Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

سیاستدانوں کو بااختیار بنایا جائے

مولانا معلوم نہیں کب کے دبائے ہوئے ارمانوں کا اظہار پارلیمنٹ میں کر سکنے میں سرخرو ہوئے ہیں ۔رخش عمر کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان اپنے اندر کی سچائیوں کو باہر لانے پر مجبور ہوتا چلا جاتا ہے اور ایسا تب ہی ہوتا ہے جب احساس کے دروازوں پر دستکیں تیز تر ہوجائیں اور ایسا ہونے کی رت آہی گئی ہے ۔ مولانا نے پہلی بار یہ بات کی ہے کہ ’’سیاستدانوں کو بااختیار بنایا جائے‘‘ پھر انہوں نے ان اختیارات کے حوالے سے جو گفتگو کی وہ آب زر سے لکھنے والی ہے ۔مولانا بظاہر تو اسپیکر قومی اسمبلی سے مخاطب تھے مگر جو صاحب علم و دانش نہیں وہ بھی بخوبی جان گیا ہوگا کہ ان کا اصل مخاطب کون تھاجس کے سامنے انہوں نے ’’رزمیہ‘‘ پیش کیا ۔ رزمیہ یعنی جنگ کے بیان پر مشتمل شاعری ،جس میں اپنی افواج کے حوصلوں کی بلندی کی جاتی ہے ،ان کے قوی طاقتور بنانے کی سعی کی جاتی ہے ،ان کے جذبوں کو مہمیز لگائی جاتی ہے ،انہیں جان کی بازی لگادینے کی ترغیب دیتے ہوئے صلے اور انعام کی اللہ کے یہاں اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے ۔
اب پارلیمنٹ میں ممبران اسمبلی کے روبرو یہ طرز بیان اختیار کرنے کی ضرورت اس لئے تھی کہ وہ احساس جو مولانا کے اندر ربع صدی کے بعدجاگا ہے وہ ان میں بھی بیدار ہو ۔ انہوں نے یہ سچ کہا کہ ’’آج سیاسی لوگوں کی اہمیت ختم کی جارہی ہے ‘‘ مگر ان کا یہ مفروضہ قطعاً نادرست ہےکہ ’’سینئرقیادت کو نظرانداز کرکےنوجوانوں کو آگےلایاجارہا ہے ،جو معاملہ فہمی نہیں رکھتے، نہ ہی سیاسی تجربہ رکھتے ہیں،جذباتی بھی ہوتے ہیں ان کی کم فہمی کی وجہ سے ریاست مزید مسائل کا شکار ہوسکتی‘‘ کل مولانا بھی ایک ناتجربہ کار سیاستدان تھے آج وقت نے انہیں اس قدر سیاسی تجربے سے لیس کر دیا ہے کہ اپنے آپ کو اپنی زبان سے معاملہ فہم کہنے میں حق بجانب سمجھتے ہیں ۔کبھی وہ بھی معاملہ فہم نہیں تھے مگر سیاسی محاذ پر مسلسل پیش قدمی فرماتے ہوئے آج اس مقام پر کھڑے ہیں کہ ایک زمانہ ان کے سیاسی تدبر کا معترف ہے ۔مولانا فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے بچوں کو صحیح معاشرتی علوم نہیں پڑھایا جاتا‘‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ظلم ہوا مگر وہ زمانہ اب لد چکا اب جو بات استاذ نہیں بتاتا یا غلط پڑھاتا ہے تو طلباء گوگل سے ساری معلومات لے لیتے ہیں ۔
