(گزشتہ سے پیوستہ)
ہماری ناقص رائے میں ان دونوں موقفوں کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتہاد کے مسلمہ اصولوں کے مطابق مجتہد کے لیے ماخذ اور محل دونوں کے ساتھ اجتہادی درجہ کی واقفیت ضروری ہے۔ ماخذ سے مراد وہ علوم شرعی ہیں جن سے آگاہی کو فقہاء نے اجتہاد کے لیے شرط ٹھہرایا ہے، او رمحل سے مراد اس شعبہ زندگی کے مروجہ قواعد و ضوابط، روایات اور عرف ہے جس سے متعلقہ مسئلہ درپیش ہے۔ ماخذ اور محل سے کماحقہ آگاہی اور ان دونوں کے درمیان تطبیق کی صلاحیت کے تین اجزا سے اجتہاد کا عمل ترتیب پاتا ہے۔ اور اس اجتماعی تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں طبقوں کے موقف کی واقعاتی بنیاد کسی نہ کسی حد تک ضرور موجود ہے اور ان میں سے کسی ایک کو یکسر نظر انداز کر دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔
جدید اہلِ دانش کا خیال ہے کہ زمانے کے حالات، متعلقہ شعبۂ زندگی کے قواعد و روایات اور عرف سے آگاہی اصل ہے جبکہ قرآن کریم کے تراجم و تفاسیر، احادیث کی شروح و تراجم اور فقہی احکام کے ذخیرے اردو زبان میں وافر مقدار میں میسر ہونے کی وجہ سے ماخذ سے عدم واقفیت کا خلا کسی حد تک پر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ مطالعہ کا علم کسی بھی علم کی باقاعدہ تعلیم کا متبادل تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اور کسی بھی علم میں لٹریچر کی فراوانی اور عام افراد کی اس تک رسائی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ لٹریچر تک رسائی رکھنے والے شخص نے محض اس بنیاد پر اس علم میں اس درجہ کی مہارت بھی حاصل کر لی ہے جو کسی بھی علم میں اجتہادی عمل کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ آج ملک میں بہت سے افراد ایسے مل جائیں گے جن کا آئین و قانون کا مطالعہ اور ان کی تشریح کی صلاحیت متوسط درجہ کے وکلاء سے زیادہ ہے لیکن ملک کی کوئی عدالت ایسے کسی شخص کو کسی آئینی اور قانونی معاملہ میں رائے کا باقاعدہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ یہ اصول اور ضابطہ کی بات ہے جس سے کسی شعبۂ زندگی میں انحراف نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف علمائے کرام کا یہ طرز عمل بھی محلِ نظر ہے کہ محل سے ناواقفیت یعنی متعلقہ مسئلہ کے ’’مالہ و ما علیہ‘‘ اور اس کے حوالہ سے مروجہ عرف و روایات سے عدمِ آگاہی کے خلا کو متعلقہ شعبہ کے کچھ افراد سے پوچھ گچھ کے ذریعے پر کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اور حالات زمانہ اور مروجہ عرف و روایات سے اس درجہ کی ’’عملی ممارست‘‘ کو ضروری نہیں سمجھا جا رہا جو کسی زمانے میں ہمارے فقہاء کا طرۂ امتیاز ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز اور عدم جواز کی بحث پر ایک نظر ڈال لیجئے جس میں طویل بحث و مباحثہ کے بعد کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنے میں ہمیں کم و بیش ربع صدی کا وقت لگا۔ اور اگر اس کے اسباب کا تجزیہ کریں گے تو سب سے بڑا سبب وہی لاؤڈ اسپیکر کے تکنیکی معاملات سے عملی ممارست کا فقدان قرار پائے گا جس نے ہمیں ربع صدی تک تکنیکی بحث میں الجھائے رکھا۔
