Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

ختم نبوت ﷺکی عزت اور برکت

اللہ تعالیٰ کو ماننے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ”ایک“ مانا جائے”قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدْ“آپ فرما دیجئے کہ وہ اللہ ”ایک“ ہے کوئی دعویٰ کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے مگر ”ایک“ نہیں مانتا تو ایسا ماننا قبول نہیں ہوگا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول ماننے کے لئے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول مانا جائے”وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ“کوئی دعویٰ کرے کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانتا ہے مگر آخری نبی نہیں مانتا تو ایسا ماننا قبول نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ کو ایک نہ ماننے والا بھی کافر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ ماننے والا بھی کافر،یاد رکھیں،حضرت اقدس پیرو مرشد فرماتے ہیں کہ ”کافر“ کے لفظ سے تکلیف اور الجھن صرف ”کافر“ کو ہوتی ہے کسی مؤمن کو ہرگز نہیں، کیونکہ ”مؤمن“ قرآن مجید کو پڑھتا ہے،اور مانتا ہے،قُلْ يَآ اَيُّـهَا الْكَافِرُوْنَ،ختم نبوتؐ کا ”عقیدہ“ قطعی ہے،محکم ہے، قرآن سے ثابت ہے،احادیث سے ثابت ہے،اجماع سے ثابت ہے،عقل سے ثابت ہے،روح سے ثابت ہے،دل سے ثابت ہے،جان سے ثابت ہے،اللہ تعالیٰ کا شکر ”توحید“ کے ذریعہ ہمیں ہر کسی کے سامنے جھکنے سے بچا لیا،اور ”ختم نبوتؐ “ کے ذریعہ ہمیں ہر خبیث کے پیچھے لگنے سے بچا لیا،اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے ہمیں عقیدہ توحید اور عقیدہ ختم نبوت ؐکی عزت، شان اور رحمت عطاء فرمائی ورنہ کسی بندر اور گائے کو سجدہ کرنے اور کسی نجس مرزا قادیانی کو اپنا نبی ماننے سے تو موت زیادہ بہتر ہے ختم نبوتؐ کی برکت سے اب اس امت کی ذمہ داری ہے کہ سچا دین، سچا کلمہ اور سچا راستہ،دنیا کے ہر انسان اور ہر جن تک اور ہر کچے پکے گھر تک پہنچا دے۔
اے ایمان والو! دعوت ایمان کی قدر اور ضرورت کو دل میں بٹھا لو.. پیرومرشد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰپر مکمل یقین رکھتے ہوئے جو کام کیا جائے۔اس میں ضرور کامیابی ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے کوئی کام کرنا ”توکل“ کہلاتا ہے۔صیغہ ”تَوَكَّل“ کی تیسری آیت سورہ انفال میں ہے۔وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ (الانفال ٦١)ترجمہ ”اور اگر وہ (کفار) صلح کے لئے جھکیں تو آپ بھی صلح کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ”توکل“ (یعنی بھروسہ) کریں وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے“ آیت مبارکہ میں ”مقام توکل“ ہے۔دشمنوں کے ساتھ معاملات اور ”شان توکل“ یہ ہے کہ ”توکل“ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ اور مدد ملتی ہے۔مسلمانوں کے لئے درست نہیں کہ وہ کافروں سے صلح کی بھیک مانگیں،لیکن اگر کافر خود صلح کی پیشکش کریں تو مسلمانوں کے لئے جائز ہے کہ وہ یہ پیشکش قبول کریں،تاکہ صلح اور امن کے دنوں میں اپنی طاقت اور قوت کو خوب بڑھا سکیں۔اب اس میں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ ممکن ہے کفار،صلح کے نام پر دھوکا دے رہے ہوں تو اس کا علاج ارشاد فرمایا کہ ”توکل“ کریں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھیں،عجیب نسخہ ہے عجیب،اللہ تعالیٰ پر یقین کی طاقت کا نام ”توکل“ ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتے جانتے ہیں۔ان سے کوئی چھپ نہیں سکتا کہ تمہیں دھوکا دے کر نقصان پہنچا دے،بس اس ”یقین“ کی طاقت کو اپنے دل کا حال بنا لو۔،تب ہر جگہ اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ پاؤ گے،اللہ تعالیٰ”نظر“ کے دھوکے سے ہماری حفاظت فرمائیں۔