اب ہماری نسل کی اصل پریشانی یہی ہے کہ کوئی سینئر سیاستدانوں کے بے عمیق تجربے سے ڈرتا ہے اور انہیں منظر سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے تو سینئر سیاستدان نوجوانوں کے سماجی، سیاسی اور عمرانی شعور سےخوفزدہ ہیں اس لئے انہیں فرنٹ پر کھیلنے پر پابندی عائدکرنے کی بات کرتے ہیں ۔یہ مخدوم جاوید ہاشمی، خواجہ سعد رفیق، لیاقت بلوچ اور متعدد ان جیسے سیاسی فہم و فکرکےحامل بھی تو عالم شباب میں سیاست میں آئے ، اسمبلیوں کے رکن بنے ،وزیر ،مشیر اور سفیر بنے ،آج پیرانہ سالی کی دہلیز پر کھڑے ہیں تو ان کے پیچھے بلاول زرداری،عامرڈوگر،فرزندان مولانااور کئی نوجوان سیاستدان قیادت سنبھالنے کی صلاحیتوں سے لیس دکھائی دیتے ہیں۔جو فقط مروجہ سیاست کے سب قرینوں سے آشنا ہیں ،وہ اپنے تاریخی شعور کو گوگل اور آرٹیفیشل انٹیلیجنٹ کے ذریعے اپ ڈیٹ رکھتے ہیں ،وہ دنیا میں ہونے والی ہر تبدیلی کا پل بھر میں سراغ پالیتے ہیں، جن کے لئے اب یہ کائنات کوئی مخفی راز نہیں رہ گئی وہ یہ تک جانتے ہیں کہ سورج جو ہمیں نظر آتا ہے اس میں ہماری تیرہ لاکھ زمینیں سماسکتی ہیں اور کائنات کے سارے راز ان پر طشت ازبام ہیں ۔
مولانا نے نوجوان قیادت کے سیاسی کردار پر تو اعتراض اٹھایا ،مگر معزز ایوان میں ممبران کو دی جانے والی مراعات پر تحفظات کا اظہار نہیں کیا کہ جن پر پوری قوم میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے انہیں کی وجہ سے پوری قوم پر مہنگائی ایک عذاب کی طرح مسلط ہے ۔ ایوانوں میں بیٹھے ممبران اور ایوانوں سے باہراسٹیبلشمنٹ اور اس کے چھوٹے بڑے گماشتے آرام و سکون اور تعیش سےبھرپورزندگی گزارتےہیں،انہیں یا ان کے بچوں کو چھینک بھی آجائے توحکومتی اخراجات پربیرون ملک علاج کرواتے ہیں اوریہاں غریب تو کجا متوسط طبقے کا ایک فرد بیمار ہوجائے تو مقامی ہسپتال کے اخراجات اس کی دسترس سے باہر ٹھہرے ۔مولانا نے اپنے خطاب میں مدلل باتیں کیں ،سیاستدانوں کی مشکلات کا خوب احاطہ کیا حالات کی عمدہ تصویر کشی کی ،معاملات کا صحیح اور بے لاگ تجزیہ کیا ،مگر انہوں نے اپنی خاموشی سے سنی جانے والی تقریر میں وراثتی سیاست کا ذکر تک نہیں کیا ایک ایک خاندان بلکہ ایک ایک گھر سے پانچ پانچ افراد کا فارم سنتالیس کے ذریعے ایوانوں میں پہنچ جانا اور کروڑوں سے بڑھ کر اربوں روپے مختلف مدوں میں قومی خزانے سے وصول کرنا۔
عوام کے مسائل تو یہ ہیں جن کے لئے وہ اپنے ووٹ سے سیاستدانوں کو ایوانوں میں پہنچاتے ہیں اور سیاستدان ان کے حقوق کی بجائے اپنے اختیارات کا رونا روتے نہیں تھکتے۔مولانا کے اس موقف سے کسی کو اختلاف نہیں سب ہی جانتے ہیں کہ اختیارات کا منبع کوئی اور ہے مگراس بات سے کوئی سیاستدان انکارنہیں کرسکتا کہ سیاستدانوں نے اپنے لئے یہ آستانہ خود چنا ہے ، جنہوں نے نہیں چنا وہ چننے والوں کے اس جرم میں ہر بار شریک رہے ہیں اور اس جرم کا خاتمہ نوجوان قیادت ہی کر سکتی ہے جو قربانیوں کے لئے پوری طرح آمادہ و تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں