Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

زنجیر نفس لکھتی رہی دردکی داستاں

ہمیں آئینہ دیکھنے کی عادت نہیں اور اب تو ہم میں یہ تاب ہی نہیں کہ آئینہ دیکھ سکیں ،وہ ہمارے ابا تھے جو ہمیں آئینے دکھاتے دکھاتے قبروں جاسوئے ،مگر جاتے جاتے وہ ہمیں یہ بتلا گئے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا ؟ تمہارے آگے پیچھے تنگنائے ہی تنگنائے ہیں ،وہ جتنے باخبر تھے ہم اتنے ہی بے خبر ہیں ،انہوں ہمیں ہمارے مستقبل کے سب نقش و نگار دکھا دیئے ،وہ حرف وصوت کی حرمت سے آشنا تھے ،ہمیں آنے والے ایک ایک پل کی خبر دے دی ،وہ صاحبان کشاف تھے ،وقت کی نبض پر ان کی انگلیاں تھیں وہ آنے والی ایک ایک ساعت کے آمین تھے تبھی تو مرشدآغاشورش کاشمیری نے عشروں پہلے پیش بینی فرمادی تھی ،ان کی پیشین گوئیاں حق سچ ثابت ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا تھا جس ماضی نے ہمیں بنایا تھا،وہ ماضی ہمیں دیکھ رہاہے ،جس تاریخ نے ہمیں ڈھالا تھا وہ تاریخ ہمیں تک رہی ہے ،ہم حال کے تماشائی ہوکر رہ گئے ہیں ،ہمیں مطلقاً یاد نہیں رہاکہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے ؟
کیا ہم اسی دن کے لئے ایک ملت کی حیثیت سے کرئہ ارضی کے جغرافیہ پر نمودار ہوئے تھے ؟ وہ نسلیں جو ہمیں اتنی بڑی اسلامی سلطنت دے کر اللہ کو پیاری ہوگئیں قبروں میں کیا سوچتی ہوں گی ؟ وہ نسلیں جو مستقبل کے لئے جوان ہورہی ہیں کیا کہیں کی کہ ہمارے اسلاف نے اپنے سیاسی تجربوں کے لئے ہمیں پیدا کیا تھا؟ اس قوم کو یہ صلہ دیا جارہا ہے جس قوم نے اس ملک کے لئے اپنے بے شمار نقش ونگار مٹاڈالے،اپنے خط و خال بگاڑ لئے ،اپنا نصف جسم کاٹ ڈالا،جس کا بڑا حصہ مال ومنال اور اہل و عیال تیاگ کر یہاں پہنچا اور اس تمنا میں پہنچا کہ جس گھر کو اپنے لہو سے بسا رہے ہیں وہ جنت ہوگا ،وہاں ان پر سیاست کے تجربے نہیں کئے جائیں گے۔ انہیں رہنمائوں کی ڈار اپنی عادتوں کے خنجر سے ہلاک نہیں کرے گی، لیکن آئو ایک لمحہ شرم سے سر جھکا لیں کہ ہم کہاں سے چلے تھے کہاں آ پہنچے؟ ہم شطرنج کے مہرے ہوگئے ۔کھلاڑیوں نے ہمیں فریب دیئے۔ سزائیں دیں ،شہ مات کیا۔ہم تاش کے پتوں کی طرح بٹتے اور ہارتے رہے ۔ہم ان پھولوں کی طرح ہوگئے جو شاخوں سے توڑ لئے جاتے ہیں، ان سے سہرا بنایا جاتا ہے یا قبروں پر بکھیر دیئے جاتے ہیں، پہلے ہم راہنمائوں کے گلے کے ہار تھے ، اب اپنی حسرتوں کے مد فن کے پھول ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں تو سوچتے نہیں، سوچتے ہیں تو اٹھتے نہیں ،ہم ان درویشوں کی مثل ہیں جو مزاج خانقاہی ہی میں ہمہ اوست کی تسبیح پڑھتے ہیں ہم نے معجزوں کے سہارے زندہ رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
ہم نے ایک ذہنی فیتہ اٹھا رکھا ہے کہ جو نتیجہ سامنے آئے اس کو ماپ کر صحیح قرار دے دیتے ہیں ۔ہم اس برہمن کی طرح ہیں جو لحاف پر سجے بتوں کی پوجا کرتا ہے ۔ہمارا دماغ ہے لیکن سوچتا نہیں۔ہمارا دل ہے مگر دکھتا نہیں ۔ہماری نگاہ ہے لیکن دیکھتی نہیں۔پاکستان ایک مفلوک الحال قوم کا ملک ہے ، اس کا اندازہ لاہور ،کراچی ،پشاور اور راولپنڈی کے افراد سے نہیں کیا جا سکتا۔ مٹھی بھر، انسان جو مختلف دوائرمیں اس کا خون چوستے رہے ہیں اور چوس رہے ہیں، اس کے نمائندے یا ترجمان نہیں اور نہ سنگ مرمر کی ان چند اینٹوں پر اس قوم کی ضرورتوں کا تاج محل تعمیر کیا جا سکتا ہے ۔قوم کو اخلاق اور توازن کی راہ پر ڈالنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم معاشرے کے اس خطرناک روگ کا تیر بہدف علاج دریافت کریں جومعاشی سرطان پیدا کرکے ایک عظیم قوم کی اخلاقی موت کاسبب بن رہا ہے ۔
ہمیں چاروں سمت سے بحرانوں نے گھیرا ہوا ہے ۔سیاسی بحران، معاشی بحران، آئینی بحران،عدالتی بحران قانونی بحران، تعلیمی بحران، معاشرتی بحران اور اخلاقی بحران۔ہم ان بحرانوں کے بیچ زندگی کرنے پر مجبور ہیں ۔کوئی ہمارا پرسان حال بننے والا نہیں۔نہ سیاستدان، نہ حکمران ،نہ ملا نہ واعظ اور نہ مصلح۔ہم تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔طارق جامی مرحوم نے کہا تھا :
ڈوبا ہوں تو کس شخص کا چہرہ نہیں اترا
میں درد کے قلزم میں بھی تنہا نہیں اترا
ڈوبنے والے ڈوب گئے ہمارے تو اجسام کو شائد کوئی بحر بھی قبول نہ کرے کہ اپنی ہی مٹی کے ٹھکرائے ہوئے لوگ ہیں ۔
اپنے لہو کی آگ ہمیں چاٹتی رہی
اپنے بدن کا زہر تھا ساغر میں کچھ نہ تھا
زنجیر نفس لکھتی رہی درد کی آیات
اک پل کو مگر سکھ کا صحیفہ نہیں اترا

یہ بھی پڑھیں