بہت عرصہ بعد شہر سے باہر جانا ہوا ،ایک ہفتے کی ہوا خوری کے بعد گھر آیا ہوں تو میز پر مختلف نوعیت کی کتب کا ایک ڈھیر لگا ہے ۔عبداللہ عبداللہ کی کتاب ’’میں کون ہوں؟‘‘(Who am I) حضرت سید مقبول احمدشاہ کھگہ دامت برکاتہم شیخ المکرم سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی تفسیر سنام التفاسیر کے پہلے گیارہ پارے،عظمت عظیم صاحبہ کی کتاب ’’خوابوں کی جاگیر میری‘‘، حافظ محمد ادریس کی جماعت اسلامی کے زعماکے خاکوں پر مشتمل کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ محمد یوسف حسین آبادی کی کتاب ’’تاریخ بلتستان‘‘، پروفیسر عامر فہیم کی سرائیکی کہانیوں کی کتاب’’ اور ادب لطیف‘‘ کاتازہ شمارہ۔ان سب پر لکھنے کے لئے کئی کالمز درکار ہیں تاہم اس اظہاریئے میں عبداللہ عبداللہ کی کتاب ’’میں کون ہوں؟‘‘کے موضوع کے حوالے سے بات کرنا ہی کافی رہے گا ۔کیونکہ انہوں نیاپنے لئے جو موضوع چنا ہے وہ نیا نہیں ہے مگر موصوف نے افسانوی رنگ بھر کے اس موضوع کو زندہ کیا ہے ۔
سورج فضا میں ایک مقررہ راستے پر پچھلے 5 ارب سال سے 600میل فی سیکنڈ کی رفتار سے مسلسل بھاگا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان، 9 سیارے، 27 چاند اور لاکھوں شہابیوں (Meteorites) کا قافلہ اسی رفتار سے جا رہا ہے۔ کبھی نہیں ہوا کہ تھک کر کوئی پیچھے رہ جائے یا غلطی سے کوئی اِدھر ادھر ہو جائے۔ سب اپنی اپنی راہ پر اپنے اپنے پروگرام کے مطابق نہایت تابع داری سے چلے جا رہے ہیں۔ اب بھی اگر کوئی کہے کہ یہ چل تو رہے ہیں لیکن چلانے والا کوئی نہیں، ڈیزائن ہے لیکن ڈیزائنر نہیں، قانون ہے لیکن قانون کو نافذ کرنے والا کوئی نہیں، کنٹرول ہے لیکن کنٹرولر کوئی نہیں۔ بس یہ سب ایک حادثہ ہے۔ آپ اسے کیا کہیں گے؟چاند 3 لاکھ 70 ہزار میل دور زمین پر سمندروں کے اربوں کھربوں ٹن پانیوں کو ہر روز 2دفعہ مدوجزر (Tide) سے ہلاتا رہتا ہے تاکہ ان میں بسنے والی مخلوق کے لیے ہوا سے مناسب مقدار میں آکسیجن کا انتظام ہوتا رہے اور پانی صاف ہوتا رہے، اس میں تعفن پیدا نہ ہو، ساحلی علاقوں کی صفائی ہوتی رہے اور غلاظتیں بہہ کر گہرے پانیوں میں چلی جائیں۔ یہیں نہیں بلکہ سمندروں کا پانی ایک خاص مقدار میں کھارا ہے۔
پچھلے 3 ارب سال سے نہ زیادہ نمکین نہ کم، بلکہ ایک مناسب توازن برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ اس میں چھوٹے بڑے سب آبی جانور آسانی سے تیر سکیں اور مرنے کے بعد ان کی لاشوں سے بو نہ پھیلے۔ انہی میں کھاری اور میٹھے پانی کی نہریں بھی ساتھ ساتھ بہتی ہیں۔ سطح زمین کے نیچے بھی میٹھے پانی کے سمندر ہیں جو کھارے پانی کے کھلے سمندروں سے ملے ہوئے ہیں۔ سب کے درمیان ایک غیبی پردہ ہے تاکہ میٹھا پانی میٹھا رہے اور کھارا پانی کھارا۔ اِس حیران کن انتظام کے پیچھے کون سی عقل ہے؟ اِس توازن کو کون برقرار رکھے ہوئے ہے؟ کیا پانی کی اپنی سوچ تھی یا چاند کا فیصلہ؟
1400 سال پہلے جب جدید سائنس کا کوئی وجود نہیں تھا، عرب کے صحرارذدہ ملک میں جہاں کوئی سکول اور کالج نہیں تھا، ایک آدمی اٹھ کے سورج اور چاند کے بارے کہتا ہے کہ یہ سب ایک حساب کے پابند ہیں۔والشمس والقمر بِحسبان (سورہ الرحمن :5) سمندروں کی گہرائیوں کے متعلق بتاتا ہے کہ: بینہما برزخ لا یبغِیانِان کے درمیان برزخ (Barrier) ہے جو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔ (سور الرحمن: 20)جب ستاروں کو اپنی جگہ لے کے ہوئے چراغ کہا جاتا تھا، وہ کہتا ہے: ول فِی فل یسبحون یعنی سب کے سب اپنے مدار پر تیر رہے ہیں۔(سورہ یٰسین: 40) جب سورج کو ساکن تصور کیا جاتا تھا، وہ کہتا ہے: والشمس تجرِی لِمستقر لہا یعنی سورج اپنے لیے مقرر شدہ راستے پر کسی انجان منزل کی طرف ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔(سورہ یسین: 38) جب کائنات کو ایک جامد آسمان (چھت)کہا جاتا تھا، وہ کہتا ہے یہ پھیل رہی ہے: والارض مددناہا (سورہ الذاریات: 47) وہ نباتات اور حیوانی زندگی کے بارے میں بتاتا ہے کہ ان سب کی بنیاد پانی ہے۔
البرہان آئین سائنس اپنی دریافت’’قوانین قدرت ازل ہیں‘‘پر جدید سائنس کا بانی کہلاتا ہے، لیکن اس نے بہت پہلے بتا دیا: ماتر فِی خلقِ الرحمنِ مِن تفاوت تم رحمان کی تخلیق میں کسی جگہ فرق نہیں پاو گے۔ (سورہ المل: 3) جدید سائنس کی ان قابلِ فخر دریافتوں پر 1400 سال پہلے پردہ اٹھانے والا کس یونیورسٹی سے پڑھا تھا؟ کس لیبارٹری میں کام کرتا تھا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی خدائی عقل تھی یا یہ بھی صرف حادثہ تھا؟’’نومولود بچے کو کون سمجھاتا ہے کہ بھوک کے وقت رو کر ماں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے؟ ماں کو کون حوصلہ دیتا ہے کہ ہر خطرے کے سامنے سینہ سپر ہو کر بچے کو بچائے؟ ایک معمولی سے چڑیا شاہین سے مقابلے پر اتر آتی ہے، یہ حوصلہ اسے کس نے دیا؟ مرغی کے بچے انڈے سے نکلتے ہی چلنے لگتے ہیں، حیوانات کے بچے بغیر سیکھے، مائوں کی طرف دودھ کے لیے لپکتے ہیں، انہیں یہ سب کچھ کون سکھاتا ہے؟ جانوروں کے دلوں میں کون محبت ڈالتا ہے کہ اپنی چونچوں میں خوراک لا کر اپنے بچوں کے منہ میں ڈالیں؟ یہ آدابِ زندگی انھوں نے کہاں سے سیکھے؟ پھر بھی خدا نہیں بس ارتقا (Evolution) ہے؟
(جاری ہے )