Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

آہ فلسطین ،آہ غزہ و اقصیٰ

غزہ جنگ اگرچہ طویل ہوتی جا رہی ہے لیکن ہمارے ایمان میں کمزوری نہیں آنی چاہئے ہزاروں شہدا کے خون سے ان شا اللہ فلسطین ضرور آزاد ہوگا ابھی ہمارے سامنے افغانستان کی مثال موجود ہے جو 20 سال بعد امریکی ظلم و ستم سے آزاد ہو کر ایک خوشحال اور مستحکم اسلامی ملک بننے کی طرف گامزن ہے ۔2001 ء میں ملا محمد عمر مجاہد کی حکومت ایک ہی مہینہ کے اندر ختم ہو گئی تھی، لیکن اس درویش صفت مرد قلندر اور اس کے روحانی بیٹے محلات اور ایوانوں کو چھوڑ کر برف پوش پہاڑوں جنگلوں اور غاروں میں منتقل ہو گئے اور انہوں نے افغانستان کی آزادی کے لئے مسلسل جہاد جاری رکھا، جب افغانستان کی جنگ پھیلتی چلی گئی تو جید علما ء کی ہمراہی میں پاکستان کی ایک اعلیٰ ترین حکومتی شخصیت نے امیر المومنین ملا محمد عمر کے دربار میں حاضری دی اور انہیں مشورہ دیا کہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر کے اپنی حکومت بچا لیجئے ,لیکن قندھار کے بوریا نشیں درویش نے ’’غیرت ایمانی و افغانی‘‘کا سودا کرنا گوارہ نہ کیا کہ ایک مہمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے حوالے کر کے ڈالر کمائے جائیں ۔ مجھے آج قندھار کا وہ غیرت مند بوریا نشیں بہت یاد آرہا ہے،دنیا میں 57 اسلامی ملکوں کے حکمرانوں میں کوئی ایک بھی قندھار کے بوریا نشیں کا ہم پلہ تو دور کی بات پاسنگ بھی نہیں، کہ جو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کو امریکی و اسرائیلی مظالم سے بچا سکے، یہ سب کرنے کے اپنی عیش و عشرت اور اللے تللے چھوڑنے پڑتے ہیں۔
دنیا کا ہر باشعور انسان جانتا ہے کہ عالمی صلیبی ،صیہونی دجل وفریب کا علاج صرف اور صرف جہاد ہی کے ذریعے ممکن ہے،سلام ہے قندھار کے بوریا نشیں مرد درویش کی حکمت و بصیرت پر کہ جس نے حکومت کی قربانی پیش کر کے عالمی صلیبی صیہونی نیٹ ورک سے ٹکرانے کا فیصلہ کر کے پرویز مشرف کی طرح ’’انسان فروش‘‘بننے کی بجائے ’’انسان دوست‘‘بنناگوارہ کیا، آج اگر افغانستان 20 سال بعد امریکی سامراج سے پاک ہوا ہے تو یہ قندھار کے بوریا نشیں مرد درویش کے اسی فیصلے کا نتیجہ ہے، مجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن فلسطین بھی اسرائیلی قبضے سے پاک ہوگا، وقت صبر اور یقین ایک مسلمان پر لازم ہے، آج نہیں تو کل، مسجد اقصیٰ کے گوشے گوشے سے فتح کی آواز بلند ہو گی،اب بڑھتے ہیں غزہ سے آنے والے کمانڈر ابو عبیدہ کے اہم پیغام کی طرف جو اپنے پیغام میں پوری امت مسلمہ سے مخاطب ہیں، حماس کے ترجمان اپنے پیغام میں کہتے ہیںاللہ کی قسم!ہم ایسی سختی اور شدت سے اس زور سے جھنجھوڑ ،ہلا دئیے گئے ہیں کہ ہماری جانیں ہمارے کلیجے تک لرزاں دئیے گئے ہیں۔ لیکن ہم اپنے رب کی رحمت سے قطعاً مایوس نہیں ہیں۔ جو اپنے رب کو جا ملے ہیں ہم انہیں شہید گمان کرتے ہیں اور جو باقی بچ گئے ہیں وہ فتح نصرت کی امید کرتے ہیں اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔دوسرا پیغام یہ ہے کہ جو کوئی ہمیں سن رہا ہے، وہ ہماری مدد کرسکتا ہے ۔اپنی دعائوں سے، اپنی التجاں سے۔۔یہ مومن کا ہتھیار ہے۔ اس کی طاقت کو ہلکا نہ سمجھیں ۔ اگر آپ ہمارے معاملے کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تو اللہ کے پاس آپ کا یہ عذر آپ کو اس کے حساب کتاب سے بچالے گا۔ لیکن دعا تو آپ پھر بھی کرسکتے ہیں۔ا ہمیں آپ کی دعائوں کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تکلیف میں اپنے ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا لو اور پختہ یقین سے ، متوجہ دل کے ساتھ دعا مانگو ۔ایسی دعا کا ضرور جواب دیا جائے گا۔ ان شااللہ تعالیٰ تیسرا پیغام یہ ہے،جو مسلمان بھی یہ وڈیو سن رہے ہیں (میسج پڑھ رے ہیں)وہ ہمارے یہ پیغامات اوروں تک پہچانے کا سبب بنیں ۔ کیونکہ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو غفلت کی چادر تانے سوئے پڑے ہیں کہ جیسے انہیں ہمارے حال کی کوئی خبر نہیں پہنچی ہے ۔شائد وہ ابابیلوں کی آمد میں منتظر بیٹھے ہیں جو آ کے اصحاب فیل کو تباہ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھیں۔اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں ۔ہمارے پیغام کو پھیلائیں ۔ہماری خبروں کو آگے بڑھائیں۔ ہمارے بچوں کی تصویریں دوسروں کو بھی دکھائیں ۔ ہر جگہ ملبہ کے ڈھیر ہیں ۔غزہ اب رہنے کے لیے بالکل محفوظ نہیں ہے۔ ہم نے ایسی شدید تباہی پہلے کبھی پہلے نہیں دیکھی۔ ہمارے لوگ ، ہمارے بھائی ، ہمارے پیارے اب شہدا میں لکھے جاچکے ہیں ۔ایک ایک خاندان کے 40، کہیں، 50کہیں 100افراد اکھٹے اموات کے شمارے میں درج کیے جاچکے ہیں اور جو باقی بچ گئے ہیں وہ اپنے رب کی طرف اچھے پلٹنے کے انتظار میں ہیں۔ اس صورتحال میں ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے پاس یوم جزا اپنی جان کو چھڑا لانے جتنا قابل کوئی عذر ہو گا ۔ اللہ ضرور پوچھے گا کہ جب مسلمانوں پر مصیبت کی یہ گھڑی آئی تو آپ نے کیا کیا؟ کیا دعائوں کو بھی محدود کیا جاسکتا ہے۔ یا ان دعائوں کی کوئی حد بھی ہے ۔آپ کے سڑکوں پر ہمارے لیے مظاہرے ،احتجاجا ًنکلنا ،آپ کا لوگوں کو ہمارے لیے پکارنا،آپ کی آواز کا ہمارے لیے بلند ہونا جو غافلوں کو ،بے حسوں کو ہمارے لیے بیدار کردے ۔ شائد یہ کاوشیں آپ کے حق میں قابل قبول عذر بن جائیں۔ اللہ کی حمدوثنا بیان کرتا ہوں ۔یہ آزمائش دوسری آزمائشوں کا پیش خیمہ ہے اور ان سب کے نتیجے میں ہم آخرت میں اجر کے امیدوار ہیں۔ غاصبوں کے تسلط کی یہ اندھیری رات طویل اور شدید ہوچکی ہے۔ اب ان ہی ظلم کے اندھیروں سے روشن صبح چمکنے کو ہے ۔اللہ نے اپنے بندوں سے اپنی مدد کا وعدہ کررکھا ہے ۔بھلے کچھ وقت اور لگے گا لیکن فتح ونصرت اسی کے بندوں کو حاصل ہوکے رہے گی۔ میں قسم کھا کے کہتا ہوں کہ ان حالات میں ہمارے بہترین نفوس جام شہادت پی رہے ہیں۔میں اپنی بات زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا۔ بس یہ جتلانے آیا تھا کہ میں اللہ کی خاطر آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ہمارا یہ پیغام عام کردیجیے۔ ہماری آواز بن جائیے ۔ ہمارا خون زمین کو رنگ رہا ہے۔ ہم آپ سے اس کے لیے پرزور تحریک چلانے کا تقاضا کرتے ہیں۔تو اپنے حصے کا کام کرنے کے لیے جی جان لڑا دیجیے۔ اے اللہ !ہمیں ثابت قدم رکھیے!ہمیں مضبوط کر دیجیے!ہمارے لیے حسن خاتمہ لکھ دیجیے!

یہ بھی پڑھیں