دانشور ڈاکٹر سلامت اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم ایک ایسی قوم تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جواچھا برا،سچ جھوٹ، حلال حرام اور انصاف نا انصافی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتی ‘‘۔واقعتا ایسا ہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس گناہ میں کون ملوث ہے ؟بہت سارے لوگوں کے پاس اس سوال کا اپنا اپنا جواب ہوگا ،ایک دو روز میں جوابات کا انبار لگ جائے گا ہر ایک کا اپنا سچ ہوگا جس پر اس کا کامل یقین ہوگا ،جس سے اس کے سوا کچھ منوانااظہار کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہوگا ۔مجھے اپنے حصے ،اپنے اندر کے سچ کا اعادہ کرنا ہے، مگر اس پر اصرار نہیں کرنا ، اسے کسی کی رائے پر منطبق یا مسلط نہیں کرنا ۔یہ برسوں پہلے کی بات ہے جب میں پاک ترک سکول میں پڑھاتا تھا۔ایک دن میں نے دسویں جماعت کے طلباء سے کہا کہ وہ بچے ہاتھ کھڑے کریں جو استاذ بننا چاہتے ہیں۔پینتالیس کی کلاس میں کسی ایک ۔ بچے نے بھی ہاتھ کھڑا نہیں کیا ۔پھر میں نے پوچھا کتنے بچے ہیں جو ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں ۔بیس بچوں نے ہاتھ کھڑا کیا،پھر میں نے کہا جو بچے انجینئر بننا چاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں ۔بائیس بچوں نے شور کرتے ہوئے ہاتھ بلندکئے ۔ایک بچہ جو پینتالیسواں بچہ تھا اور واحد بچہ تھا اس نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا۔میں نے اس بچے کو اپنے پاس بلایااور استفسار کیاکہ آپ نے ہاتھ کیوں کھڑا نہیں کیا ؟ آپ میٹرک کے بعد تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے ؟
میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے ،اس کے چہرے پر بلا کا کرب تھا،مجھے لگا اس کے اندر دکھ درد کا کوئی طوفان ہے جو امڈنا چاہتا ہے ۔میں نے پھر پوچھا ،وہ رندھی ہوئی ،خجل کردینے والی آواز میں گویا ہوا ’’سر !اگر میں نے سچ بول دیا تو آپ میرے ساتھ بغض رکھنے لگیں گے‘‘ میں نے روتے ہوئے بچے کو سینے سے لگا لیا اکہرے جسم کا کمزور و ناتواں بچہ سسکیاں بھرنے لگا ، پھر بڑی مشکل سے بولا ’’سر جی!میں وکیل بنناچاہتا ہوں‘‘میں نے اس کو اپنے روبرو کھڑا کرتے ہوئے مختصر سوال کیا کیوں ؟ اس نے پھر درد میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا ’’میں استاذ کے خلاف مقدمہ لڑنا چاہتا ہوں ‘‘۔ ایک تحیر کے ساتھ میں نے پوچھا کس استاذ کے خلاف ؟اس نے قمیص کے کف سے اپنی آنکھیں صاف کیں اور توانا لہجے میں کہا ’’یہ ایک لمبی کہانی ہے‘‘ ۔
سٹاف روم اس وقت خالی پڑا ہوا تھا ،میں نے ایک کرسی پر اسے بٹھایا اور دوسری پر خو د بیٹھتے ہوئے اسے کہانی سنانے کو کہا ،اس نے خود کو اچھی طرح سنبھالتے ہوئے کہا ’’ہم چار بہن بھائی گلی محلے کے ایک عام سے سکول میں پڑھتے تھے ،میں سب میں بڑا تھا۔میرا باپ گورنمنٹ کے ایک محکمے میں ہیڈ کلرک تھا ،ان کے بہت سارے خواب تھے جو وہ پورے کرنے کی تگ و دو میں لگے ،رہتے تھے ،انہوں کبھی ہمیں حرام کمائی کا ایک لقمہ نہیں کھلایا ، وہ خود بھی رزق حلال سے پلے بڑھے تھے اور ہمیں بھی حلال رزق سے پالنے پوسنے کا عزم من میں لئے ہوئے تھے، سب سے پہلے میں نے پانچویں پاس کی ، ابونے مجھے ایک سرکاری سکول داخل کرا دیا ۔میں عام درجے کا طالب علم تھا ،ہمارے ابو شام کو ہمیں خود پڑھاتے تھے کیونکہ وہ ٹیوشن یا ٹیوٹر افورڈ نہیں کر سکتے تھے ۔ ایک دن میرے ریاضی کے استاذ نے کہا تمہاری ریاضی اچھی نہیں ہے ،اس لئے تم چھٹی کے بعد میرے پاس ٹیوشن پڑھا کرو ،مگر میرے ابو نے مجھے ٹیوشن پڑھانے سے انکار کر دیا ۔اب استاذ مجھے بات بات پر سزا میں کھڑا کر دیتے ،میرے دونوں ہاتھوں پر بیت مارتے ،اتنے کہ میرے ہاتھ کانپنا شروع ہوگئے،ایک دن ابو نے میری حالت کو بھانپ لیا۔وہ میرے ٹیچر کے پاس شکایت لے کر گئے ،مگرٹیچر تشدد سے مکر گئے حالانکہ سب معاملہ سامنے تھا ،بحر حال ٹیچر نے آئندہ خیال رکھنے کا وعدہ کیا ۔مگر اگلے ہی روز مار پیٹ اور زیادہ کر دی اب وہ میری کمر کے نچلے حصے پربیت مارتے ،پھر ابو نے ایک ٹیچر دوست کی سفارش کروائی اور ٹیچر نے ایک ٹیچر کی سفارش مانتے ہوئے کچھ دن مجھ پر تشدد نہیں کیا۔پھر ایک دن ٹیچرنے مجھے اتنا مارا کہ میری ایک انگلی ٹوٹ گئی۔
ابو جب دفتر سے آئے تو امی نے انہیں بتایا ۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے گھر سے باہر چلے گئے۔ واپس آئے تو ایک گلاس پانی کا لیا اور کمرے میں چلے گئے۔ امی کچھ دیر بعد کمرے میں جانے لگیں تو کمرے کو اندر سے کنڈی لگی ہوئی تھی ۔امی نے بہت دستکیں دیں مگر نہ تو ابو نے نہ تو ان کی آواز کا جواب اور نہ کنڈی کھولی۔گھر میں تشویش پھیل گئی،میرے بڑے چچا کا گھر ہم سے ایک گھر دور تھا ،میں انہیں بلالایا،مگر ان کی آواز پر بھی کمرے سے کوئی ۔جواب نہ ملا۔چچا نے ایک اینٹ سے دروازہ کوٹنا شروع کردیا دو تین گھنٹے ہو چکے تھے ۔چچا نے باہر سے دو چار لوگ بلائے ،یوں آدھا پونا گھنٹہ اور لگ گیا۔جب سب نے مل کر دروازہ توڑا تو ابو مردہ حالت پڑے ہوئے تھے اور ان کے منہ سے بہت ساری جھاگ نکلی ہوئی تھی ،سب کا خیال بلکہ یقین تھا کہ انہیں مردہ حالت میں ہسپتال لے جایا گیا ۔
میرا ایک تعلیمی سال ضائع ہوا مگر میں نے یہ عہد کیا کہ میں وکیل بنوں گا۔وہ بچہ وکیل بنا یا نہیں، مگر میرے من میں یہ رائے راسخ ہوگئی کہ ایک قوم تیار کرنے میں استاذ سب سے زیادہ ملوث ہوتا ہے۔ وہ استاذ جو ٹیوشن مافیا کا موجد ہے ،اس نے ہمیں اچھے سیاستدان نہیں دیئے،اچھے ڈاکٹر نہیں دیئے، اچھے انجینئر نہیں دیئے اچھے منصف نہیں دیئے اور اچھے وکیل بھی نہیں دے سکاجو ہمارا قومی مقدمہ عمدہ طریقے سے لڑ سکیں !