Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

’’مولانا‘‘ تیری سیاسی پرواز سے جلتا ہے زمانہ

مولانا فضل الرحمن کی سیاسی پرواز بدستور جاری ہے، آئینی ترمیم کے بل کا اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے، لیکن ’’مولانا‘‘ نے حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ سے یہ بات منوائی ہے کہ ’’ان کے بغیر ریاست کا تصور مکمل نہیں ہوسکتا‘‘ بار، بار ’’مولانا‘‘ کے گھر جا کر ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے والے پی ٹی آئی کے اسد قیصر، شبلی فراز اور گوہر ایوب کو چاہیے کہ وہ اڈیالہ جیل کے قیدی نمبر804 سے کہیں کہ وہ جو جلسوں میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگایا کرتے تھے، قیدی نمبر804 کی سوشل میڈیا برگیڈ مولانا کے خلاف جو ڈیجیٹل دہشت گردی کا ارتکاب کیا کرتی تھی وہ اعلانیہ مولانا سے معافی مانگ کر کسی موقع پر تو بڑے پن کا ثبوت دینے کی کوشش کریں، سیکولر برگیڈ کے وہ خرکار کہ جو ’’مولانا‘‘ پر پیسے اور زمینیں لینے کے الزامات عائد کیا کرتے تھے جن کا دعویٰ تھا کہ مولانا چالیس لاکھ کی لسی پی گئے، وہ جو ’’مولانا‘‘ کو عورتوں کے حقوق کا اور کبھی اقلیتوں کے حقوق کا دشمن قرار دیا کرتے تھے، جنہیں ’’مولانا‘‘ کی ڈاڑھی اور پگڑی سے خدا واسطے کا بیر تھا، جو پاکستان کو ’’سیکولر‘‘ سٹیٹ بنانے کے لئے مرے جارہے تھے، جو ’’مولانا‘‘ کے دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دیا کرتے تھے۔ انہیں اگر اس موقع پر ’’شرم ورم‘‘ آرہی ہو تو بڑی بات ہے، لیکن اگر اب بھی ’’شرم‘‘ سے دور ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ حکمرانوں اور اپوزیشن کو مولانا کے گھر کے چکر لگانے سے روک لیں لیکن اگر وہ یہ بھی نہ کر سکیں تو پھر انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔
یہ خاکسار تو 1991ء سے مولانا فضل الرحمن کی ذہانت و متانت، عبادت و ریاضت اور سیاسی پرواز کا دل سے قائل ہے، جنہیں اب یقین آیا ہے، اللہ کرے کہ ان کا یہ ’’یقین‘‘ دوبارہ کسی سیاسی یا ’’لفافے‘‘ کے دبائو کا شکار نہ ہو جائے، مولانا فضل الرحمن نے ثابت کر دیا کہ ان کی سیاست اقتدار یا ڈالروں کے نہیں بلکہ ’’نظریات‘‘ کے تابع ہے وہ اگر آئینی بل کی حمایت کے عوض دولت چاہتے تو اربوں روپے ان کے قدموں میں پڑے ہوتے، اقتدار میں شراکت چاہتے تو مرکز اور صوبوں کی وزارتیں اور گورنریاں ان پر نچھاور کر دی جاتیں، مگر وہ تو عدلیہ میں اصلاحات کے خواہشمند ہیں، دینی مدارس و مساجد کا تحفظ اور سود کا خاتمہ چاہتے ہیں، اگر یہ ‘‘نظریات‘‘ نہیں تو پھر ’’نظریات‘‘ کس بلا کا نام ہے؟ سیاست دانوں کا اتوار بازار لگا ہوا ہے، لیکن ’’مولانا‘‘ کی سیاسی پرواز کا کوئی ثانی نہیں، کاش کہ دینی مدارس کے علماء اور مذہبی جماعتوں کے صلحاء اپنی طاقت کو پہچانیں، جس دن مذہبی طبقات فرقہ وارانہ لڑائیوں اور زندہ، مردہ کے بحث مباحثوں سے نکل کر بھرپور اتحاد کے ساتھ میدان عمل میں نکل پڑے۔ رب محمدﷺ کی قسم پاکستان میں نظام اسلام کے نفاذ کو دنیا کی کوئی طاقت بھی روک نہیں سکے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’مولانا‘‘ کی صرف آٹھ سیٹیں قومی اسمبلی اور پانچ سینٹ میں ہیں۔ بظاہر یہ بات درست بھی ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا کی سیاسی پرواز نہ آٹھ کی اور نہ ہی پانچ سیٹوں کی محتاج ہے۔ ’’مولانا‘‘ کی سیاست تن تنہا ایسی کئی اسمبلیوں پر بھاری ہے۔ ’’مولانا‘‘ کے اس بڑے سیاسی قد کے پیچھے نہ تو ہزاروں ایکڑ زمینیں، مربعے اور باغات ہیں اور نہ ہی کروڑوں ڈالر کا بنک بیلنس، ’’ہاں‘‘ مولانا کی سیاسی پرواز کے عروج کا اصل راز یہ ہے کہ ’’مولانا‘‘ تہجد میں مناجات کے ذریعے اپنے پاک پروردگار سے مانگنے اور خوب مانگنے کا عادی ہے۔’’مولانا‘‘ کی ’’عزت‘‘ سرمایہ داری، اقتدار اور ڈھول ڈھمکوں کی محتاج نہیں، بلکہ یہ ’’عزت‘‘ رب تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔
جسے سارے سیکولرز، سارے لبرلز، سارے ملحدین و حاسدین الٹے لٹک کر بھی چھین نہیں سکتے۔ ’’مولانا‘‘ کی سیاست آکسفورڈ یا کسی امریکی یونیورسٹی کی محتاج نہیں، بلکہ ’’مولانا‘‘ تو حضرت شیخ الہندؒ کی سیاست کا وارث ہے، ان اکابرین نے برصغیر سے انگریز سامراج کو نکالنے کی جدوجہد کی تھی، ویسے ہی ’’مولانا‘‘ پاکستان کی سیاست کو جھوٹ، فراڈ، دھوکا بازی اقربا پروری اور انگریزی باقیات سے پاک کرنا چاہتا ہے، سیاست سے کرپشن کو نکالنا چاہتا ہے۔ ’’سود‘‘ کا خاتمہ کرکے معیشت کو پاک کرنا چاہتا ہے، یہ بات حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن اسلحے کے ذریعے پاکستان میں نظام اسلام کے نفاذ کے مخالف ہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وہ یہاں ہر قیمت پر نظام اسلام کے نفاذ کے خواہاں ہیں، وہ اسمبلیوں کو طاقتوروں کی غلامی سے نکال کر پاور فل بنانا چاہتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوان مولانا کی سوچ کے مطابق پاور فل ہوگئے تو کیا پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہو جائے گا؟ اس سوال کا جواب کبھی ’’مولانا‘‘ سے ملاقات ہوئی تو ان سے پوچھ کر قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا۔ بہرحال ابھی تو ’’مولانا‘‘ کی سیاسی پرواز کے عروج کو انجوائے کرنے کا وقت ہے، سو انجوائے کیجئے۔
اس خاکسار کو نہ تو حکومت سے کوئی امید ہے، نہ اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ سے کوئی غرض، پاکستان اس وقت جس سنگین معاشی اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے، اللہ کے فضل و کرم کے سوا اسے اس معاشی اور اخلاقی بحران سے کوئی نکال نہیں سکتا، حکمرانوں نے ہمیشہ امریکہ اور اس سے منسلک دنیا کو راضی رکھنے کی کوششیں کیں، جب تک حکمرانوں، سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اللہ کو راضی رکھنے کی نہیں بنتی، اس وقت تک پاکستان سنگین حالات کا شکار رہے گا، حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ’’مولانا‘‘ کے وجود کو صرف سیاسی دوا دارو اور مشکلات کے حل تک ہی محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے مالک حقیقی کو راضی کرنے کا نسخہ بھی مولانا فضل الرحمن سے پوچھ کر اسے قوم پر اپلائی کریں، مجھے امید ہے کہ اس کے بعد ’’رب راضی تے سارا جگ راضی‘‘ کی صدائیں ضرور گونجیں گی۔

یہ بھی پڑھیں