Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

مولانا کے سیاسی تدبر کا امتحان ابھی باقی ہے

مولانا نے فرمایا کہ ’’سیاستدانوں کو بااختیار بنایا جائے‘‘اور انہیں فری ہینڈ دے دیا گیا ،عدلیہ سے کھیلیں یا مقننہ سے ،اسمبلیوں کوکھیل تماشہ بنائیں یا عوام کے جذبات و احساسات سے کھل کھیلیں،انہیں بے وقوف سمجھیں یا نرا چغد ۔عوام کے دیئے ہوئے مینڈیٹ کو کاروبار اور لین دین کاذریعہ بنائیں یا سیاسی ،سماجی اور معاشی کھلواڑ کا شاخسانہ، یہ سب سیاستدانوں کے اختیار میں ہے اور جنہیں کل تک مقتدرہ کے القابات سے نوازا جاتا رہا وہ اوٹ میں رہ کر تماشہ دیکھیں۔یہ ساری پتلیاں، اور ان کے دھاگے ان کی انگلیوں سے بندھے رہیں جیسے چاہیں ،جتنا چاہیں ان کو ناچ نچائیں اور مولانا کے ہاتھ تو سارا ہی اختیار آگیا اور کون ان کے آستانے پر سجدہ ریز نہیں ہوا اور کس کس کو انہوں نے ناک سے لکیریں نہیں کھنچوائیں ،بے حمیتی کے کتنے جنازے تھے جو مولانا کی خانقاہ سے نہیں نکلے ۔
مولانا کے سیاسی تدبر کو سلام کہ جس نے سریئے والی گردنوں کو خم کر دیا ان کے تکبر کو ملیا میٹ کردیا۔بہرحال مولانا نے خود بھی ایک نیا سیاسی جنم لیا ہے ،با اصول سیاست کا نیا باب رقم کیا ہے آئین کی پاسداری کی تاریخ کا نیا عہد نامہ تحریر کرنے کی سعی کی۔اب دیکھیں ان کی تپسیا کا حاصل قوم کو کیا ملتا ہے ۔ مولانا متعدد بار مینڈیٹ چوری کے بیانیئے کی نفی فرماچکے ہیں بلکہ یہاں تک کہہ دیاکہ’’اقتدار جن کا حق ہے ان کے حوالے کردیا جائے ‘‘لیکن وہ،جن کو چوری کا مال غبن کرنے کی ندامت کبھی لاحق نہیں ہوئی وہ مولانا کی سیاسی بصیرت کے ذریعے اپنے ارمان پورے کر نے پر تل گئے۔مولانا ایوانوں میں چلنے والی سرد و گرم ہوائوں سے بہت لڑچکے ،آئین کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ وں سے بھی بہت الجھ چکے ،اب ان کی عمر کا تقاضہ یہی ہے کہ سنجیدہ مذاکرات کا ڈول ڈالیں اور ثابت قدمی کی راہ پر چلتے رہیں کوئی طاقت ان کے قدموں کو اکھیڑنے نہ پائے ، اپنی مراعات ہوں کے اپنے دوست و احباب سب کے مفادات کو اپنے راستے کی دیوار نہ بننے دیں ۔جوراستہ چنا ہے اس سے پیچھے ہٹنے کی کہیں کوئی گنجائش نکالنے نہ پائیں ۔پس دیوار بہت ساری سرگوشیاں، سازشیں اور ریشہ دوانیاں سر پٹخنے میں لگی ہیں ۔بہت حرص و آز کے مارے آپ کی صفوں میں ابھی موجود ہیں جو اپنی خواہشات کی خاطر آپ کی بصیرت کے سودے کرنے کی ٹوہ میں ہیں ۔ان کی کو ئی آرزو بر نہ آنے پائے۔بہی خواہ بن کر چائے کی پیالیوں میں طوفان اٹھانے والے بہت ہیں ،وہ دن رات سازشوں کے تانے بانے تیار کرنے میں مگن ہیں ،ان کے ارمان پورے ہوگئے تو جمہوریت بے آبرو ہوکے رہ جائے گی،جمہوری ادارے بے وقعت ہوجائیں گے۔آپ کے آدرشوں اور ہمارے لفظوں کی حرمت لٹ جائے گی۔پھر لوگ ہنسیں گے کہ داعیان دین پھر جمہوریت کی راہ کھوٹی کرنے کے ذمہ دار ٹھہرے۔ہم پہلے ہی طعن وتشنیع کے تیروں سے چھلنی ہیں ۔ محراب و منبر کے وارٹ پہلے ہی دہشت گردی کے داغ سے آلودہ ہیں ۔
حسین ؓ کے نانا پر لہو کے چھینٹے اڑانے والے آج گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔مولانا !ہم کچا پکا ایمان رکھنے والے آپ سے ہی آس لگائے ہوئے ہیں کہ جب تاج و تخت نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے قلع قمع کی ضرورت پڑی تھی تو اس وقت بھی وہ آپ ہی کے اجداد تھے جنہوں نے تن من دھن کی بازی لگائی اور جیت گئے،سرخرو ہوئے ۔آج پھر لاالہ کے نام پر حاصل کئے جانے والا پاک وطن انہیں کی دسیسہ کاریوں کے نشانے پر ہے ۔مولانا کو اپنا سیاسی قبلہ درست رکھنا ہوگا ،اپنی عزت ووقار کی قیمت اتنی رکھنا ہوگی کہ ملک کا اسلامی نظریاتی تشخص بھی قائم رہے ،دینی سیاسی جماعتوں کا دبدبہ بھی باقی رہے اور ملکی سالمیت پر آنچ کی ڈگڈگی بجانے والوں کے عزائم بھی خاک میں مل جائیں ۔ گوآئین کے ساتھ کھلواڑ اور عدلیہ میں اکھاڑ پچھاڑ کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ، بدنیتی کے بادل ابھی بھی اداروں سر پر منڈلا رہے ہیں۔
حکومت ایک بہت بڑی ہزیمت کے باوجود بھی اوچھے ہتھکنڈوں پر تلی ہوئی ہے ،عدلیہ کاوقار دائو پر لگانے کا سودا ابھی تک حکمرانوں کے دل ودماغ میں سمایا ہوا ہے ،اتنی بڑی شکست کے باوجود وہ کسی ایڈونچر کی ٹوہ میں ہیں بھس بھرے دماغوں والے وزیر مشیر ندامت کے پسینے سے شرابورابھی بھی زعم بد سے نکلنے نہیںپائے ۔ اسے انا پرستی سے تعبیر نہیں کہا جاسکتا ،مردہ ضمیری کہا جاسکتا ہے ۔لاڈلا جو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا اسے سگ مقتدرہ نکما اور نالائق کہہ کر اپنی خفت مٹانے کی سعی میں مبتلا ہے یہ وہ ڈھولہے جو پی ٹی آئی نے گلے سے اتارا تو مقتدرہ نے اپنے گلے میں ڈال لیا ۔نہ سیاستدان ، نہ سیاسی کارکن ،قوم پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ یہ بھی نجی چینلز پر بیٹھ کر پیشین گوئیاں کرے گا۔اس سے برا وقت بھی کبھی سیاست پر آیا تھا ؟چور سادھ بننے کے چکر میں اور سادھ سرے سے ہی غائب، واہ ہماری قسمت!

یہ بھی پڑھیں