صفات، محامد ، خصال اور کمالات سے بہرہ ور فرمایا تھا، کالج یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دینی علوم کوحاصل کیا، وہ دینِ حق کے ایسے سپاہی تھے کہ جنہوں نے آخری سانسوں تک حق و صداقت کے پرچم کو سربلند رکھا، پنجاب کے شہروں، دیہاتوں سے لے کر کے پی کے ،آزاد کشمیر اور شہر کراچی تک انہوں نے دین حق کی بالا دستی، دینی مدارس کے تحفظ اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر بھرپور پہرہ دینے کی کوشش کی، وہ انتہائی جرات مند اور بے باک انسان تھے، حق بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے، حضرت مولانا قاضی عبدالرشید نور اللہ مرقدہ نے زندگی کا آخری بیان دارالعلوم جامعہ محمدیہ صادق آباد راولپنڈی میں اپنی وفات سے ایک دن قبل کیا، میرے دوست مفتی اعظم راولپنڈی مفتی مجیب الرحمن نے اپنے جامعہ میں ہونے والے بیان کا خلاصہ بدھ کی صبح 9 بجے اس خاکسار کو بھیجا، اپنے آخری خطاب میں مولانا قاضی عبد الرشید نے علماء کرام کو 19 اگست کے دن تحفظ ختم نبوتﷺ کے لئے ایک موثر اور بھرپور مظاہرہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا کہ آپ کے اس مظاہرے نے اہل اقتدار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اسی مظاہرے کا نتیجہ تھا کہ جو چیف جسٹس کسی سے بات نہیں کرتا تھا اس کا رویہ جارحانہ سے عاجزانہ اور پھر معذرت خواہانہ ہو گیا۔
اس موقع پر حضرت مولانا فضل الرحمن کو بھی بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا کے سامنے چیف جسٹس کی یہ حالت تھی کہ وہ گویا یہ کہہ رہا ہو کہ آپ فیصلہ لکھیں میں دستخط کر دیتا ہوں، یہ اثرات ہوتے ہیں سیاسی قوت کے ہمیں اپنے اکابر کا دست و بازوں بنتے ہوئے انہیں اور مضبوط کرنا ہے،شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قاضی عبد الرشید مرحوم نے فرمایا کہ حضرت شیخ کا وجود اہل پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے باعث برکت ہے، انہوں نے دلائل سے مسئلہ کی نزاکت چیف جسٹس کو سمجھائی،اس موقع پر علما ء کرام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ممبر و محراب کی طاقت کو پہچانو، ممبر و محراب آج بھی ذرائع ابلاغ کی سب سے بڑا اور موثر ذریعہ ہے، بھرپور مطالعے کے بعد موقع محل کے مطابق گفتگو کریں، عوام آج بھی سب زیادہ آپ کے پیغام کو سنتی ہے،کلمہ حق کہنے میں کبھی بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں اس سے آپ کی قوت میں اور اضافہ ہو گا،مزید فرمایا کہ علماء کرام اپنے اتحاد کو ہمیشہ برقرار رکھنا، اس میں ہی ہماری قوت ہے ،شہد کی مکھیاں متحد اور منظم ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے پیٹ سے نکلنے والے شہد کو شفا قرار دیا ہے،اس لیے اتحاد اور نظم و ضبط کوکسی صورت نہیں چھوڑنا ،مولانا قاضی عبد الرشید مرحوم نے مزید ارشاد فرمایا کہ ہم بنگلہ دیش گے، وہاں کے ایک صاحب نے بتایا کہ کاش کہ ہمارے پاس حضرت مولانا فضل الرحمن جیسا قائد اور وفاق المدارس جیسا ادارہ ہوتا،یہ دونوں عظیم نعمتیں ہمارے پاس موجود ہیں ، ان کی قدر کریں’’مولانا قاضی عبد الرشید مرحوم سے جو بھی ملتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا ‘‘ مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں آپ نے دشمن کم اور دوست زیادہ بنانے ،لیکن دوستی کا معیار صرف اور صرف اسلام کو رکھا،آپ مزاجا فرقہ وارانہ ذہنیت سے کوسوں میل دور تھے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت آپ کے رگ وپے میں سمائی ہوئی تھی،آپ نے دین کی اشاعت میں نہ تو اپنی پیرانہ سالی اور نہ ہی علالت کو رکاوٹ بننے دیا۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

یہ بھی پڑھیں