Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

غزہ ڈائری ۔۔بچے کے ذہن میں نسل کشی کا تصور

میں اپنی بیٹی کے گال پر بوسہ لینے کے لیے اٹھی تو اس نے مجھ سے کہا، “ماما، آج میری سالگرہ ہے۔ میں سفید لباس پہننا چاہتی ہوں، اور مجھے چاکلیٹ کیک چاہیے”۔ میری بیٹی ریٹا ابھی 5 سال کی ہوئی ہے۔ میں نے مسکرا کر اسے گلے لگایا اور کہا، “زندگی کا نیا سال مبارک ہو “۔ کسی بھی ماں کی طرح جو اپنے بچوں کو اپنے سامنے بڑے ہوتے دیکھ کر خوشی محسوس کرتی ہے، میں بھی شکر گزار ہوں کہ اللہ نے میری بیٹی کو زندگی عطا کی، لیکن میں اس سال کے بارے میں افسردہ تھی جس میں میری بچی کوجنگ اور نسل کشی جیسے کریہہ الفاظ کا سامنا کرنا پڑا۔ریٹا اور میرے درمیان ایک خاص محبت کا رشتہ ہے اورجو کوئی بھی میری بیٹی کو دیکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ وہ کتنی ذہین اور سمجھ دار ہے۔ ہر کوئی جو اسے دیکھتا ہے وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ بالکل میری طرح لگتی ہے۔ میں واقعی شکل وصورت اور خصوصیات میں اس مشابہت پر حیران ہوں کہ وہ میری ہوبہو کاپی ہے۔جس دن میرےکانوں میں اس کی پیدائش کی خبر پڑی تھی اسی روز سے میں نے اس پر خصوصی توجہ دینی شروع کر دی تھی جبکہ ابھی وہ اس دنیا میں آئی بھی نہیں تھی ۔ میں اس سے ہمیشہ کہتی رہی ہوں اور ہمیشہ کہتی رہوں گی کہ میں اس کے لیے ایک شاندار ماں بنوں گی۔میں اسے کہتی کہ “جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں تم نے کسی بھی چیز سے نہیں ڈرنا۔”ریٹا کے لیے، میں نے ہمیشہ ہر چیز کا انتخاب احتیاط سے کیا ہے، اس کا خوبصورت کمرہ، اس کے کھلونے، اس کے کپڑے اوراس کے بالوں کے انداز، اس کا کنڈرگارٹن۔
مجھے اپنے آپ پر اور اس کے والد پر فخر تھا کیونکہ ہم نے اپنی بیٹی کو گرمجوشی اور محبت سے گھرا ہوا ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کی پوری طاقت سے کوشش کی جس میں وہ ان تمام تنازعات اورچیلنجوں(جنگوں سے لت پت ماحول) سے دور ہو سکےجن میں ہم والدین رہتے ہیں، لیکن اب میری بیٹی بہت چھوٹی عمر میں نسل کشی کا سامنا کر رہی ہے۔محبت اور تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھنے اور سیکھنے اور کھیلنے کے اپنے حق کا استعمال کرنے کے بجائے، اس نے 300 دنوں سے زیادہ میں مسلسل بمباری، بے گھر ہونے، بھوک اور بیماری کے درمیان زندگی گزاری۔ میں ایک ماں کے طور پر اپنی بیٹی اور اس کے مستقبل کے بارے میں اضطراب کے نو ماہ سے گزری ہوں۔ اس کی سادہ ترین ضروریات پوری کرنا بھی میرے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ہمارے بچوں کے لیے مناسب خوراک، کپڑے اور صاف پانی دستیاب نہیں ہے اور اب غزہ میں ایک دن میں ایک فرد کے لئے صرف پانچ لٹر پانی ہی دستیاب ہے ،نہیں معلوم کہ اس میں کوئی اپنی کتنی ضرورت پوری کر پائے گا (کر پائے گابھی کہ نہیں !)۔ میں اس جنگ میں ایک صحافی، ایک ماں اور ایک عورت کے طور پر جی رہی ہوں۔ میں ابھی تک اس کی عادی نہیں ہوئی ہوں۔میں جب بھی کسی بچے کی بےجان لاش دیکھتی ہوں تو یہ سانحہ میرے دماغ میں یہاں اپنی بیٹی کو درپیش خطرات کی گھنٹی بجا دیتاہے اور افسوسناک سچ تو یہ کہ ہمارے بچوں کی جانوں کی اس وقت تک کوئی قیمت نہیں ہے، جب تک دنیا ان کے بچپن کو قتل ہوتے دیکھتی رہے گی اورخاموش رہے گی۔غزہ میں اسرائیل کی طرف سے ہمارے خلاف کیے جانے والے جنگی جرائم اور قتل عام نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ یہاں کی زندگی ہمارے بچوں کے لیے کتنی خطرناک ہے، اور میں ہمیشہ خود سے پوچھتی ہوں کہ کیا مجھے اپنی سرزمین پرہی رہنا چاہیے یا اپنے بچوں کی حفاظت کی ضمانت کے لئے وہاں سے نکل جانا چاہیے؟
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے 2021 کی اسرائیلی جارحیت میں ریٹا کے ساتھ کس طرح دکھ اٹھائے تھے۔ وہ اڑھائی سال کی تھی جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہمارےقریب فائر بیلٹ سے حملہ کیا۔ اس وقت میری بچی شدید خوف میں مبتلا ہوئی اور اس نےمکمل طور پر بولنا چھوڑ دیا،وہ صرف روتی رہتی تھی۔ وہ دن بھرچلتی رہتی اوراپنی شہادت کی انگلیاں کانوں میں ٹھونسے رکھتی۔ ہم نےبعد ازصدمے کےتناؤ اور اس کے اثرات سے بیٹی کو نکالنے کے لیےدنیا جہان کےجتن کرڈالے، جب تک کہ وہ ایک عام ہنستے کھیلتے بچے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھل مل جانے کےقابل نہیں ہوئی۔
آج میری بیٹی ایک بار پھر خوف محسوس کر رہی ہے، اور مجھے اسے سمجھانا ہے کہ جب تک میں اس کے ساتھ ہوں ڈرو مت، لیکن حقیقت میں، مجھے ڈر ہے کہ والدین سے توقع کی جاتی ہےکہ وہ اس کے عادی ہو جائیں گے لیکن میں قتل اور موت کے خوف کی عادی نہیں ہونا چاہتی ۔ ایسی صورت حال کے لیے تیار نہیں ہونا چاہتی نہیں جس میں انسانی مصائب پوشیدہ ہوں اور جنگ کی آوازیں دنوں تک اور مستقل ہمارے لئے ساؤنڈ ٹریک بن جائیں۔میں اپنی بیٹی کو ان چیزوں سے محروم کرنے کی عادت نہیں رکھ سکتی جو وہ پسند کرتی ہے – مثال کے طور پر اس کا سفید لباس اور سالگرہ کا کیک ۔۔ (لیکن یہ جنگ ہے)۔ میری چھوٹی شہزادی تیزی سے بڑی ہو رہی ہے۔ میری خواہش ہےکہ جب وہ بڑی ہو تو اس کے بچپن کی معصوم یادیں اس کے پاس ہوں۔ جنگ ختم ہوجائے گی اور میں اسے ڈزنی اور باربی کے کپڑے اور بریسلیٹ اور رنگین کتابیں خریدکر دوں گی جو اسے پسند ہیں اور میں اسے ہمیشہ بہت پیار دوں گی۔

یہ بھی پڑھیں