اس کے ساتھ مسئلہ کا یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ علمائے کرام کے لیے زندگی کے تمام شعبوں کے ساتھ اس درجہ کی عملی ممارست کو شرط قرار دینا اور انہیں اس کے لیے مجبور کرنا بجائے خود محلِ نظر ہے۔ یہ تخصصات کا دور ہے، ماخذ کے اعتبار سے سب علوم شرعیہ پر یکساں مہارت رکھنے والے حضرات کا ملنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اگر محل کے لحاظ سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے اطوار و عرف سے واقفیت کو بھی ساتھ شامل کر لیا جائے تو بات اور زیادہ پیچیدہ ہو جائے گی۔ قدیم فقہاء نے ماخذ کے لحاظ سے تو ’’تجزی فی الاجتہاد‘‘ کے عنوان سے اس کا حل پیش کیا تھا کہ ایک شخص ایک شعبہ میں اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور ہے اور دوسرے شعبہ میں نہیں ہے، تو یہ صورت جمہور فقہاء کے نزدیک قابل قبول ہے۔ اور اگر ’’تجزی فی الاجتہاد‘‘ کو محل کے نقطۂ نظر سے بھی تسلیم کر لیا جائے تو معاملات میں توسع اور تنوع کا دائرہ مزید پھیلتا چلا جائے گا۔
حضراتِ محترم! اصحابِ فکر و نظر نے اس مشکل کا حل ’’اجتماعی اجتہاد‘‘ کی صورت میں تجویز کیا ہے۔ اور یہ کوئی نئی تجویز نہیں ہے بلکہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کے طرزِ اجتہاد کا احیا ہے جس میں فقہاء اور ماہرین کی ایک بڑی جماعت مشاورت اور اجتماعی بحث و مباحثہ کی صورت میں مسائل کے استنباط و استخراج کے مراحل کو تکمیل تک پہنچاتی تھی۔ اور اسی اجتماعی اجتہاد کے ذریعے مستنبط ہونے والے احکام و مسائل فقہ حنفی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امام اعظمؒ کے طرزِ اجتہاد کو زندہ کرتے ہوئے اہلِ علم اور ماہرین کی ایک ایسی کونسل قائم کی جائے جو نہ صرف یہ کہ غیر سرکاری ہو بلکہ اقتدار کی کشمکش اور گروہی سیاست کی ترجیحات سے بے نیاز اور بالاتر ہو۔ اس میں دینی علوم کے مختلف شعبوں کے چوٹی کے ماہرین کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں سے عملی تعلق رکھنے والے تجربہ کار ماہرین کو بھی شریک کیا جائے اور باہمی بحث و تمحیص اور اجتماعی مشاورت کے ذریعے مسائلِ حاضرہ کا حل تلاش کیا جائے۔
آخر میں مسئلہ کے ایک اور پہلو کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور جہاں علم و فن کے لحاظ سے تخصصات میں تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہا ہے وہاں معاشرت کے تخصصات و امتیازات دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ انسانی معاشرہ نیشنلزم کا حصار توڑ کر انٹرنیشنل ازم کی طرف عازمِ سفر ہے۔ فاصلے سمٹتے جا رہے ہیں اور انسانی زندگی تیزی کے ساتھ ایک مشترک بین الاقوامی معاشرت (گلوبل ویلج) کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں ہمیں اجتہاد کی اہلیت کی شرائط میں (۱) ماخذ سے آگاہی (۲) محل سے واقفیت (۳) اور تطبیق کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ (۴) بین الاقوامی رجحانات سے شناسائی کی شرط کا اضافہ بھی کرنا ہوگا، اور اجتماعی معاملات میں بین الاقوامی امور کے ماہرین کے علم و تجربہ سے استفادہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ اسی صورت میں ہم مستقبل کے انسانی معاشرہ اور اجتہاد کے اسلامی اصولوں کے درمیان وہ حقیقی رشتہ جوڑ سکیں گے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کا پہلے سے زیادہ احساس دلا رہا ہے۔