Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

نوجوان اہلِ علم کی تعلیمی و معاشرتی ذمہ داریاں

(گزشتہ سےپیوستہ)
اساتذہ اور طلباء چاہے وہ کالجز کے ہوں یا مدارس کے، یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے، جو ہم پوری نہیں کریں گے تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تو اپنے وقت پر پوچھیں گے ہی، لیکن تاریخ قیامت کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ وہ اس سے پہلے ہی ہم سے پوچھے گی کہ تم فورم پر کھڑے تھے تو اپنی ذمہ داری کہاں تک نبھائی تھی؟
اس کے بعد میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ قرآن مجید اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کے مسائل پر بات کی ہے۔ آج کی دنیا کے چیلنجز کے دو بڑے دائرے ہیں: ایک عملی اور دوسرا علمی۔
عملی دائرے میں آج کی دنیا کا سب سے بڑا سوشل ایشو ’’ہیومن رائٹس‘‘ ہے۔ پرسوں اس کا عالمی دن منایا گیا، میں نے بھی دو سیمینارز میں شرکت کی۔ ہیومن رائٹس باقی دنیا کے لیے تو معاشرتی چیلنج ہے جبکہ ہمارے خلاف بہت بڑا ہتھیار بھی ہے کہ جہاں کہیں ہمارا راستہ روکنا ہو تو ہیومن رائٹس کی لاٹھی ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں بھی مذہب اور دین کا راستہ روکنے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ہیومن رائٹس سامنے آتا ہے۔ میں اس ساری بحث کو چھوڑتے ہوئے صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ ہیومن رائٹس کے حوالے سے جناب نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ میں کیا رہنمائی ملتی ہے۔ بیسیوں حوالوں میں سے مثال کے طور پر دو حوالے عرض کرنا چاہوں گا۔
میں نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بھی ایک سیمینار میں یہ بات کہی کہ اسلام میں حقوق کا تصور ’’حقوق اللہ‘‘ اور ’’حقوق العباد‘‘ دونوں حوالوں سے ہے۔ قرآن مجید نے حقوق العباد کی بات کی ہے لیکن پہلے حقوق اللہ کی بات کی ہے۔ جناب نبی کریمؐ نے بھی حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی بات کی ہے، اور میں پورے شرح صدر اور اعتماد کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ حقوق الناس کی وضاحت جناب نبی کریمؐ نے جس تفصیل اور درجہ بندی کے ساتھ بیان فرمائی ہے، آج کا فلسفہ اس کی گرد تک نہیں پہنچتا۔ آج کے ہیومن رائٹس کی جو بڑی بنیاد ہے اس کا متن اقوام متحدہ کا ”انسانی حقوق کا چارٹر“ ہے، میرا حقوق کی بات کرنے والوں سے سوال ہے کہ اس میں حقوق اللہ کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ حالانکہ سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نے کیا ہے، سارے معاملات اس کے کنٹرول میں ہیں، تو اسے آپ نے کیسے نکال دیا؟ وہ کونسی اتھارٹی ہے جس نے حقوق اللہ کو حقوق کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید کی بیسیوں آیات میں سے ایک آیت اور جناب نبی کریمؐ کے سینکڑوں ارشادات میں سے ایک بطور مثال عرض کروں گا۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حقوق کے دس دائرے بیان کیے ہیں۔ جن میں پہلا حق اپنا بیان کیا ہے اور نو حق بندوں کے بیان کیے ہیں۔ والدین کا حق، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار پڑوسیوں، اجنبی پڑوسیوں، ساتھیوں، مسافروں اور ماتحت نوکروں اور غلاموں کے حقوق درجہ بدرجہ بیان فرمائے۔ چنانچہ حقوق بیان کرنے کی ترتیب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو حقوق العباد پر مقدم کیا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق کا تصور اور شعور دینے کے ساتھ اپنا حق حاصل کرنے کا حوصلہ بھی دیا کہ یہ میرا حق ہے اسے مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اس پر ایک چھوٹا سا واقعہ عرض کرتا ہوں۔ بخاری شریف کی روایت ہے۔ جناب نبی کریمؐ تشریف فرما تھے، مجلس جمی ہوئی تھی، آپؐ کے دائیں جانب حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیٹھے ہوئے تھے جو اس وقت تیرہ چودہ سال کے لڑکے تھے، اور آپؐ کے بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیقؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضور نبی کریمؐ کو کسی نے پیالے میں مشروب پیش کیا ، آپؐ نے کچھ نوش فرمایا اور کچھ بچا لیا ۔ حضورؐ کے اپنے بتائے ہوئے اصول کے مطابق دائیں والے کا حق مقدم ہے اور اس طرف حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن آپؐ کا جی وہ بچا ہوا مشروب حضرت صدیق اکبرؓ کو دینے کو چاہ رہا ہے، جو ساتھی بھی ہیں اور خسر بزرگوار بھی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا عبداللہ! حق تو تمہارا بنتا ہے لیکن تمہاری اجازت ہو تو اُدھر دے دوں؟ غور کریں کہ کون کس سے اجازت مانگ رہا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں