’’ملت اسلامیہ کو درپیش چیلنجز‘‘ ایک وسیع اور متنوع موضوع ہے جس کے مختلف پہلوؤں پر ایک مجلس میں بات کرنا مشکل ہے، البتہ اس کے چند بنیادی پہلوؤں پر کچھ گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ امت مسلمہ کو کیا مسائل درپیش ہیں اور کن چیلنجز کا سامنا ہے؟ اسے دینی نقطۂ نظر سے چند تدریجی مراحل میں تقسیم کرنا چاہوں گا: پہلا مرحلہ ایک فرد کا ہے کہ ایک مسلمان فرد کے طور پر اسلام ہم سے کیا تقاضہ کرتا ہے؟ یہ بہت اہم مرحلہ ہے اس لیے کہ سوسائٹی اور اجتماعیت کی بنیاد فرد پر ہوتی ہے، افراد مل کر اجتماعیت اور سوسائٹی کی شکل اختیار کرتے ہیں، جس طرح ایک مشین بہت سے پرزوں پر مشتمل ہوتی ہے، اگر ہر پرزہ اپنی جگہ درست اور صحیح کام کر رہا ہو تو مشین بھی صحیح کام کرے گی، اور اگر کوئی پرزہ درست نہیں ہے اور اس میں خرابی ہے تو مشین بھی صحیح کام نہیں کرے گی۔ کسی مشین کے صحیح طور پر کام کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے تمام پرزے صحیح ہوں، ان میں کوئی خرابی نہ ہو۔ اور اس کے بعد یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ان کا آپس کا جوڑ صحیح ہو اور نیٹ ورک درست ہو، کیونکہ اگر پرزے صحیح ہیں لیکن باہمی جوڑ صحیح نہیں ہے تو بھی مشین صحیح کام نہیں کر سکے گی۔ اسی طرح سوسائٹی کا معاملہ ہے کہ اگر فرد صحیح ہے اور بحیثیت مسلمان صحیح کام کر رہا ہے، اور پھر افراد کا باہمی جوڑ صحیح ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کے معاملات درست ہیں تو سوسائٹی کا نظام صحیح ہوگا، ورنہ بگڑ جائے گا۔ اسی لیے حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالٰی کی توجہ سب سے زیادہ فرد پر ہوتی ہے، وہ فرد اور نفس کی اصلاح کو اپنا ہدف بناتے ہیں اور اسی پر محنت کرتے ہیں، اس لیے کہ اگر کوئی مسلمان بطور مسلمان صحیح ہے تو وہ سوسائٹی کا مفید اور کار آمد پرزہ بنے گا، لیکن اگر وہ صحیح مسلمان نہیں ہے تو سوسائٹی میں بھی خرابی پیدا کرے گا۔ چنانچہ سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم سب صحیح مسلمان بننے کی کوشش کریں، ایک مسلمان کے طور پر اللہ تعالٰی اور ان کے آخری رسولؐ کے احکام و فرامین کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں، اور ایمان و عقائد، فرائض و عبادات، حلال و حرام، باہمی حقوق و معاملات اور آداب و اخلاق کے حوالہ سے قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہ ہمارے لیے پہلا مرحلہ اور دائرہ ہے جس پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد دوسرا دائرہ خاندان اور فیملی کا ہے اور اسلام ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ ہمارا گھر کا ماحول دینی ہو، اس میں قرآن و سنت کے احکام پر عمل ہو رہا ہو، گھر کے اندر اللہ تعالٰی اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و فرامین کی عملداری ہو۔ چنانچہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تلقین کرو اور اس پر صبر و حوصلہ سے کام لو، یعنی ایک آدمی کا خود اپنے آپ کو نماز کا پابند بنا لینا کافی نہیں ہے بلکہ گھر میں نماز کا ماحول پیدا کرنا اور گھر والوں کو نماز و روزہ کا پابند کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک جملہ اور کہا گیا ہے کہ اس پر صبر کرو۔ اس کا ایک معنٰی بعض مفسرین کرامؒ یہ بیان کرتے ہیں کہ گھر والوں کو نماز کا کہنا مشکل کام ہوتا ہے اس لیے اس پر صبر و استقامت کا مظاہرہ بھی کرنا ہو گا۔ یہ بات ویسے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ساری دنیا کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا آسان ہے لیکن یہ کام اپنے گھر میں کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح ساری دنیا سے لڑنا آسان ہے مگر اپنے آپ سے لڑنا اور اپنے نفس کے خلاف جنگ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
حضرات صوفیاء کرامؒ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے جناب نبی اکرمؐ کے ایک ارشاد گرامی میں نفس کے خلاف جہاد کو ’’جہادِ اکبر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بہرحال فرد اور نفس کی اصلاح کے بعد دوسرا دائرہ فیملی اور خاندان کا ہے اور آج ہمیں درپیش چیلنجز اور تحدّیات میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے گھروں کا ماحول دینی نہیں رہا اور اسلامی احکام و قوانین کی عملداری ہمارے گھروں کے اندر کم ہوتی جا رہی ہے۔ جناب نبی اکرمؐ نے ایک ارشاد گرامی میں فرمایا ہے کہ گھروں میں بھی نماز پڑھا کرو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، یعنی جس گھر میں نماز کا ماحول نہیں ہے وہ حضورؐ کے ارشاد گرامی کے مطابق آباد گھر نہیں ہے بلکہ قبرستان ہے۔ اس طرح ایک حدیث میں آنحضرتؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس گھر میں قرآن کریم کی تلاوت نہیں ہوتی وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گھروں کو ویرانی سے نکالیں اور انہیں آباد کرنے کی کوشش کریں جو نماز کا ماحول بنانے، قرآن کریم کی تلاوت اور احکام اسلامی پر عمل کرنے سے ہو گا۔ تیسرے مرحلہ میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ایک مسلم سوسائٹی اور مسلم کمیونٹی میں ہم مسلمانوں کا آپس میں جوڑ کیسا ہے؟ اور ہم ایک دوسرے کے حقوق و آداب میں اسلامی احکام کی پیروی کس حد تک کر رہے ہیں؟ اسلام نے باہمی حقوق و آداب اور معاشرتی اخلاقیات کی جتنی تفصیل بیان کی ہے اور کسی نظام میں اس کی مثال نہیں ملتی لیکن بد قسمتی ہے کہ ہماری باہمی معاشرت ان حقوق و آداب اور اخلاقیات سے خالی ہوتی جا رہی ہے جن کی قرآن کریم نے اور جناب نبی اکرمؐ نے تلقین فرمائی ہے۔ اس کی صرف ایک مثال سے اندازہ کر لیجئے کہ دیانت اور امانت کے حوالہ سے ہماری معاشرتی صورتحال کیا ہے۔
آج دنیا کی اقوام میں دیانت اور کرپشن کے حوالہ سے ہمارا کیا تعارف ہے؟ پرانے ادوار میں دین اور دیانت کو مترادف سمجھا جاتا تھا، اور دیانت کے لیے بھی دین ہی کا لفظ بولا جاتا تھا۔ لیکن آج دیانت و امانت کا تعلق ہماری دینداری کے ساتھ قائم نہیں رہا، ایک شخص جو دینداری میں معروف ہے اور اسے عام طور پر مذہبی آدمی سمجھا جاتا ہے لیکن دیانت کے باب میں وہ ناگفتہ بہ حد تک دین سے دور ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں دیانت اس کو سمجھا جاتا ہے کہ کہیں داؤ نہ لگ سکے۔ اور کہیں داؤ لگ گیا ہے تو کوئی بھی معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتا، افراد ضرور مستثنیٰ ہوں گے اور ہیں، لیکن مجموعی طور پر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے داؤ نہ لگ سکنے کا نام دیانت رکھ لیا ہے۔ ہماری اس حالت نے ہمیں دین سے تو دور کر ہی رکھا ہے، ہم دنیا سے بھی اس کی وجہ سے دور ہیں کہ بین الاقوامی معاملات میں، تجارت میں، لین دین میں اور معاہدات میں ہمارا اعتماد باقی نہیں رہا۔
(جاری ہے)