انسان اگر دنیا کے ظاہری حالات ہی کو دیکھے تو دھوکا کھا جاتا ہے،کافروں کی طاقت، کافروں کے مزے، کافروں کے عیش و آرام اور فیشن اور کافروں کی ترقی،دوسری طرف مسلمانوں کی کمزوری،تب نعوذ باللہ شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ کافر کامیاب جا رہے ہیں اور نعوذ باللہ ان کا طریقہ ٹھیک ہے،اسی دھوکے کو قرآن مجید بار بار دور فرماتا ہے اور سمجھاتا ہے کہ کافر اور کامیابی یہ کبھی جمع نہیں ہو سکتے،چند دن کے وقتی عیش و آرام اور اڑنے پھرنے کو کامیابی نہ سمجھو،یہ تو بالکل فانی اور عارضی ہے جبکہ انسان نے بہت سی منزلیں طے کرنی ہیں،زمین اور آسمان میں جو کچھ نظر آرہا ہے وہ سب کچھ نہیں ہے۔ زمین و آسمان میں بہت کچھ پوشیدہ ہے اور اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ماضی کی ساری تاریخ دیکھ لو ہر کافر ناکام ہی رہا اور ناکام ہی گیا اور اب مستقل ناکامی میں گرفتار ہے وہ کافر جو خود کو برحق سمجھ رہے ہیں ان سے فرمائیں کہ تم تھوڑا سا انتظار کرو،خود اپنا زوال اور اپنا عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے،کامیابی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہے اور عبادت میں ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ”توکل“ ہو،یعنی یہ یقین کہ اللہ تعالیٰ عبادت کا حکم فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ عبادت کی توفیق عطاء فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ عبادت کو قبول فرماتے ہیں،اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادت کو ضائع نہیں فرماتے اور عبادت کی وجہ سے انسان کے جو کام رہ جاتے ہیں،ان سب کو اللہ تعالیٰ پورا فرما دیتے ہیں اور عبادت کرنے والوں کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ ناکامی، ہلاکت اور زوال کی طرف دھکیلتے رہتے ہیں۔صیغہ ”تَوَكَّلْ“ کی اگلی آیت کا یہ کچھ مفہوم تھا جو عرض کر دیا ہے اب آیت مبارکہ دیکھیں،وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (ھود ۱۲۳)ترجمہ: اور آسمان و زمین کی تمام پوشیدہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں (یعنی ان کا علم بھی صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور ان کے مالک بھی اللہ تعالیٰ ہیں) اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہر چیز نے لوٹنا ہے (ہر عمل نے بھی ہر عامل نے بھی) پس آپ اسی کی عبادت کریں اور (اس میں) اسی پر توکل کریں اور جو کچھ تم کرتے ہو آپ کا رب اس سے غافل نہیں ہے۔
اس میں ”عبادت“ ”مقام توکل“ ہے اور ”شان توکل“ یہ ہے کہ دشمنوں کو اللہ تعالیٰ زوال میں ڈال دیتے ہیں جو مسلمان عبادت و اطاعت میں کمزور ہیں وہ اس آیت مبارکہ پر غور کریں اور اس کا فیض حاصل کریں، ”توکل“ سے عبادت میں قوت اور ترقی آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ”عبادت“ کے لئے پیدا فرمایا ہے،بہت ضروری ہے کہ ہم ”عبادت“ کے معنیٰ اور مفہوم کو سمجھیں۔کل کے مکتوب میں آیت مبارکہ آئی تھی:”فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ“ (ھود ۱۲۳)ترجمہ (اے محبوب نبی) آپ اللہ تعالی کی ”عبادت“ کریں اور اسی پر ”توکل“ (یعنی اعتماد اور بھروسہ) کریں۔ ”عبادت“ عربی لغت میں عاجزی اختیار کرنے کو کہتے ہیں یعنی کسی اور کے سامنے اُس کی بڑائی اور عظمت کے اعتراف میں خود کو جھکانا، گرانا، چھوٹا بنانا اور تذلّل اختیار کرنا،اسلامی شریعت میں عبادت کا مطلب ہے(۱) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا(۲) اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پورا کرنا(۳) عبادت نام ہے ان تمام اقوال اور اعمال کا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور اُن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں