Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

دل ہر قدر کہ نالہ وفریاد میکند

شکوہ ہے کہ روز ایک ہی داستاں ، ہر وقت ایک ہی تذکرہ؟ کیا کشمیر کے سوا کہیں ظلم نہیں ؟ کسی کو تکلیف کہ یہ بات پرانی ہوگئی ، گھسا پٹا موضوع ہے ، اب کون سنتا ہے ؟ المیہ ہمارا البتہ یہ ہے کہ اس پار سے ا ٹھنے والا نالہ وشیوں چین نہیں لینے دیتا ، سب سے بڑھ کر یہ احساس کہ کشمیر فروشی کی اس داستاں میں ہمارا بھی نام شامل ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔جولائی 2019کی وہ منحوس گھڑی کہ جب واشنگٹن میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے عوض وادی جنت نظیر ،پاکستان کہ شہ رگ کا سودا کردیا گیا ۔افسوس صدفسوس کہ اس عہد کا بازوئے شمشیر زن بھی شریک جرم تھا اور موقع پر موجود بھی ، ورنہ کسے مجال تھی کہ شہداء کا لہو بیچ ڈالے ؟ لیکن یہ ہوا ، سر عام ہوا اور اس ڈھٹائی کے ساتھ کہ موصوف اس وطن فروشی بر باقاعدہ داد طلب بھی تھے۔ اسلاآباد ایئر پورٹ پر زر خرید ضمیر فروشوں کا باقاعدہ مجمع لگاکر کہا ’’ یوں لگتا ہے ، آج ایک بار پھر ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں ۔‘‘تفو بر تو ای چرخ گردوں تفو، جب اس معاہدہ غداری کے بعد مودی نے اپنے حصے کی چال چلی تو یہاںا س کے یار وں نےطے شدہ معاملات کے تحت اس کے خلاف مسلح رد عمل کو غداری قرار دے ڈالا ، کوئی نہ سمجھا کہ مراد اس امریکی معاہدہ سے غداری تھی ، جس کے عوض وصولیوں کی غیر مصدقہ داستانیں بھارتی میڈیا پر پھیلی پڑی ہیں ۔
ربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سے
خُونِ دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سے
کشمیریوں کے ساتھ یہ پہلی غداری نہیں ہے ، اس سے پہلے انہیں چرکہ اپنوں نے ہی دیا تھا ، شیخ عبداللہ ، سورہ یاسین کی تلاوت کرکے لوگوں کو جلسے میں اکٹھا کرنے والا، اس نے بھی قرآن کو ڈھال بنایا اس نے بھی ، اس کے معاہدوں کو بھی کشمیریوں نے جوتے کی نوک پر رکھا اور اس کے معاہدے کی بھی کوئی اوقات نہیں ، کشمیریوں نے ایک لمحے کو بھی اپنی جدوجہد نہیں روکی ،’’ سینہ چاکان کشمیر‘‘ بھی ایک بار پھر پہاڑوں کو آبا دکرچکے ہیں ، دل خوش کن خبروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ، کہ مودی کا علاج اس کے سوا ممکن ہی نہیں ۔اب تو دہلی سرکار کےوہ غلام بھی پھڑکنے اور ٹرپنے لگے ہیں ، جن کی قسمت دہلی سرکار کے بوٹوں کے تسموں سے بندھی تھی ۔فاروق عبداللہ کو پہلی بار احساس ہو اہے کہ کشمیر ایک جیل بن چکا ہے ، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ،بے گناہوں کا قتل عام ، جبری گمشدگی، تشدد، عصمت دری اور جنسی استحصال سے لے کر سیاسی جبر اور آزادی اظہار کو دبانے کی شکل میں جاری ہیں خطے میں کنٹرول اور جبر کا مرکز بھارتی حکومت کے نافذ کردہ سخت قوانین کا ایک سلسلہ ہے ، جو کشمیری بھگت رہے ہیں ۔
کالے قوانین کے تحت کسی بھی جوابدہی سے ماوریٰ مکمل استثنیٰ حاصل کرنے والی بھارتی فوج، سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور بارڈر سکیورٹی پرسنل (بی ایس ایف) کشمیری شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔ خبر یہ ہے کہ مودی فسطائیت اب نئے ظالمانہ قوانین لارہی ہے ۔جن میں ’’اے ایف ایس پی اے، پی ایس اے اور یو اے پی اے کے علاوہ اینمی ایجنٹ آرڈیننس (ای اے او) بھی شامل ہے ، جسے 1943ء میں برطانوی نو آبادیاتی حکومت نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاسوسی کے انسداد کے لئے نافذ کیا تھا، آزادی کے بعد، اس آرڈیننس کو برقرار رکھا گیا اور وقفے وقفے سے یہ کشمیر سمیت ہندوستان کے مختلف حصوں میں استعمال ہوتا رہا۔ 23 جون 2024ء کو جموں و کشمیر کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل آر آر سوین نے اعلان کیا کہ اینمی ایجنٹس آرڈیننس EAO نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا ، جس کے تحت ٹھوس شواہد کے بجائے شک کی بنیاد پر افراد کو حراست میں لینے کی اجازت ہے، جس سے من مانی گرفتاریوں کا دروازہ کھلتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اس ڈریکولا قانون سے پہلے کشمیر میں کوئی کالا قانون نہیں تھا ۔ کشمیریوں کو جن کالے قوانین کا سامنا ہے ، ان میں آرمڈ فورسز (خصوصی اختیارات) ایکٹ شامل ہے، جو 1958ء میں نافذ کیا گیا تھا اور 1990ء میں اسے جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا۔ یہ قانون خطے میں ہندوستانی مسلح افواج کو غیر معمولی اختیارات دیتا ہے ، جس میں بغیر وارنٹ گرفتاری، گولی مار کر قتل اور رضامندی کے بغیر تلاشی شامل ہے۔ پتھری بل انکائونٹر (2000)، مڑہل انکائونٹر (2010) ، کنن پوشپورہ اجتماعی عصمت دری (1991) ، بیج بہاڑہ قتل عام (1993) اور ہنواڑہ کا واقعہ (2016) ایسے واقعات ہیں جہاں کشمیر میں AFSPA کا غلط استعمال کیا گیا ہے، جس سے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔AFSPA کے علاوہ جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ، 1978ء میں نافذ کیا گیا ، جو امن عامہ کو برقرار رکھنے کی آڑ میں عوام کو بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ سیاسی مخالفین، کارکنوں اور عام شہریوں کے خلاف اس کے اکثر غلط استعمال کی وجہ سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پی ایس اے کو ’’غیرقانونی قانون‘‘ کا نام دیا ہے۔کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کا غلط استعمال بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بنا ہے مسرت عالم بھٹ، شبیر احمد شاہ، وحید پرہ، میاں عبدالقیوم، آسیہ اندرابی اور متعدد بچوں کی گرفتاریوں خطے میں خوف اورجبر کی فضا کو برقرار رکھنے میں PSA کے کردار کو واضح کرتی ہیں۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا ایکٹ (UAPA) 1967 نافذ کیا گیا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا ایکٹ اپنے دائر کار کو بڑھانے کے لئے کئی ترامیم سے گزر چکا ہے۔ اس کا بظاہر مقصد ہندوستان میں غیر قانونی سرگرمیوں اور تنظیموں کے قیام کو روکنا ہے۔ تاہم، کشمیر میں، UAPA کو دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کے الزام میں، اکثر کمزور بنیادوں پر نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا ایکٹ (UAPA) کا غلط استعمال شہری آزادیوں، آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے حوالے سے اہم خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ آصف سلطان، خرم پرویز، گوہر گیلانی، مبین شاہ اور عرفان معراج کے کیس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں ۔ سرو سمن کی سرزمین پر ایک بار پھر صبر اور جبر میں معرکہ آرائی ہونے کو ہے ، کس طرح ممکن ہے کہ چپ رہوں ، اچھا لگے یا برا، کوئی پسند کرے یا نہ کرے ،صدائے حریت کی ہمنوائی تو ہوگی اور ہوتی رہے گی ، یہ ہمارے خون حصہ ہے ۔
کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا ميں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں
جرات آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو

یہ بھی پڑھیں