Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

منافقین کا خطرناک انجام

قرآن و حدیث کے پاکیزہ سمندر سے مندرجہ ذیل چند نایاب موتی ڈھونڈ کر اس کالم کی زینت اس لئے بنا رہا ہوں تاکہ ہمارے جن دانشوروں سیاست دانوں حکمرانوں کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کو قرآن و حدیث کی عظیم دولت سے استفادہ کرنا نصیب نہیں ہوتا یا وہ انٹرنیٹ کی دنیااور یورپ کی لائبریریوں سے فرصت نہ نکال سکنے کے سبب قرآن و حدیث کے مقدس فرامین سے دور رہتے ہیں۔وہ بھی قرآن و حدیث کے ان نایاب موتیوں کی روشنی میں اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھ لیں کہ دوسروں کو منافقت کے طعنے اور دوسروں کو منافق قرار دینے سے کیا ان کا اپنا ایمان مکمل ہو جائے گا؟ہم سب کو منافقت کی زندگی اور منافقت کی موت سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے اپنے چاروں طرف نظریں دوڑا کر ان کرداروں کو تلاش کرنا چاہیے کہ جو رہتے تو مسلمانوں کے ساتھ ہیں ‘ بظاہر کلمہ بھی پڑھتے ہیں ان کے نام بھی مسلمانوں والے ہیں مگر ان کے دل یہود ونصاری اور ہنود کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔جنہیں مسجد کی اذان اور جمعہ سے زیادہ مندر میں ٹل بجانا اچھا لگتا ہے،جو نکاح کی سنت کو ترک کرکے اگنی ماتا کے گرد سات پھیرے لگانے کو نکاح سمجھتے ہیں۔ جنہیں سال ہا سال قرآن کی تلاوت نصیب نہیں ہوتی مگر ڈسکو ڈانس ناچ گانے کو وہ اپنی روح کی غذا قرار دیتے ہیں، جس پردے کا حکم قرآن میں موجود ہے اس پردے کو وہ پتھر کے دور کی نشانی سمجھتے ہیں جو جہاد و قتال پیغمبر اسلام ﷺ نے 27 غزوات کی قیادت فرما کر امت کو سمجھایا تھا جس جہاد و قتال کا حکم قرآن پاک کی 582 آیات مبارکہ میں موجود ہے اس جہاد کو وہ سرے سے جائز ہی نہیں سمجھتے جو امریکہ کی طاقت سے مرعوب ہوکر امریکہ کے سامنے سر جھکانے کے مشورے دیتے ہوئے نہیں تھکتے جنہیں پاکستان کے نام کے ساتھ اسلام کا لفظ اچھا نہیں لگتا۔
پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ انہیں تیر کی طرح لگتا ہے جن کی اولادیں لندن میں صیلبیوں اور یہودیوں کے زیرسایہ پروان چڑھتی ہیں جو یہود و نصاریٰ کے سامنے اپنے آپ کو ماڈریٹ ثابت کرنے کے لئے اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر تلے رہتے ہیں ئینں میں موجود اسلامی شقیں جن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی ہیں،جو ہر وقت یہودو نصاریٰ کو راضی رکھنے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں، جنہیں شعائیر اسلامی سے چڑ ہے، اگر ایسے کردار کہیں مل جائیں تو انہی ںسمجھناچاہیے کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ سنبھل جائیں ، ورنہ منافقین کا انجام بڑا بھیانک ہو گا،نفاق کے اصل معنی ہیں ظاہر باطن کے مخالف ہونا نفاق کی کئی قسمیں بھی ہیں اول اعتقادی نفاق اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص بظاہر اللہ کی توحید و رسالت فرشتو ں وغیرہ پر اعتقاد ظاہر کرنے کا دعویدار ہو مگر دل میں سب کا انکار کرے دوسرا عملی نفاق اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص دل سے تو توحید و رسالت فرشتوں اور روز آخرت پر اعتقاد رکھتا ہو مگر اپنے دینی انحطاط کی وجہ سے ان باتوں کو بھی اختیار کرے جو منافقین کی۔ نشانیاں اور خاصہ ہوتی ہیںایسا شخص فاسق و فاجر ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے کہ اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہرگز مومن نہیں۔ دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور ایمان والوں سے اور دراصل وہ کسی کو دغا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سوچتے ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھادی اللہ نے ان کی بیماری اور ان کے لئے عذاب درد ناک ہے اس بات پر کہ جھوٹ کہتے تھے اور جب کہا جاتا ہے ان کو فساد نہ ڈالو زمین پر تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں جان لو وہی ہیں خرابی کرنے والے لیکن نہیں سمجھتے اور جب کہا جاتا ہے ان سے ایمان لائو جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے اور جب ملاقات کرتے ہیں مسلمانوں سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں کہ بے شک ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ہنسی کرتے ہیں (یعنی مسلمانوں سے) اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے ترقی دیتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور)حالت یہ ہے کہ وہ عقل کے اندھے ہیں یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے سونافغ نہ ہوئی، ان کی سودا گری اور نہ ہوئے راہ پانے والے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب روشن کر دیا آگ نے اس کے آس پاس کو تو زائل کر دی اللہ نے ان کی روشنی اور چھوڑا ان کو اندھیروں میں کہ کچھ نہیں دیکھتے بہرے ہیں۔ گونگے ہیں اندھے ہیں سووہ نہیں لوٹیں گے یا ان کی مثال ایسے ہے جیسے زور سے مینہ پڑ رہا ہو آسمان سے اس میں اندھیرے میں اندھیرا (چھا رہا)ہو اور بادل گرج رہا ہو اور بجلی کوند رہی ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر)موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (البقرہ آیت نمبر8تا 19 )
مندرجہ بالا آیات مقدسہ کی تفسیر مفتی اعظم پاکستان حضرت اقدس مولانا مفتی محمد شفیع معارف القرآن میں یوں بیان فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا آیات میں پہلی دو آیتوں میں منافقین کے متعلق فرمایا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں ہیں، بلکہ وہ دھوکا دیتے ہیں اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاچکے ہیںلیکن حقیقت میں وہ کسی کو دھوکا نہیں دے رہے ہوتے سوائے اپنی ذات کے اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ اس میں ان کے دعویٰ ایمان کو غلط اور جھوٹا قرار دیا گیا اور یہ کہ ان کا دعوی محض فریب ہے مگر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دے سکتااور غالبا ًیہ لوگ بھی ایسا نہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دھوکا دے سکتے ہیں مگر رسول اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی چالبازی کو ایک حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ چالبازی قرار دیکر فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیتے ہیں۔(قرطبی عن الحسن)اسی لئے ان کا نتیجہ بتایا گیا ہے کہ یہ بے وقوف اپنے سوا اور کسی کے ساتھ چالبازی نہیں کرتے ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ تو ہر دھوکہ و فریب سے بالاتر ہیںاللہ کے رسولﷺ اور مومنین بھی وحی الٰہی کی وجہ سے ہر دھوکا فریب سے محفوظ ہو جاتے ہیں کوئی نقصان ان کو نہیں پہنچتا البتہ ان کے دھوکہ فریب کا وبال دینا و آخرت میں خود انہیں پر پڑتا ہے۔تیسری آیت میں فرمایا کہ ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے سو اور بھی بڑھا دیا اللہ نے ان کے مرض کو قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ان نفسانی کیفیات کو بھی مرض کہا جاتا ہے جو نفس انسانی کے کمال میں خلل انداز ہوں اور جن کی وجہ سے انسان اپنے انسانی اعمال سے محروم ہوتا چلا جائے ،جس کا آخری نتیجہ روحانی موت و ہلاکت ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں