جذبہ حریت اک سیل رواں کی مانند ہے، راستے تراشتا ، رکاوٹیں عبور کرتا، پتھروںکو الٹتا پٹختا راستہ بناتا ،راہیں بدلتا چلا جاتا ہے، ا ور بالآخر وہی پتھر اس کے گہرے پانیوں کی تہہ میں ریت کے ذرات بن کر شناخت کھودیتے ہیں ۔یہ وسائل ،سہولت اور سرپرستی کا محتاج نہیں، اگر ایسا ہوتا تو پاکستان کبھی قائم نہ ہو سکتا ، افغان نصف صدی میں دو سپر طاقتوں کی ناک زمین پر رگڑنے میں کامیاب نہ ہوسکتے ، اور فلسطین اب تک قصہ پارینہ بن چکا ہوتا۔ اگر کوئی سمجھتا تھا کہ وہ شہیدوں کے لہو کا سودا کرکے کشمیر کی شاندار تحریک آزادی کو بیچ ڈالے گا تو وہ غلطی پر تھا ، زمانے بھر کی رسوائیاں ان سب کا مقدر بن چکی ہیں ، اگر کسی کو زعم تھا کہ جہاد کشمیرکی پشت میں چھرا گھونپ کر وہ دہلی سے واشنگٹن اور تل ابیب تک کی پشت پناہی سے تاحیات راج کرے گا تو جیل کی سلاخیں ہی اس کا مقدر تھیں ، وہ اورا س کا سارا ٹولہ تاریخ کے کوڑے دان میں سڑ رہا ہے ، جبکہ کشمیری اسی آن، بان، شان کے ساتھ اپنی جد وجہد آزادی کو اک نئے عزم سے آشنا کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔پہاڑوں میں شاہینوں کے نشیمن پھر سے آباد ہو رہے ہیں ، جنگلوں میں شیروں کے مسکن زندگی سے مانوس ہوتے دکھائی دے رہے ہیں،ویران وادیاں بندگان خدا کے رکوع وسجوداور نالہ نیم شب سے رونق افروز ہونے لگی ہیں ، کشمیر کے لالہ زاروں میں جہاد کا رنگ غالب آنے لگا ہے،تکبیر کے نعرے اور توحید کی خوشبو سےفضا معطر ہونے لگی ہے۔ وقت کے استاذ نے انہیں سجھا دیا ہے کہ آزادی سہاروں کی محتاج نہیں ہوتی ، اپنے دست وبازواور حکمت پر بھروسہ کرنا پڑتاہے،سلاخوں سے ٹکرانے اور زخموں سے چور ہو کر بھی اڑنے کی جرات کے سوا قفس سے رستگاری ممکن نہیں،وہ اس راز کو پا چکے ہیں ۔
مٹھی بھر مجاہدین کشمیر نے جن کی تعداد خود بھارتی فوج کے مطابق 150 سے زیادہ نہیں ، اپنی مہارت چابک دستی اور جنگی چالوں سے ایک جانب بھارتی افواج کو ناکوں چنے چبوادئے ہیں تو دوسری جانب کشمیر میں امن اور حالات معمول کے مطابق ہونے کا مودی کا بیانیہ خس وخاشاک کی طرح اڑا کر رکھ دیا ہے ۔ عالمی میڈیا بھی گواہی دے رہا ہے کہ کشمیر سرد نہیں ہوا ، جذبہ حریت کی آگ سینوں میں ہی نہیں دہک رہی بلکہ پہاڑوں ، وادیوں اور جنگلوں میں امید کے الائو روشن کر چکی ہے ۔عالمی جریدے گارڈین کے مطابق حریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں اور انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر نے بھارتی افواج کو حیران کر دیاہے۔ دی گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر ہے۔ کشمیری مجاہدین جدید ترین ہتھیاراور ٹیکنالوجی ستعمال کر رہے ہیں،ان کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں نے دشمن افواج کو چکرا کر رکھ دیا ہے ۔عسکریت پسند اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں اور ناہموار پہاڑی علاقے میں غائب ہو جاتے ہیں۔ دی گارڈین کے مطابق کشمیری مجاہدین اب بہت بہتر تربیت یافتہ ہیں اور جنگی ساز و سامان کی ترسیل کے لئے وادی کے اندر ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں، باڈی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے گھات لگانے کی فلم بناتے ہیں ،فوجیوں پر حملہ کرنے، غائب ہونے اور پھر دوسری جگہ حملہ کرنے کے لیے دوبارہ ابھرنے کے نئے حربے اپنا رہے ہیں۔
’’ہائی ٹیک ، سٹریٹجک؛کشمیری مجاہدین کے الیکشن سے قبل حملوں نے بھارتی افواج کے ہوش اڑادئیے‘‘کے عنوان سے 14استمبر کو برطانوی جریدے گارڈین نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے ۔ دہلی سے ہانا ایلس پیٹرسن اور سری نگر سے آکاش حسن کی اس چشم کشا رپورٹ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ۔’’ 9 جون کی شام، جب نریندر مودی کے تیسری بار بھارتی وزیر اعظم کا حلف لینے کےموقع پرسیکڑوں ہائی پروفائل مہمان دہلی میں جمع تھے، یہاں سے 400 میل (640 کلومیٹر) شمال میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے پہاڑوں میں ایک خونی معرکہ ہوا،ایک بس پر عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں 9 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے۔مقصد واضح طور مودی کو پیغام دینا تھا۔ریاسی کا یہ حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ کشمیر میں گھات لگاکر عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کاحصہ تھا ،جس میں 2020 سے اب تک تقریباً350 سے زیادہ شہری شہید اور 200 بھارتی فوجی مارے جا چکے ہیں۔بھارتی مقبوضہ کشمیر 1990 کی دہائی سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے حریت پسندوں کی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ حملوں کی یہ نئی لہر کئی دہائیوں سے جاری جدوجہد میں اب تک کی سب سے زیادہ تشویشناک اور تکنیکی طور پر جدید ترین ہے ، جس نے ماضی کی تمام عسکری تحریکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس پر قابو پانے کے لیے کوشاں تو ہیں لیکن ابھی تک بے بس وبے دست وپاہیں ۔ایک ایسے وقت میں جب اییک دہائی بعد پہلی بار (کٹھ پتلی ) انتخابات کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے ،مودی کی بی جے پی کشمیر کو عسکریت پسندی کے گڑھ سے ایک سیاحتی مقام” میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے ، حریت پسندوں کے حملوں میں حالیہ اضافہ مودی سرکار کے کشمیر میں امن لانے کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔(جاری ہے)