(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان اور بھارت کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں ، اس کے باوجود 1990 کی دہائی میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک شروع ہوئی ، ہزاروں کشمیریوں نے ہتھیار اٹھائے، باہر سے بھی کچھ لوگ اس میں شریک ہوئے ، جن میں سوویت افغان جنگ کے کچھ تجربہ کار مجاہدین بھی شامل تھے۔بھارت نے جواب میں شدید ترین فوجی آپریشن شروع کیا، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگے۔تاہم تحریک آزادی کو کبھی بھی مکمل طور پر کچلانہیں جا سکا۔ حالیہ عسکری کارروائیوں اور نئی عسکریت پسند شخصیات کے عروج نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ کشمیر اب بھی دنیا کے ان خطوں میں سے ہے جہاں سب سے زیادہ فوجی تعینات ہیں ، حالانکہ اگست 2019 میں، مودی حکومت نے یکطرفہ طور پر کشمیر سے وہ (نام نہاد) جزوی خود مختاری بھی چھین لی جو اسے آزادی کے بعد سے حاصل تھی ،اسے نئی دہلی کے مکمل کنٹرول میں لے لیا (لیکن وہ کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکا )۔اس کے بعد، مودی نے ہزاروں اضافی فوجی کشمیر بھیجے، مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ کر دیا اور لاکھوں کشمیریوں کی جسمانی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں لگا دیں۔ ہزاروں کو جیل میں ڈال دیا گیا اور مقامی صحافیوں کو حراست میں لینا معمول بن کر رہ گیا ، انہیں ہراساں کیا گیا۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں بہت سے لوگوں نے اس 5اگست کو ( اپنی فتح قرار دے کر ) جشن منایالیکن اسے کشمیر کے اندر اور پاکستان میں غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا۔مودی حکومت نے خطے کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی بنیاد پر کشمیر پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیا۔ اس کے باوجود ہندوستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مطابق کشمیریوں کی جنگ آزادی ابھی ختم نہیں ہوئی ،بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حملوں کی اس تازہ لہر کا براہ راست تعلق مودی حکومت کے اقدامات سے ہے۔ بھارتی فوج کے سابق افسر اور عسکری تجزیہ نگار پروین ساہنی کا کہنا ہے کہ ’’ بھارت کو اس وقت حریت پسندوں سے جس خطرے کا سامنا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔‘‘نومبر میں گھات لگا کر حملے میں 5 فوجیوں کی ہلاکت کے بعدبھارتی آرمی چیف، جنرل اوپیندر دویدی، جو اس وقت شمالی کمان کے سربراہ تھے، نے کہا تھا کہ یہ نئے عسکریت پسند انتہائی اعلیٰ تربیت یافتہ تھے۔جموں و کشمیر پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل شیش پال وید کا کہنا ہے کہ انتہائی تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ عسکریت پسند جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے بھی لیس تھے ۔گزشتہ دو سالوں میں جس طرح سے وہ ہماری افواج پر گھات لگا کر حملے کر رہے ہیں، اس سے بالکل ایک نئے رجحان کا پتہ چلتا ہے،” وید نے کہا۔ “مجھے حریت پسندوں سے نمٹنے کا کئی دہائیوں کا تجربہ ہے، لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہمیں کبھی بھی ایسی کسی چیز کا سامنا نہیں کرنا پڑا، یقیناً پچھلی دہائیوں سے مختلف صورتحال ہے۔ بھارتی فوج ،مقامی پولیس اور انٹیلی جنس کے پانچ افسروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ کشمیر کے یہ نئے ’’مجاہدین ‘‘ ماضی سے مختلف ہیں ، ماضی میں حملے کرنے والے جوش وجذبے سے بھرپور لیکن کم تربیت یافتہ نوجوان تھے جو اپنی کارروائیوں کی تشہیر سوشل میڈیا پر کرتے تھے ، لیکن یہ نئی کھیپ اعلیٰ تربیت یافتہ،جدید ترین ہتھیاروں سے لیس اور ان میں مکمل مہارت کی حامل ہے ، ان کے پاس ڈرون سمیت ہائی ٹیک آلات ہیں، اور بات چیت کے لیے ناقابل شناخت چینی ایپلی کیشنز استعمال کر رہے ہیں ، ( جنہیں اب تک شناخت نہیں کیا جا سکا)۔ ایک فوجی افسر کے مطابق ’’ہمیں ان عسکریت پسندوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ہمارے پاس یہ معلومات نہیں کہ وہ کون ہیں اور وہ ہمارے لیے کتنے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔”پولیس اور بھارتی فوجی افسران کے مطابق اس خطے میں صرف 150 عسکریت پسند سرگرم ہیں۔ان کی حکمت عملی ماضی سے یکسر مختلف ہے ، گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں، پھر غائب ہو جاتے ہیں اور کسی اور جگہ دکھائی دیتے ہیں اور وہاں حملہ کرتے ہیں،‘‘ شمالی کمان کے سابق سربراہ دیپندر سنگھ ہوڈا نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق نئے عسکریت پسند گروپوں جیسے ’ پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ، ریزسٹنس فرنٹ اور کشمیر ٹائیگرز سے ہے، جو کہ مودی کی طرف سے 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سامنے آئے تھے۔ بھارت کے لئے تشویش کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ جموں میں ہو رہے ہیں ،کشمیر کا واحد ہندو اکثریتی علاقہ ہے، بڑی حد تک عسکریت پسندوں کے حملوں سے بچ گیا تھا، تاہم نئے نیٹ ورکس قائم ہونے کے بعد یہ عسکریت پسندی کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ان جگہوں کو نشانہ بنانا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔جموں میںیہ خوف اس قدر قوی ہو گیا ہے کہ مودی کو ایک مئی مگرمتنازعہ مقامی سویلین ملیشیا قائم کرنا پڑگئی ہے ۔‘‘
بات سیدھی سی ہے ، جب کسی ایجنٹ کی سازشیں ناکام ہوجائیں ، پانسہ پلٹ جائے ، تو پھر رد عمل عقل وخرد کے معیار پر تو پورا نہیں اترے گا ، گالم گلوچ ، بد زبانی اور ملک دشمنی پر مبنی اعلانات اسی حالت جنون کا نتیجہ سمجھا جانا چاہئے ۔ دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ بھارتی افواج کے خلاف نفرت اورشورش انگیزی مسلمان قوم سے نکل باقی قومیتوں میں بھی پھیل گئے ہے۔حالیہ دنوں سکھوں اور ہندوؤں میں احتجاج کی کیفیت پائی جاتی ہےحریت پسندی مذہبی گروپوں سے نکل کر اعتدال پسنداور لبرل طبقات کوبھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ،آج تقریباً ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد مقامی ہے۔بھارتی سیکورٹی فورسز نے لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس لیے اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس آزادی کی جدوجہد کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم بھارتی سکیورٹی فورسز اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کرتی رہتی ہیں اور بھارتی میڈیا بھی بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور بھارتی فوج کی جانب سے دی گئی مضحکہ خیز کہانیاں پھیلاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے ،لوگ بھارتی ریاستی مظالم کے خلاف ہتھیار اٹھا رہے ہیں۔