ہمیں کمرے میں بٹھانے والا نہ جانے کمرے کا بلب روشن کرنا کیوں بھول گیا تھا ، شاید قدرت کی طرف سے مجھے ایک صاحب علم کے چہرے کا نور دکھانا مقصود تھا ۔وہ عصا ٹیکتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے تو ماحول ہی تبدیل ہوگیا ۔نہ فخر نہ کبر اور نہ بڑائی ، شاید یہ سب کچھ وہ اندر ہی رکھ آئے یا پھر ایسا کچھ ان کی زنبیل حیات میں تھا ہی نہیں ۔وقت کا احساس اتنا کہ کوئی بھی ادھر ادھر کی گفتگوکرنے کی بجائے بلا تمہید زندگی کے سفر کی کتاب کھول دی جس کے ہر صفحے پر نابغہ روزگار مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویر چسپاں تھی ۔پھر ایک ایک کرکے برصغیر پاک و ہند کے کئی نابغوں کا ذکر کیا اور آب زر سے دھلے الفاظ میں ان کی زندگی کے خیر کے پہلوں کا ذکر کیا اور کہیں بھی مبالغہ آرائی یا ذاتی پسند و ناپسند کا شائبہ تک نہیں ہونے دیا، یہاں تک کہ ہمارے انگریزی کے پروفیسر جناب جلیل صدیقی کا ذکر والہانہ انداذ میں پیش کیا کہ جیسے خود کار کیمرے سے تصویریں باہرآرہی ہوں ۔
تین روز قبل غلام طاہر راناپبلشرکے نوجوان مالک نے گیارہ کتب پر مشتمل ایک گٹھڑی مجھے لاکر دی تھی جو ساری پروفیسر مختار احمد ظفر کی کاوشوں کا ثمر تھیں اور یکے بعد دیگرے تمام کتب کے وہ اوراق میری بصارت کا سامان بنے جو شاید اہم ترورق تھے ، جنہیں پڑھتے ہی رانا مومون طاہر سے پروفیسر صاحب سے ملاقات کاوقت لینے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ جوانی ایک عشق اور سیاسی سرگرمیوں کی نذر ہوئی، بڑھاپا بے ثمر جاتا اگر ابوالکلام کے عشق میں گھائل ڈاکٹر مختار ظفر سے ملاقات نہ ہوتی۔
ابا حافظ عبدالکریم احراری علیہ الرحمہ کا امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ سے خصوصی تعلق تھا شاید یہی تعلق شاہ صاحب کو کوٹ تغلق شاہ (العروف کوٹلہ تولے خان )کھینچ لایا ۔ابا بتایا کرتے تھے کہ جونہی سردیاں قریب آتیں سید عبدالمنعم ابوذر بخاری کے پیغامات وصول ہونا شروع ہوجاتے کہ حافظ صاحب جوں جو ں سردی بڑھ رہی ہے ملتانی سوہن حلوے کی طلب بھی فروتر ہوتی جارہی ہے اور پھر میں ملتانی سوہن حلوہ لئے امرتسر پہنچ جاتا۔
ابا کو خانوادہ امیر شریعت اور مولانا ابو الکلام آزاد کی شخصیت سے والہانہ محبت تھی جو آخری سانس تک قائم و دائم رہی اسی لئے مجھے حفظ قرآن کے لئے گھر سے میلوں دور داربنی ہاشم میں قائم مدرسہ معمورہ میں داخل کیا جو شروع میں ہمارے گھر سے اگلی گلی میں تھا۔مولانا ابوالکلام سے الفت و وارفتگی میں نے ابا حضور سے ورثے میں پائی مگر ان کے ارتحال کے بعد کوئی ایسا نہ رہا جس سے میں آزاد رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر خیر سن پاتا۔ کبھی کسی نے اس آتش فشاں کا ذکر کیا بھی تو پاکستان دشمن کے حوالے سے جو مجھے کئی کئی دن کے لئے پراگندہ حالی میں مبتلا کردیتا ۔
میرے پاس مولانا ابوالکلام کو یادرکھنے کے دوہی راستے رہ گئے ایک غبار خاطر مولانا کے خطبات اور پھر 2009 ء میں شائع ہونے والی ڈاکٹر سید عبداللہ کی کتاب ابوالکلام آزاد امام عشق و جنوں ۔یا پھر کبھی کبھار پروفیسر عزیزالرحمان بلوچ کی ابوالکلام بارے شگفتہ بیانی اور بس۔
حالت یہ ہے کہ لوگ آزاد پر گفتگو کرتے ہوئے لہجہ دھیما رکھتے ہیں مگر ڈاکٹر مختار ظفر دبنگ لہجے اور واشگاف الفاظ میں مولانا آزاد کے افکار
ونظریات کا ذکر کرتے ہیں انہیں اپنے ممدوح کے سیاسی نکتہ نظر سے جہاں اختلاف ہو وہاں بھی ایسی دلیل کا سہارا لیتے ہیں کہ بات بری نہیں لگتی بلکہ کم اچھی لگتی ہے ، پروفیسر صاحب کی صورت میں ابوالکلام کو ایک مفت کا پاسدار ملا ہوا ہے جو ان کی ہر بات کو بلاترد، دروغ مصلحت آمیز کے بغیربیان کردینے کایارہ رکھتا ہے ، اسی لئے کہتے ہیں مولانا کے تصورات و کردار کے حوالے سے میرے اپنے خیالات ہیں ، میں نے ان کے رشحات قلم یا ان کے بارے میں اہل نظر کی نگارشات کا مطالعہ کرتے ہوئے انہیں جیسا پایا لکھ دیا ہے، ان کا تبحر علمی ،وجدان اور تدبر، صوفیا کے بارے میں ان کے خیالات، ان کے مزاج کی بوقلمونی ، فنون لطیفہ ، شعرو ادب اور سوشل سائنسزسے ان کالگائو ، تحقیق و تدقیق میں ان کی دوررس نظر، حریت انسانی کی علمبرداری ، ہمہ قسم کے تعصبات سے گریزپائی ۔ یہ سب رویئے ان کی مختصر تحریروں سے بھی منعکس ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر مختار ظفر نے مولانا ابوالکلام کی تحریرو تقریر کے سارے وصف اپنی کتاب ابوالکلام آزاد متاع گم گشتہ میں جمع کردیئے ہیں ۔یہ ان سے میری پہلی ملاقات تھی ، وہ عصا کے سہارے بیٹھے ہوئے بار بار کروٹ لیتے تھے ، پیرانہ سالی کی تمام تر تکلیف کے باوجود وہ روانی سے گفتگو جاری رکھے ہوئے تھے مگر میرے اندر بار بار ایک احساس جرم سراٹھاتا تھا جس کی میں اور زیادہ تاب نہ لاسکا گونور کا ہالہ اپنی ضوفشانی دکھانے میں ذرہ بھر کمی دکھانے پر مائل نہیں تھا۔یہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں سارے قومی اعزازات دید یئے جائیں تب بھی ناکافی ہوں ، مگر یہ ایک کنج تنہائی میں ایسی کسی غرض کے بغیر خود کو بصیرت پھیلانے کے کام میں کھپائے ہوئے ہیں۔ان کا یہ علمی سفر ہی ان کے لئے وسیلہ ظفر ہے۔