Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

ہم جو بدلیں تو زمانے کو بدل سکتے ہیں

عموما اردو زبان میں جسے ترکیب سےموسوم کیاجاتاہےانگریزی زبان میں اسے ”Ingredient“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کے اجزائے ترکیبی بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جملہ مصنوعات کی اثر پذیری اور فوقیت ان ہی اجزاء کی مرہون منت ہوتی ہے۔ ایک مثال سے اس کو واضح کردینا مناسب ہو گا۔ دودھ کے ایک گلاس میں ایک خاص مقدار میں کیلشیم، شوگر، وٹامنز اور کچھ دیگر اجزاء ہوتے ہیں اور یہی اجزائے ترکیبی اپنی افادیت کی وجہ سے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگر ان کی بجائے پانی میں سفید رنگ ملا کر لیبل پر دودھ لکھ دیا جائے تو ظاہری بین نگاہ کو دھوکہ تو دیاجاسکتاہےلیکن اس میں دودھ کی طاقت اور اسکے صحت افزا اثرات مرتب نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح قوم رسول ہاشمیﷺ (جسے اصطلاحی طور پر ”امت مسلمہ“ کہیں یا ”مسلم امہ“) کے بھی کچھ اجزائے ترکیبی ہیں۔ قومیں افراد سے ملکر بنا کرتی ہیں اور ہر فرد اپنی حیثیت میں ایک خاص مقام و مرتبے کا حامل ہوتا ہے۔ جب تک ایک ایک فرد کی کانٹ چھانٹ اور اصلاح و تربیت کا کوئی مؤثر اور قابل عمل نظام نہیں ہوگا اسوقت تک بحیثیت قوم کئی الجھنوں اور پریشانیوں کا سامنا رہے گا۔ بقول اقبال ؒ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اگر ہم تاریخ اسلام اور سیرت النبیﷺ کے ان ابواب کا جائزہ لیں جن میں آغاز اسلام خصوصا مکی زندگی کے احوال و آثار منقول ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی کٹھن اور اذیت ناک ادوار سے گزر کر امت مسلمہ کی تشکیل پایہ تکمیل تک پہنچی۔ فرد واحد ہادی برحق آقائے نامدارﷺکوہ صفا پہ کھڑے ہو کر لوگوں کو صدائے دلنواز دیتے ہیں کہ”کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو کامیاب و کامران ہو جاؤ گے“۔
یہ وہ ہستی ہے کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے تاریخ انسانی کے سب سے عظیم تر چراغ ہدایت کے طور پرسراج منیر کالقب عطا کرکےمبعوث فرمایا ہے۔ سرزمین عرب سے پھوٹنےوالی نور و کہکشاں کی یہ کرنیں نہ فلسفہ و منطق کے مباحث تک محدود تھیں اور نہ بادشاہوں کے طرزحکمرانی اوراسلوب سیاست تک۔ حقیقی معنوں میں اس سراج منیرنےایک مذہبی، معاشرتی، سیاسی اورسماجی نظام تشکیل دیناتھا۔ جس نےیہ ثابت کرناتھاکہ تعلیمات الہیہ کی روشنی میں معاشرےکیسےجنم لیتےاورپروان چڑھتےہیں۔اس نےیہ ثابت کرناتھاکہ معاشرے کی تشکیل و ترکیب کےلئےکون سےاجزائےترکیبی درکارہوتےہیں کہ مختلف مراحل زندگی میں جن کی اشدضرورت درپیش ہوتی ہےاوراس نےیہ بھی ثابت کرنا تھاکہ ایمان و ایقان کی جو روشنی دلوں سےپھوٹتی ہےوہ معاشروں میں کیسےانقلاب بپاکرتی ہے؟
