Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

نوجوان اہلِ علم کی تعلیمی و معاشرتی ذمہ داریاں

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری اور سب سے افضل پیغمبر ہیں۔ آپؐ کی نبوت کا دائرہ کیا ہے؟ حضور نبی کریمؐ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر جو پہلی بات کی تھی وہ ’’یا ایھا الناس‘‘ تھا، حالانکہ اس وقت آپ کے سامنے چند قریشی تھے جو مکی اور عربی تھے لیکن حضورؐ نے نسل انسانی کو خطاب کیا تھا۔ یعنی جو گلوبل سوسائٹی حضور نبی کریمؐ کی تشریف آوری کے بعد عملاً آج منظم ہو رہی ہے اور گلوبلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے، یہ سوسائٹی حضورؐ کی اولین مخاطب تھی۔ وہ زمانہ بھی حضور نبی کریمؐ کی نبوت کا تھا اور آج کا زمانہ بھی حضور نبی کریمؐ کی نبوت کا ہے جو کہ قیامت تک ہے۔ لیکن میں آج کے زمانے کو سامنے رکھ کر بات کروں گا کہ حضور نبی کریمؐ کے ارشادات اور احکام، آپ کی سیرت طیبہ اور اسوہ حسنہ آج کے لیے بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے عالمی تناظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کیا کہتی ہیں، اور آج جو معاشرتی، سیاسی، فکری، علمی اور تہذیبی چیلنجز درپیش ہیں، ان کا حل سیرت طیبہؐ میں کس نے تلاش کرنا ہے؟ ان چیلنجز کا حل حضور نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ میں موجود ہے۔ انسانی زندگی کے بیسیوں دائروں میں کوئی ایسا دائرہ نہیں ہے جس میں انسانیت کسی دلدل میں نہیں پھنسی ہوئی۔ اس دلدل کو پہچاننا، اس کی مشکلات کو سمجھنا اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور اسوہ حسنہ سے اس کا حل تلاش کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ میرا آپ سے پہلا سوال ہے کہ اگر میں اور آپ خود کو اس ذمہ داری سے مستثنی ٰسمجھ لیں گے تو یہ ذمہ داری کون پوری کرے گا؟ اس کام کے لیے فرشتے تو نہیں آئیں گے، یہ کام ہم نے ہی کرنا ہے۔
چنانچہ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ ہم خود واقف ہوں۔ اساتذہ کرام اور طلباء سے پہلی گزارش یہ ہے کہ ہم آج کے چیلنجز ، ان کے تقاضوں اور جناب نبی کریمؐ کی سیرت مبارکہ اور اسوہ حسنہ سے خود واقف ہوں گے تو اس کے بعد کچھ کر سکیں گے۔ اگر میں نہ ان چیلنجز سے واقف ہوں اور نہ سیرت طیبہ سے واقف ہوں تو میں کیا کروں گا؟ اس لیے میں نے پہلا نکتہ یہ عرض کیا ہے کہ ہم آج کے چیلنجز سے واقف نہیں ہیں۔ آج کے جتنے ابلاغ کے ذرائع ہیں مثلاً میڈیا، تعلیم اور لابنگ وغیرہ جو ذرائع کام کر رہے ہیں یہ ہمیں اصل زمینی حقائق کا منظر نہیں دکھا رہے، اصل صورتحال سے واقف نہیں کروا رہے۔ عربی ادب کی کہاوت ہے کہ ایک مصور شیر کی تصویر ایسی بنا رہا تھا کہ شیر کے گلے میں رسی ہے جو آدمی نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے۔ پاس سے کوئی شیر گزرا تو مصور نے شیر سے پوچھا کہ تصویر کیسی لگی؟ شیر نے کہا کہ جیسی بھی لگ رہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ برش آپ کے ہاتھ میں ہے، اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو آپ دیکھتے کہ رسی کس کے ہاتھ میں ہے؟ آج ہمارے ساتھ یہی ہو رہا ہے کہ ہمیں جو تصاویر اور مناظر دکھائے جا رہے ہیں وہ حقیقی نہیں ہیں، ہمیں ان تصویروں میں الجھا کر پس پردہ ایجنڈے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے پہلا مرحلہ اوریجنل سورسز سے واقفیت حاصل کرنے کا ہے، اس پر ایک واقعہ ذکر کر دیتا ہوں۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب بوسنیا اور سربیا کے مسائل تھے اور مشرقی یورپ میں مسلمان گاجر مولی کی طرح کٹ رہا تھا، جیسا کہ آج غزہ میں ہو رہا ہے، یہی صورتحال وہاں تھی۔ برطانیہ کا ایک شہر لیسٹر ہے جہاں ہمارے ملک کے معروف دانشور پروفیسر خورشید احمد کا ادارہ اسلامک فاؤنڈیشن ہے۔ میں وہاں کافی دفعہ گیا ہوں۔ انہوں نے اس زمانے میں بوسنیا کے مسائل پر اور وہاں کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ایک سیمینار رکھا تو اس علاقے کے پارلیمنٹ ممبر جم مارشل نے اس میں بطور مہمان خصوصی تقریر کی۔ اتفاق کی بات ہے کہ میں بھی برطانیہ میں تھا اور سیمینار میں شریک تھا۔ جم مارشل کی تقریر کے دو تین جملے نقل کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلام کو دیکھنا چاہتے ہیں، اسلام کی بات سننا اور اسلام سے واقف ہونا چاہتے ہیں، لیکن ایک گیپ ہے جو دور نہیں ہو رہا۔ وہ یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی ایک تصویر وہ ہے جو ہمیں ہمارے بڑے نسل در نسل بتاتے چلے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم پڑھے لکھے لوگ خود اسٹڈی کرتے ہیں ، ہم نے تاریخ اور تہذیبوں کی اسٹڈی میں اسلام اور مسلمانوں کی جو تصویر دیکھی ہے وہ اس پہلی تصویر سے مختلف ہے۔ لیکن جب ہم آج کی مسلم سوسائٹی کو عملاً دیکھتے ہیں تو ایک تیسری تصویر ہمارے سامنے آ جاتی ہے جو ان پہلی دونوں تصویروں سے مختلف ہے۔ ممبر پارلیمنٹ نے سیمینار میں بھرے اجلاس میں یہ بات کہی کہ آپ ہماری یہ کنفیوژن دور کر دیں تو ہم اسلام کی بات سننے کو تیار ہیں۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں