Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

نوجوان اہلِ علم کی تعلیمی و معاشرتی ذمہ داریاں

(گزشتہ سےپیوستہ)
چنانچہ یہ کنفیوژن آج موجود ہے جسے خود سمجھنا اور پھر دوسروں کو سمجھانا ہمارا کام ہے۔ ہمارے بعد مستقبل کی قیادت آپ نے سنبھالنی ہے اور اس سے اگلی نسل کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے یہ ویژن آپ نے منتقل کرنا ہے۔ چونکہ سیمینار کا عنوان ”عصرِ حاضر میں نسلِ نو کی ذمہ داریاں“ ہے اس لیے آپ کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی معلومات اور تعلیم کا خلا جہاں سے بھی پُر ہوتا ہو پُر کریں، اس کے بغیر آپ مستقبل کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔ اگر ہمارے روایتی سسٹم اور ماحول سے یہ خلا پر نہیں ہوگا تو ہمیں اس کے لیے ایمرجنسی میں کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا اور اساتذہ کا پیچھا کرنا ہوگا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آج کے مسائل کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کیا ہیں، آج کے چیلنجز پر حضرات خلفاء راشدینؓ کی تعلیمات کیا ہیں، اور ہماری آج کی الجھنوں اور کنفیوژن پر ہمارا قدیم ماضی کیا کہتا ہے؟
اس تمہید کے بعد یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آج امت مسلمہ کو بیسیوں مسائل درپیش ہیں، ان میں سے آج کی گفتگو کے لیے دو تین کا انتخاب کر رہا ہوں۔
پہلی بات یہ ہے کہ سوسائٹی آج گلوبل ہو گئی ہے۔ سب سے پہلے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر عالمگیر معاشرہ سے ’’یا ایھا الناس‘‘ کہہ کر خطاب کیا تھا اور پھر اس کے حدود اور دائرے صفا پہاڑی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر منیٰ میں حجۃ الوداع کے خطبے میں بیان کیے تھے۔ آج سوسائٹیز عملاً‌ خلط ملط ہو رہی ہیں، اور جب معاشرے اور تہذیبیں آپس میں مکس ہوتے ہیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے۔ آج ’’سولائزیشن وار‘‘ کا نعرہ ہے، میں اس کو تھوڑا سا تبدیل کر کے ’’سولائزیشن مکس اپ‘‘ کہتا ہوں ۔ یورپی تہذیب، افریقی تہذیب، ایشیائی تہذیب، ہندو تہذیب، چینی تہذیب اور مسلم تہذیب سب مکس ہو رہی ہیں۔ آپ اس اختلاط کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات پر غور کریں کہ ہم نے ایک ہزار سال تک ہندو تہذیب کے ساتھ مقابلہ بھی کیا اور اس کے ساتھ گزارا بھی کیا ہے، ان کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے تشخص کی حفاظت بھی کی ہے اور ان کے اندر مکس ہونے سے اپنے آپ کو بچایا بھی ہے۔ اس کے بعد دو سو سال ہمیں مغربی تہذیب کا سامنا رہا جسے ہم قبول بھی کرتے جا رہے ہیں اور بعض باتیں رد بھی کرتے جا رہے ہیں۔ جبکہ ایک تیسری تہذیب بھی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور چند سالوں میں اس کا منظر واضح ہو جائے گا کہ چائنہ صرف روڈ نہیں بنائے گا بلکہ ساتھ اس کی تہذیب بھی آئے گی، صرف معاشی امداد نہیں دے گا بلکہ اس کی روایات بھی ساتھ آئیں گی۔ چنانچہ ہم ایک تہذیب بھگت چکے ہیں، دوسری تہذیب بھگت رہے ہیں اور تیسری تہذیب کا آئندہ سامنا ہے۔
اس تناظر میں کہ دنیا بھر کی تہذیبیں خلط ملط ہو رہی ہیں، میں ایک چھوٹا سا سوال عرض کرنا چاہوں گا کہ کیا ہم نے ہر تہذیب کی ہر بات کو قبول کرنا ہے، یا ہر تہذیب کی ہر بات کو رد کرنا ہے؟ ہمارے لیے نہ یہ ضروری ہے کہ ہر تہذیب کی ہر بات کو قبول کریں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہر تہذیب کی ہر بات کو رد کر دیں۔ تو اس کو پرکھنے کی ہمارے پاس اتھارٹی کون ہے اور معیار کیا ہے ؟ وہ اتھارٹی اور معیار جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور اسوہ حسنہ ہے۔ ہم اس معیار پر پرکھیں گے کہ کونسی بات قبول کرنی ہے اور کونسی بات رد کرنی ہے۔ اس ساری کشمکش میں ہمارے پاس معیار یہی ہے اور اسی بنیاد پر ہم نے دوسری تہذیبوں کی باتیں قبول کرنی ہیں، رد کرنی ہیں، یا ان کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے۔
اسی طرح معیشت کے باب میں دیکھ لیں کہ ہم کہاں تک پھنسے ہوئے ہیں، بلکہ جکڑے ہوئے ہیں اور اس جکڑ بندی میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے، یہ شکنجہ ڈھیلا نہیں پڑ رہا بلکہ سخت ہو رہا ہے، اس کا حل بھی ہمیں سیرت طیبہ سے تلاش کرنا ہے۔ جبکہ آج ہماری سیاسی صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے مسلم ممالک اکٹھے بیٹھ کر بھی اپنے غزہ کے ذبح ہوتے ہوئے مسلمان بھائیوں کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔ یہ ہمارے جکڑے ہوئے ہونے کی علامت اور ہماری بے بسی کی انتہا ہے کہ مسلم حکمران اکٹھے ہوئے اور مل بیٹھ کر مذمت کی لیکن کسی عملی کام کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہم معاشی اور سیاسی میدان میں جکڑے ہوئے ہیں اور تہذیبی طور پر نبرد آزما ہیں، اس لیے دوسری بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ آج کے حالات و ضروریات کے تناظر میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور تعلیمات مبارکہ میں اس کی رہنمائی تلاش کرنا اور اسے واضح کر کے اگلی نسل کو پیش کرنے کی عملی شکل سامنے لانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں