Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

نئی رستاخیزی کا در واہونے کوہے

گلیلیو نے دعویٰ کیا کہ ’’زمین اورمتعدد اور سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں‘‘ تو چرچ نے اس پر کفر کافتوی لاگو کردیا اور اسے گھر کے اندر محصور کردیا گیاوہ نو سال قید تنہائی میں گزارنے کے بعد دار فانی سے رخصت ہوا ۔یہ سترہویں صدی عیسویں کی بات ہے،مگر روز ازل سے باطل سچ سے ستیزہ کار رہا ہے اور ابد تک رہے گا ۔یہ مبازرت کبھی نہیں تھمی ۔
نہ تھمے گی ۔کوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر ناحق پر مہر تصدیق ثبت نہ کر سکا ،نہ کوئی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ کو صحرائے عرب کی تپتی ریت پر بھاری پتھروں کے نیچے لٹا کر کلمہ سے انحراف کراسکا۔ باطل کی اپنی رسمیں ہیں اور حق کے اپنے رواج ۔
ہماری اس دھرتی پر سیاست ایسے ہی دودھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے ،جو حکومت میں ہوتا ہے وہ حق کہلاتا ہے اور جو اپوزیشن میں ہوتا ہے وہ باطل سے تعبیر کیاجاتا ہے ۔ملک ایک ،مذہب ایک ، کلمہ ایک اور ووٹ ڈالنے والی عوام ایک ،اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں ٹکڑوں پر اکٹھے ہوں تو سیاستدان بھی ایک، مگر اسمبلی فورم میں حق و باطل کی جنگ ، کہ لگتا ہے دو جنگجو قبیلےبرسر پیکار ہوں ۔
تہذیب و تمدن کے تقاضے پس پشت، مذہبی اور دینی رشتے تک بدزبانی اور ہذیانی کی سان پر چڑھا دیئےجاتے ہیں ،عمروں اور صنفوں تک کا فرق مٹ جاتا ہے۔ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں ۔جسے ہم اپنا بدترین دشمن گردانتے ہیں وہ چاند پر پہنچ گیا ہے ،ہم ابھی تک زمینی مناقشے طے نہیں کر پائے کہ سینکڑوں پھلدار درخت اور لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین پر کالونیاں تعمیر کرکے کسان کو محرومیوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور اہل زر کی تجوریاں ابھی بھی منہ پھاڑے منتظر ہیں کہ اورکس کس کو بےگھر اور بے خانماں کرکے اپنے کلیجے ٹھنڈے کر نے ہیں۔سیاست کھیل کا میدان ،وکٹیں کون زیادہ گراتا ،شطرنج کی بساط پر ،کس کس نے کیاکیا چال چلنی ہے ، گھوڑے ،فیل اور پیادے کس کس سمت دوڑانے ہیں ،بادشاہ اور وزیرکیا کچھ برباد کرکے دم لےگاکہتے ہیں کھیل ابھی ختم نہیں ہوا،باقی سارے سیاستدان ہانپ گئے اور مولانا کی بھی سانسیں پھول گئی ہیں ،ذرا دم لے لیں پھر نئے سرے سے میدان سجے گا مگر سپیکر قومی اسمبلی نے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اس کے بارے تاریخ میں نیا باب رقم ہوگا ۔الیکشن کمیشن اور جوڈیشری ایک دوسرے کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہوئے ہیں گھمسان کا رن پڑنے کے درپے ہے کسے معلوم بیچ میں سے کیا نکلے گا۔
پہلے ن لیگ سپریم کورٹ پر دندناتی ہوئی چڑھ جاتی تھی اب اس نے اپنے سپیکر کے ذریعے عدالتوں کو بے آ برو کرنے کی ٹھانی ہے گویا کہ مولانا کو چیلنج دے ڈالا ہے کہ آپ نہ سہی تو کوئی اور سہی راستہ تو نکالنا ہی ہے کہ ہم نہ رہے تو باطل سیاسی دھڑے کو بھی اقتدار کے سنگھاسن پر نہیں بیٹھنے دیں گے بھلے مارشل لاء ہی کیوں نہ آجائے۔اب نیتوں اور بدنیتوں کے راز طشت ازبام ہوں گے ۔تگنی کا ناچ نچانے والوں اور ناچنے والوں کے بیچ رن پڑے گا ۔ناک سے لکیریں کھنچوانے والوں اور لکیریں کھینچنے والوں کے درمیان مڈ بھیڑ ہوگی ،حق اور باطل کا فیصلہ ہوگا۔یعنی گند پر گند اچھلتا چلاجائے گا۔ سارے بیٹھے تماشے پر تماشا دیکھیں گے اور وہ جو عدلیہ کو مضبوط بنانے کا عزم لئے آیا تھا وہ اپنی عفت دری کی تاریخ آپ لکھے گا۔
سنا ہے اس کا ضمیر اسے راتوں کو سونے نہیں دیتا۔وہ بھی حق اورباطل کی تلاش میں لگتا ہے ۔وہ گلیلیو بننے کی سوچتا ہے تو ڈر جاتا ہے ۔سنت ابراہیمی اور سنت بلالی بھی اس کے بس کی بات نہیں۔پھر فیصلہ کون کرے گا ؟ اسٹیبلشمنٹ بھی بیٹھی تماشا دیکھ رہی ہے ،مقتدرہ کو بھی اپنے شہیدوں کے جنازے اٹھانے سے فرصت نہیں۔ پھر آخر ن لیگ کس کس در پر دستک دے گی ؟اہل دانش ورطہ حیرت میں ہیں کہ یہ بنی نوع آدم کا ملک ہے یا بھیڑ بکریوں کی چراہ گاہ کہ جس میں وقفے وقفے بعد بھیڑیئے چھوڑ دیئےجاتے ہیں ۔تہذیب اور تمدن کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا۔
سیاستدانوں کا اعتبار اٹھ چکا ،اسٹیبلشمنٹ کا وقار مجروح ٹھہرا،ایک مقتدرہ ہے جس کی نیک نامی پر اتنی انگلیاں کبھی نہیں اٹھی تھیں بظاہر معاملات سے دست کش مگرسب اس کو اپنی جنگ میں استعمال کرنے پر آمادہ ۔ ہوناکیا ہے یہ تو رب جانتا ہے یا سپیکرقومی اسمبلی یا الیکشن کمیشن جو ایک نئی رستاخیز کا راستہ ہموار کرنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔واللہ اعلم

یہ بھی پڑھیں