Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

پہلی اور آخری حقیقت

( گزشتہ سے پیوستہ)
شہد کی مکھیاں دور دراز جنگلوں اور بیابانوں میں پھولوں سے رس چوستی ہیں اور ایک چھتے میں جمع کرتی چلی جاتی ہیں۔انہیں یہ خبر بھی ہوتی ہے کہ کون سے پھول کا ذائقہ زہریلا ہے اور وہ اس کے قریب نہیں پھٹکتیں ۔ایک قابل انجینئر کی طرح شہد اور موم کو الگ الگ کر لیتی ہیں ،گرمیوں میں شہد کے پگھل کر بہہ جانے سے بچائو کے لئے اپنے پروں کی ہوا دے کر اسے ٹھنڈا رکھتی ہیں ۔ موم سے بنائے ہوئے مکھی کے گھر کسی آرکیٹیکٹ کا شہکار لگتے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں مکھیاں منظم طریقے سے کام کرتی ہیں ۔زندگی کے یہ قرینے ا نہیں کس نیکس نے سکھائے ؟ یہ سب ایک حادثے کا نتیجہ ہوتا ہے ؟ عمل ارتقا کا کیا دھرا ہے ؟
اسی طرح مکڑا اپنے لعاب دہن شکار پکڑنے کیلئے ایسا جال تیار کرتا ہے کہ اعلیٰ ترین کپڑے بننے والا ٹیکسٹائل انجینئر بھی فنی اعتبار سے ایسا نفیس دھاگا نہیں بنا سکتا ۔چیونٹی گرمیوں ہی میں سردی کی خوراک جمع کرلینے کا شعور رکھتی ہے ۔یخ بستہ پانیوں میں رہنے والی مچھلیاں اپنے وطن سے ہزاروں میل کے فاصلے پر گرم پانیوں میں انڈے دیتی ہیں ۔بچے ان کی عدم موجودگی میں پیدا ہوتے ہیں اور آخر کو اپنی ماں سے جاملتے ہیں ،اسی طرح بیکٹیریا اور جراثیم قرنوں سے اپنا آپ قائم رکھے ہوئے ہیں یہ سب طریقے ا نہیں کس نے سکھائے؟اسی طرح نباتات کی زندگی کا سائیکل بھی کسی اچنبھے سے کم نہیں۔یہ سب کس کی قدرت کاکمال ہے ؟ کائنات میم لیل و نہار کا نظام خود بخود ہی بن گیا،سال بھر میں موسموں کاتغیر و تبدل ،مختلف رتوں میں مختلف سبزیوں اور پھلوں کا پیداہونا اور کیا زمین نے اپنے اندر شمالا،جنوبا ایک طاقتور مقناطیسی نظام خود ہی گھڑ لیا ہے ؟جن کے اثرات کی وجہ سے بادلو ں میں بجلیاں کڑکتی ہیں جو ہوا کی نائٹروجن کو نائٹرس آکسائیڈ میں تبدیل ہوکر بارش کے ذریعے زمین کوسیراب کرتے ہیں جن سے نباتات کو قدرتی کھاد مہیاہوتی ہے ۔
سمندروں کی سطح پر چلنے والے بڑے بڑے بحری بیڑے اور آبدوزیں اور فضا میں اڑنے والے جہاز مقناطیس کی مدد سے راستہ بناتے ہیں ،آسمانوں سے آنے والی مہلک شعاعیں اس مقناطیسی چھت سے ٹکرا کر واپس پلٹ جانا کہ زمینی ۔مخلوق مضر اثرات سے محفوظ رہے اور زندگی کا سفر عواں دواں رہے ،کیا ان سب کے پیچھے کوئی عقل نہیں ؟ کسی طاقت نے یہ سب ڈیزائن نہیں کیا ؟ زمین نے یہ سب کچھ خود کرلیا؟ہوائیں اربوں ٹن پانی اپنے کندھوں پراٹھائے پہاڑوں اورمیدانوں تک کس قوت کے ذریعے لاتی ہیں ؟ ستاروں سے آنے والے ریڈیائی بادلوں میں جمع کرنے والا کون ہے؟یہ عبداللہ عبداللہ کی کتاب ’’میں کون ہوں ؟‘‘ کے حوالے سے میری تفہیم جو اپنے موضوع کے اعتبار سے طویل ہوگئی ،اب ’’سنام التفاسیر‘‘ کا سرسری ذکر کہ اس کے لئے الگ کالم مجھ پر لازم ہے کہ جس کے موضوعات اپنے اندر ندرت کے خزانے سمیٹے ہوئے ہیں ۔ مثلاً1۔اسلام میں طرز تکلم کا ۔عیار۔2۔مظلومیت کے اظہار کا اسلوب ۔3۔یہود کی مشرکانہ ذہنیت کے احوال۔4۔اعتدال کی راہ میں برکت۔5۔عالم اسلام کی موجودہ زبوں حالی۔6۔علمائے اسلام کے استدلال۔ 7۔یہودو نصاری کی موجودہ صورتحال۔8۔امت مسلمہ کی موجودہ شکست خوردہ پالیسی۔9۔دور حاضر کے مسلمان کی حالت زار۔10۔کفر حسرتناک اخروی انجام کا پیش خیمہ۔موضوعات کا انبار ہے جس کے لئے ایک کالم کا دامن ناکافی ہے ۔
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت مقبول احمدشاہ کھگہ نے کمال دیدہ ریزی سے یہ کام سرانجام دیا ہے ان کی برسوں کی محنت و مشقت کا یہ ثمر خوبصورت اور دبیز پیپر پر بہت اہتمام سے مزین کیا گیا کہ تفسیر پر نظر پڑتے ہی رگ جاں میں مسرت سی سرایت کر جاتی ہے ۔قافلہ مقبول کے بندہ خاص محمد حیات صاحب کا ممنون ہوں جنہوں نے ’’سنام التفاسیر ‘‘سے استفادے کے سعادت عطاکی۔کچھ ذکرعظمت عظیم کی کتاب ’’خوابوں کی جاگیر میری‘‘کا کہ جس میں محترمہ نے اپنے خوابوں کے حوالے سے رشتوں کی عظمت و تقدیس، ان کی ضرورت اور نبھائو کے کے قرینوں پر بات کی ہے ۔ایک لحاظ سے انہوں نے اپنے دور کی تاریخ رقم کی ہے اور اسی تناظر میں رشتوں کی اہمیت پر زوردیاہے۔ اپنے عہد کی صعوبتوں اور ناگفتہ بہ حالات کا تذکرہ بہت خوبصورت الفاظ میں کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں