2022 میں میری شادی ہوئی تو میری زندگی کا یہ ایک خوشگوارترین وقت ہونا چاہیے تھا جس کے میں اکثر خواب دیکھا کرتی تھی لیکن اس کے برعکس، یہ ہم سب کے لئے زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ میرے شوہر کے پاس کمپیوٹر انجینئرنگ کی ڈگری ہونے کے باوجود اسے غزہ میں کام نہیں مل سکا۔ بالآخر اسے غزہ سے باہر مقبوضہ فلسطین میں ناصرت شہر میں ایک لوہار کے طور پر کام ملا۔ اس نوکری سے جہاں ہمارے مالی مسائل کسی حد تک حل ہونا ممکن ہوئے وہیں اس نوکری کی وجہ سے میری زندگی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی، اور ہماری شادی کے ابتدائی مہینے مشکلات سے بھرپور رہے۔ میں نے مجبوراً ایک کنڈرگارٹن میں بطور آرٹ ٹیچر کام کرنا شروع کر دیا۔ میری دانست میں، میں ایک باصلاحیت خاکہ نگار(آرٹسٹ) ہوں، اور میں اپنے اس کام سے لطف اندوز بھی ہوتی ہوں ،تاہم میری خواہش تھی کہ میں کسی بھی نوکری سے پہلے بچوں کی نشوونما” کے مضمون میں اپنی کالج کی ڈگری مکمل کرتی ، لیکن غزہ کے حالات کے پیش نظر یہ ممکن نہیں تھا۔ مجھے اپنےخاندان کی کفالت کے لیے فوری طور پر کوئی نہ کوئی کام تلاش کرنا ہی تھا۔
ہماری بیٹی کینڈا 26 جون 2023 کو پیدا ہوئی تو یہ بھی اسی طرح کا مشکل وقت تھا جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے شادی کے دنوں میں گزارا تھا۔ میرے شوہر سال کا بیشتر حصہ اپنے خاندان سے دور رہے، اوررہا یہ سوال کہ غزہ میں زندگی کیسی تھی؟ یہ تو رکاوٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ جب ہماری شادی ہوئی تو ہم نے سوچا تک نہیں تھا اورہمیں ایسالگتانہیں تھا کہ زندگی کبھی اس طرح کی مشکلات میں گِھر جائے گی لیکن اکتوبر 2023 میں جب کینڈا صرف 3 ماہ کی تھی، اسرائیل نے ہم پر تباہی کی یہ جنگ مسلط کردی اورہماری زندگیوں میں سب کچھ یکسر تلپٹ ہو کر رہ گیا،ہم مزید اذیت ناک تکلیفوں کا نشانہ بن گئے۔
میرے شوہر کام کے سلسلے میں اس وقت مصر میں تھے۔ میں بیت الاحیہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ گھر پر تھی۔ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی مہینوں میں جب انخلاء کاحکم جاری کیا تو ہم بھی باقی دیگر کی طرح وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ میں نے اپنے ساتھ کوئی ایسی چیز نہیں لی جسے میں ساتھ نہ لے جا سکوں۔ میں نے اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑا، بشمول کینڈا کے بیشتر کپڑے اور بہت سی ایسی ضروری اشیاء، جن کی بہرحال ہمیں اشد ضرورت بھی تھی۔ ہمیں شدید بمباری کی وجہ سے انخلا کرنا پڑا، شروع میں میں اپنے خاندان سے الگ ہوئی اور ان سے بچھڑ گئی۔ ہمارے پاس جنوب کے علاوہ کوئی اور جگہ نہیں تھی۔یہ ایک ناقابل یقین صورتحال تھی۔ میں اس اذیت ناک سوچ میں مبتلا رہتی کہ اس نومولود کو اس تباہی کی دنیا میں کیونکر لائی تھی؟ ایک ایسی زندگی میں جہاں اس کے پاس رہنے کے لیے ایک خیمے کے سوا کوئی جگہ نہیں ہے اور میں اسےبمشکل ضرورت کی چیزیں مہیا کر پاتی ہوں؟
کینڈا کواچانک کسی قسم کی جِلدی بیماری نے گھیر لیا اورآناً فاناً بڑھتی چلی گئی، اس کا ننھا سا جسم سرخ دھبوں اور دانوں سے بھرگیاتھا۔ وہ سخت تکلیف میں تھی، اور درد کی شدت سے اکثر روتی تھی۔ میرے پاس اسے بہلانے پھسلانے کے علاوہ درد دور کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ میرے شوہر مہینوں تک غزہ واپس آنے کے قابل نہیں تھے، جب تک کہ بالاخر کراسنگ نہیں کھل گئی۔ ہماری مدد کے لیے اس کا واپس آنا ہمارے لئےذہنی سکون کا باعث تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کا پورا خاندان اس کے بغیر غزہ میں کہیں مر جائے گا۔ ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ جینا، ایک دوسرے کے ساتھ مرنا بہتر تھا۔اب ہم وسطی غزہ میں نصیرات میں ہیں اور میں اپنے شوہر، والدہ، والد اور بہنوں کے ساتھ ایک خیمے میں رہتی ہوں۔ میرا شوہر فلافل تیار کرنے کے لیےچنے لینے کے لیے صبح سویرے گھر سے نکل جاتا ہے تاکہ جلد واپس آکر وہ فلافل تیار کرسکے جنہیں رات کو اس نے بیچنا ہے۔ ہمارے لیے دودھ اور لنگوٹ جیسی بنیادی ضروریات کا احاطہ کرنا کافی ہے، لیکن ہم پھر بھی بمشکل کھاتے پیتے ہیں۔ اس جنگ سے پہلے میرا وزن 130 پاؤنڈ تھا، لیکن اب میں 30 پاؤنڈ سے زیادہ کھو چکی ہوں۔میری عمر 27 سال ہے اور میں ناکہ بندی، پابندیوں اور جنگ کے سوا کچھ نہیں جانتی۔ ہم اس جنگ میں رسوا ہوئے ہیں،بےگھر ہوئے ہیں۔ میری چھوٹی بچی اورمیری بہنیں ان بموں کی آوازوں سے خوفزدہ ہیں جو ہرچیز کو ہلاک اور تباہ کر دیتے ہیں۔ ہم خوف کی شدت سے ہر روز، ہر لمحہ مرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔میں ایک نئی دلہن ہوں جس نے اپنی شادی کی خوشی نہیں منائی، نہ ہی کالج کی ڈگری کا خواب پورا کیا اور نہ ہی اپنے نوزائیدہ بچے کی خوشیاں ہی منا سکی، اس لیے نہیں کہ ان میں خوشی نہیں تھی بلکہ اس لیے کہ باہر کی مشکلات نے ان کا مکمل لطف اٹھانا ناممکن بنا دیا تھا۔ کینڈا کی عمر اب ایک سال سے زیادہ ہو چکی ہے، اب اس کی زندگی کا بیشتر حصہ فنا کی اس جنگ میں گزرا ہے۔ میری التجا ہے کہ کاش لوگ اسے پڑھ کر سمجھ سکیں کہ ہم بھی انسان ہیں۔
(شمائو دربہ، غزہ کی ایک مصنفہ ہیں)