فرض کریں کہ حضور ﷺ کے دورمبارک میں اعلان نبوت سے قبل کوئی شخص ہجرت کر کےکسی دوسرےملک میں چلاجاتا۔ پھر نبی محتشم ﷺ اور آپ کے وفا شعار ساتھیوں کی تیئس سال کی محنت شاقہ اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں تشکیل پانے والے معاشرے میں واپس آتا تو یقیناً ششدر، حیران اور پریشان ہو جاتا کہ میں کہاں آگیا ہوں اور یہاں ہو کیا گیا ہے؟ وہ سوچے گاکہ جب تیئس سال پہلے میں یہاں سے گیا تھا تو اس سماج کی روایات میں بچیوں کو زندہ درگورکردیا جاتا تھااور عورت عزت و وقار سے محروم تھی۔قتل و غارت گری عام تھی۔ لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا۔ سماجی روایات قبائلی سرداروں کی نفس پرستی کا شکار ہو چکی تھیں لیکن اسے ایک خوشگوار حیرت ہو گی کہ وہاں تو ایک عظیم انقلاب اور واضح تبدیلی آچکی ہے۔ عورت ماں کے طور پر اپنے قدموں تلے جنت رکھتی ہے تو بیٹی عظمت وشفقت کی مستحق بن چکی ہے۔ بیوی گھر کی ملکہ اور بہنیں شرافت اور عفت و عصمت کا نشان بن چکی ہیں۔ اُسے مزیدحیرانگی ہو گی کہ اس سماج میں رہنے والے افراد کے دلوں کی دھڑکنوں میں یاد الہی اور عشق رسولﷺکا بسیرا ہے اور ان کا ہرہر عضو بدن الہی تعلیمات کی تابعداری کرتا ہے۔ لوگ سچ بولتے ہیں۔ امانت اور دیانت ان کی گھٹی میں پڑ چکی ہے۔ اس تبدیلی نے جزیرۃ العرب سے نکل کر ایشیا، افریقہ اور یورپ تک ایک جہاں کو اپنی مہک سے معطر کیا۔ یہ ایک ایسا نور ہدایت تھا جس کی چمک دھمک اور ظاہری و باطنی روشنی کے سامنے مادیت پرستی کے شکار انسانوں کے جلائے ہوئے قمقمے بھی ماند پڑ گئے تھے۔ حضرت ملا علی قاری ؒ نےفرمایا تھا کہ اس امت مسلمہ کی اصلاح صرف اسی نہج پہ ممکن ہے جس طرح پہلوں کی اصلاح ہوئی تھی۔ اسلام کا آغاز ہی قلب و ذہن کی تبدیلی سے ہوتا ہے۔ اگر اس طرز پہ فکری اور عملی تبدیلی کی کاوشیں نہ کی جائیں اور دوسروں کی دیکھا دیکھی فقط ذہنی آزادی دے دی جائے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہو تے ہیں۔ آج امت مسلمہ کی زبوں حالی پہ ہم ایک دوسرے کی اشک شوئی تو کر لیتے ہیں لیکن اس طرف توجہ کا فقدان ہے کہ جائزہ لیں کہ ہمارے ساتھ ٹریجڈی کیا ہوئی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وہ اوصاف حمیدہ اور عادات و اطوار جو اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لئے بنیادی اینٹوں کا کام دیتے ہیں مفقود ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلم معاشرے توڑ پھوڑ اور زوال کا شکار ہیں۔ قتل و غارت گری، جھوٹ اور ملاوٹ، بد دیانتی اور دھوکہ دہی ہمارے سماجی نشان بن چکےہیں۔ جب تک اسوہ مصطفوی ﷺ کے منہج پہ انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو تبدیل نہیں کیاجاتا اس وقت تک یہ رولا گولا اور شور شرابا ہمارامقدر رہے گا اور زندگی کی گاڑی اسی طرح ہچکولے کھاتے رواں دواں رہے گی۔
ہم ہی دیوار ہیں راہ میں اپنی ورنہ
ہم جو بدلیں تو زمانے کو بدل سکتے ہیں

یہ بھی پڑھیں