مرحومہ پروین شاکر نے کہا تھا کہ:
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا
پنجاب کی رانی پیا گھر جاتے جاتے پیا کے ساتھ کچھ سے زیادہ دنوں کے لئے لندن جارہی ہیں ۔ وہ تو منہ توڑنے پر تلی ہوئی تھیں یہ کیا کہ رخ موڑنے کی خبر آرہی ہے ۔سمندر(میاں نواز شریف)جو 8 فروری کے بعد سے چپ تھا اور جن پر کارکنوں تک سے ملنے ملانے کی قدغن تھی ۔ان کا اس قدر گہری چپ سادھ لینا کہیں ایسے تونہیں تھا کہ لاوہ پک رہا تھا یا سمندر چپ تھا اور اب لندن جاکر کوئی طوفان آئے گا یا لاوہ پھوٹ پڑے گا ؟
کیا اس دہکتی ہوئی صورت حال میں وزیراعظم شہباز شریف کو تنہا چھوڑ دینا کسی ایسی تبدیلی کا شاخسانہ بننے جارہے کہ جس سے ملک کی سیاسی صورتحال کااونٹ کسی بہتر کروٹ بیٹھنے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے ؟یہ سب امکانات ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہوگا جو اچنبھے کا باعث بنے گا۔سب اپنے پیدا کئے ہوئے حالات ہیں،سب سیاستدانوں کے اپنے بوئے ہوئے بیج ہیں جو پھل پھول رہے ہیں ،انہیں کی لگائی ہوئی آگ ہے جو ملک کے چپے چپے کو گھیرے ہوئے ہے ۔
کل کی پھیلائی ہوئی نفرتیں ہیں جو قومی وجود کودیمک کی طرح چاٹنے کے درپے ہیں ، یہ وہ دیمک ہے جو وطن کے جسد پاک میں ہم نے اپنے ہاتھوں سے سرایت کیا ہے ،کوئی باہر سے نہیں آیا ،ناں ہی یہ کسی اور کی سازش کا نتیجہ ہے سب نے مل جل کر یہ مکروہ کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔اب جو دامن بچا کر نکلنے لگے ہیں انہوں نے اس ساری صورتحال کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پیدا کیا ہے ،کسی کے دل میں چوتھی بار وزیراعظم بننے کا ارمان تھا ،کسی کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کا انتظام و انصرام سنبھالنے کی عجلت تھی ،کوئی سندھ پر راج قائم رکھنے سے آگے کا آرزومند تھا ۔ہرایک کا اپنا اپنا خواب تھا جس کی تعبیر ہر جائز و ناجائز طریقے سے حاصل کر نے پر مصر تھا ،اسے دھرتی سے نہیں اپنے سپنے سے پیار تھا ۔اہل رائے اس وقت بھی ہرپل دل گرفتگی کا اظہار کررہے تھے اب بھی اسی ژولیدگی پر نوحہ کناں ہیں کہ ملک پر رحم کریں، ترقی کے رکے ہوئے پہیے پر نظر رکھیں ، اپنی خواہشات کے حصول کے پیچھے ہی نہ بھاگتے رہیں ، مگرسب اپنے اپنے اہداف کے لئے لڑتے رہے ۔کوئی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا اپنی ضد پر قائم ہے ،اپنی انا کو مسئلہ بنائے ہوئے ہے ۔مگر یہ توکہتا ہی ہے کہ’’پہلے میرے سب کارکنوں کو رہاکرو پھر میں مذاکرات پر آمادہ ہوں گا‘‘ ۔آج علی درانی بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ’’اہل اختیار خیر کا راستہ نکالیں ،جنہیں مفت میں اختیارات سونپے گئے ہیں انہیں فارغ کریں ،حقدار کاحق ادا کریں پھر اس سے خیرکا تقاضا کریں‘‘۔ ہاں مگر اسے بھی لچک کی ضرورت ہے ۔دگرگونی بہت پھیل چکی ۔لوگوں کی حالت بہت پتلی ہوچکی،ملک کا نقصان بے بہا ہوچکا ،لوٹنے کے لئے کچھ اورنہیں رہ گیا اب لوٹے ہوئے مال کی وصولی کا وقت ہے ۔جس جس نے جس طور جتنا لوٹا اس سے منافع سمیت وصول کیا جانا چاہیے۔ بلاتفریق، رورعایت، منہ ملاحظہ سب ایک طرف رکھ دیا جائے۔
اب اشاروں ،کنایوں سے بھی بات نہیں بنے گی ۔ دوٹوک فیصلے کئے جائیں۔قوم ان کو کیفر کردار تک پہنچا ہوا دیکھنا چاہتی ہے جنہوں نے قوم کو اس ابتری کے قعر مذلت میں ڈالا۔وہ ایک ایک ،دو،دو کرکے بھاگنے کو کوشش کریں گے ،انہیں اوپر سے مکافات عمل کے اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں ۔ان کے حرص و ہوس کے غبارے پھوٹتے ہوئے فقط انہیں ہی نہیں قوم کے ہر حساس فرد کوصاف دکھائی دیرہے ہیں ۔ان کی ریشہ دوانیوں سے آئین جیسے مقدس ضابطہ تحریر کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا ، جو اس کھلواڑ کے ذمہ دار ہیں ،جنہوں نے ملک کے عدالتی نظام کو تہ و بالا کیا ،جنہوں نے آئینی ترامیم کو تماشا بنایا ،معزز اراکین اسمبلی کی نیلامی کی بولیاں لگوانے کو رواج دیا ۔ان کے اپنے نرخ لگنے کا وقت آیا تو پھر سے رات کے اندھیرے میں صندوق لئے تحلیل ہونے کا سامان کرنے کو ہیں۔لیکن کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ وہ جو ارمانوں کی جوت جگائے آیا تھا وہ جائے گا توچھبیسویں آئینی ترمیم کا جنازہساتھ لئے جائے گا ، تاہم 63اے کے ذریعے جن کو چور ٹھہرایا جائے گاان کی دسترس سے لوٹا ہوا مالواگزار نہیں کرایا جائے گا۔آگے بلاول زرداری کے دیرینہ خواب کا سفر شروع ہوگا ،اس کا جانے کیاہوتا ہے کہ آصف علی زرداری جب تک صدر پاکستان ہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے ،البتہ وزیراعظم شہباز شریف کے دروازے بند ہو جائیں گے۔(واللہ اعلم باالصواب)