سوڈان میں عبدالفتاح البرہان کی زیرقیادت فوج اور ان کے نائب محمدحمدان دگالو کی زیر قیادت ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا کے درمیان جب گزشتہ سال اپریل میں لڑائی شروع ہوئی توکوئی تصوربھی نہیں کرسکتا تھا کہ جنگ اس نہج تک پہنچ جائے گی۔ تباہی اور بے گھر ہونے کا پیمانہ، اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد دیکھ کر یہ یاد رکھنا بھی مشکل ہے کہ جنگ سے پہلے سوڈان کیسا تھا۔ انسانی صورتحال کو دنیا کا “بدترین جاری بحران” قرار دیا گیا ہے ۔1956 میں مصر اور برطانیہ سے علیحدگی کے بعد م سوڈان مسلسل اندرونی تنازعات اور فوجی بغاوتوں سے دوچار ہےجس نے اس کی معیشت کو کمزور اورعوام کو غریب کردیا ہے۔ معزول سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کے خلاف البرہان کی قیادت میں 2019 کی فوجی بغاوت سوڈان کے لیے کوئی نئی یا حیران کن تجربہ نہیں تھی۔ سوڈان کی تاریخ عرب دنیا اور افریقہ کے دیگر ممالک کی طرح جدوجہد سے مزین رہی ہے۔ سوڈان پر 60 سال سے زائد عرصے تک فوج کی حکمرانی رہی ہے جس میں قلیل المدتی سویلین انتظامیہ کا سمجھا جانے والا عبوری دوربھی شامل ہے۔ سوڈان میں پہلی بغاوت آزادی کے ایک سال بعد ہوئی اور اسماعیل الازہری کی سربراہی میں پہلی قومی حکومت کی تشکیل ہوئی جو بغاوت کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی اور جس نے سوڈان کی آزاد جمہوریہ کا اعلان کیا۔فوج نے ایک سال بعد دوبارہ کوشش کی، جس کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل ابراہیم عبود نے کی، جس نے اقتدار پر قبضہ کیا اور 1958 میں الازہری کی سویلین حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ عبود نے سوڈان پر پوری طاقت سے حکومت کی جب تک کہ اسے 1964 میں ایک عوامی انقلاب کے نتیجےمیں معزول نہیں کر دیا گیا۔ سرالخاتم الخلیفہ الحسن سوڈان کے قائم مقام صدر بنے اور ان کے بعد 1966 میں الصادق المہدی کی حکومت آئی، جسے 1969 میں لیفٹیننٹ جنرل غفار نیمیری نے معزول کردیا تھا۔ نیمیری 1971 میں چار فوجی بغاوتوں میں بچ گئے، 1973، 1975 اور 1976، یہاں تک کہ وزیر دفاع اور آرمی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبدالرحمٰن سوار الدہاب نے 1985 میں بغاوت کی،اس سول نافرمانی تحریک نےپورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔الدھاب نے ایک سال کے لیے،جب تک کہ ملک میں حالات مستحکم نہیں ہوجاتے عبوری دور کا انتظام کرنے کا وعدہ کیا۔اس نے نظام حکومت باضابطہ طور پر ایک سویلین حکومت کے حوالے کیا اور رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا، جس سے اس کا نام عرب بغاوتوں کی تاریخ میں درج ہو گیا۔
نیشنل امہ پارٹی کے رہنما صادق المہدی نے 1986 میں اقتدار سنبھالا لیکن انہیں 1989 میں فیلڈمارشل عمرحسن البشیرکی قیادت میں فوجی بغاوت کے ذریعے انہیں معزول کردیا گیا۔ البشیر دو فوجی بغاوتوں کی کوششوں میں بچ گئے تھے لیکن فوج نے بالآخر انہیں تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہنے والی عوامی بغاوت کے بعد اپریل 2019 میں معزول کر دیا۔ عبدالفتاح البرہان نےاس کےبعد دگالو کے ساتھ عبوری خود مختاری کونسل کی صدارت سنبھالی۔ کونسل نے اعلان کیا کہ اس نے 2021 میں دو فوجی بغاوت کی کوششوں کو ناکام بنایا اور باغی افسران کو گرفتار کر لیاگیا ہے۔ (واضح رہے کہ) عبوری خودمختاری کونسل کے دو عسکری ونگز، البرہان کی قیادت میں فوج اور دگالو کی قیادت میں آر ایس ایف کے درمیان ایک خفیہ تنازعہ تھا۔ ان دونوں میں سے ہرایک اس فیصلہ کن لمحے کے لیے تیار تھا جب وہ دوسرے کو ختم کر کے سوڈان پرحکومت کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں نے علاقائی اور بین الاقوامی حمایت حاصل کی اپنی اپنی کوشش کی۔ متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا اور صہیونی ریاست اسرائیل نے دگالو کی حمایت کی، جب کہ مصر اور سعودی عرب البرہان کے سب سے بڑے حامی رہے۔ البرہان کے اسرائیل سے طویل عرصے سے روابط ہیں۔ جب اس نے سوڈانی ملٹری انٹیلی جنس کو سنبھالا تو اس نے خرطوم میں اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد کے دفتر کو بحال کر دیا جو نیمیری دور کے آخر تک فعال تھا۔ موساد کا یہ وہی دفتر تھاجس نے فلاسہ یہودیوں کو ایتھوپیا سے مقبوضہ فلسطین منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی۔ اس نے بشیر دور میں حماس کے صنعتی مراکز پر حملہ کرنےکے لیے سوڈان پر چھاپوں کی بھی اجازت دی۔
ابھی حال ہی میں البرہان نےصہیونی آقائوں سےتعلقات مزیداستوار کر کے اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے سوڈان کو ابراہیم معاہدے میں شامل کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کےطور پر متحدہ عرب امارات کی طرف سےترتیب دیئے گئے اقدام میں 2020 میں یوگنڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ سوڈان اور قابض ریاست کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت پر اتفاق کیا گیا۔ نیتن یاہو نے اس ملاقات کو تاریخی قرار دیا۔بغاوت کے بعد موسادکے ایک وفد نےخرطوم کا دورہ بھی کیا اور دگالو سے ملاقات کی، جبکہ دیگر صہیونی حکام اور شخصیات، عام شہری اور انٹیلی جنس ایجنٹ یکساں طور پر خرطوم پہنچے، جس کے بعد گزشتہ سال فروری میں اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن بھی گئے۔ البرہان سے ملاقات کے بعد کوہن نے کہا کہ سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا ہے اور وہ اگلے چند مہینوں میں واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کریں گے۔
آر ایس ایف ملیشیا اسرائیل کے اس شیطانی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا ایک آلہ ہے جس نے ملک میں اختلافات کے بیج بونے کے بعدبالآخر سوڈان کو تقسیم کردیا، جیسا کہ اس نے جنوبی سوڈان کی علیحدگی میں کیا تھا، جس میں قابض ریاست نے پردے کے پیچھے رہ کر ایک گھناؤنا کردار ادا کیا تھا۔ اسرائیل سوڈان کی جغرافیائی اورتذویراتی اہمیت سے واقف ہے، سوڈان کے پاس قدرتی وسائل کے بے پناہ ذخائر ہیں۔ اسرائیل اس بات سے بھی آگاہ ہےکہ سوڈان میں صورتحال معمول پر لانے اور ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اسے فوجی حکمرانی کے تحت رہنا چاہیے، اور یہ کہ اگر خرطوم میں سویلین حکومت ہوئی تو شاید ایسا نہ ہو سکے، حالانکہ سویلین کے اندربھی کچھ صہیونی قوتیں،یعنی ازادی پسند اور تبدیلی کی خواہاں شخصیات موجود ہیں۔ قابض ریاست کاماننا ہے کہ وہ سوڈانی عوام جو صہیونی ادارے کےساتھ کسی بھی طرح کے روابط کو سختی سے مسترد کرتے ہیں ان کو اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ ڈالنا بہتر ہے۔ یہی وجہ ہےکہ سوڈان کے بنیادی طور پر تباہ ہونےتک خانہ جنگی جاری رہنے کا امکان ہے۔ طاقت کی یہ جنگ ایک صفر کاکھیل ہے جس میں ماضی کی طرح کوئی واپسی، کوئی گفت و شنید اور اقتدار کی تقسیم نہیں ہے۔ دگالو یا البرہان ۔۔ وہ یا تو فتح یاب ہوں گے یا ہار جائیں گے، اور بعد والے یا تو مارے جائیں گے یا متحدہ عرب امارات میں جلاوطن ہو جائیں گے۔ سوڈان کے لیے یہ صورت حال انتہائی افسوسناک ہے۔ایک بار پھر، اس کے عوام اقتدار کی کشمکش دیکھنے پرمجبور ہیں جس کا گڈگورننس سےکوئی تعلق نہیں، اوراس بےپناہ تباہی کے پس پردہ صرف اور صرف اقتدار کی ہوس ہے۔
(ڈاکٹر امیرہ ابو الفتوح، مڈل ایسٹ مانیٹر)