Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

عزت و وقار اور لیگی حکومت

’’ایک ہم پیشہ دوست نے ن لیگ سےریاستی عزت و وقار کا سوال کیا ہے اور وہ بھی ایسی خاتون سے جو فارم 47 کے ذریعے ملک کے سب سے بڑے صوبے پر مسلط کی گئی اور پھر اس کے بارے یہ کہنا کہ’’تذذب کس بات کا ؟‘‘بڑی حیرت کی بات ہے جو مانگے کے اقتدار کےکے مزے اڑا رہے ہوں ،ان کا ضمیر چٹکیاں تو بھرتا ہی ہوگا ، کچوکے بھی لگاتا ہی ہوگا ،راتوں کی نیندیں بھی ضرور اڑاتا ہوگا۔ کرائے کے مکان میں رہنے والے کو ہروقت ہی یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب مالک مکان اپنا ترکہ خالی کرالیتا ہے اور ہمارے یہاں تو مالک اکثر نوٹس دینے کا تردد بھی نہیں کرتےاور آپ کی مخاطب تو زبردستی سے حاصل کئے گئے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہے، وہ کچھ کر گزرنے کے مخمصوں اور میں تو رہتی ہی ہے ۔یہ شکوہ تو اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور سے کرنا چاہیئے کہ آخر کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ان آزمائے ، پھر آزمائے اور پھر آزمائے ہوئے لوگوں میں، جو آپ انہیں بار بار قوم کی مرضی کے عین خلاف جبرا قوم پر مسلط کر دیتے ہیں اور قوم اپنے ووٹ کی حرمت لٹ جانے پر سڑکوں پر امڈ آتی ہے اور آپ بھرے منہ عوام کے بحر بے کراں کو دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں۔ شر پسندی سے یا انتشار سے کسے نفرت نہیں، کون امن کی تباہی وبربادی پر خوشی کے شادیانے بجاسکتا ہے ،کسے اپنی ڈوبپی ہوئی معیشت پر تشویش، کون آج کی صورت حال پر نہیں کڑھتا، کس کےدل میں بلوچستان کے مخدوش حالات کا قلق نہیں ،کون خیبر پختون خواہ کے لوگوں کی جمہوری جدوجہد کے بے آبرو کرنےپر دلگرفتہ نہیں نہیں۔ پنجاب میں جھوٹ ،فریب کی سیاست فروغ پارہی ہے ،پنپ رہی ہے ؟ کون جو اس پر آزردہ خاطر نہیں؟ کے پی کے کا وزیر اعلی گولی کے بدلے گولی چلانے کا کہتا ہے تو مطلق غلط کہتا ہے اس کے اس بیان کو کسی طور اچھا نہیں سمجھا جاسکتا مگر وفاق پر مسلط وزیر اعظم یہ کہے کہ ہم سڑکوں پر آنے والے عوام کو کچل کے رکھ دیں گے تو جائز ہے؟ عوام کس لئے سڑکوں پر آتے ہیں، ان کے احتجاج کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں؟ عوام اپنے حقوق، اپنے ووٹ کی عزت کے لٹنے پر سڑکوں پر آئیں اور ان کو کچل دینے کے احکامات صادر کر دیئے جائیں، تو اس سے بڑی جارحیت اور دہشت گردی کیا ہوگی؟ عوام کے حقوق کی بجائے آوری کےاسباب پیدا کریں ،ان کے جان مال کو تحفظ دیں، ان کے جمہوری حق کی قدر کریں۔ پھر اگر وہ بغاوت پر اتر آئیں تو ان کی سرکوبی کا عندیہ دیں۔ آپ کے ہاتھوں تو ملک کا آئین محفوظ نہیں، آپ نے تو ملک کی عدالت عظمی کو بھرے بازار میں بے آبرو اور بے قدر کر دیا ہے۔ عدالت عظمی کے سربراہ کی بےحرمتی کرتے ہوئے لوگ نہیں گھبراتے۔ یہ ہے ان کا طریق حکومت انداز حکمرانی اور ابھی بھی اسٹیبلشمنٹ ان کا دم بھرتی ہے، مقتدرہ ان کے سرکا سائبان ہے اور کچھ دوست ان سے دلبرداشتہ نہیں۔ اگر یہی حالات چلتے رہے تو مزاحمت میں شدت آئے گی، شرپسندوں اور دہشت گردوں کے راستے اور ہموار ہوں گے کہ ہمارے یہاں جب بھی کوئی احتجاجی تحریک چلتی ہے ملک دشمن عناصر اس سے فائدہ آٹھاتے ہیں، انہیں اپنے عزائم کے پورے کرنے کے کھلے مواقع میسر آجاتےہیں۔ اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کی آڑ میں وہ اپنے ارمان پورے کرتے ہیں۔ اس لئے گولی کے مقابلے میں گولی چلانے اور عوام کو کچل دینے کی بات کرنے والے دونوں جمہوری اقدار کے پاسبان و پاسدار نہیں بلکہ ملک میں بدامنی کے فروغ میں دونوں برابر کے شریک ہیں۔ جہاں تک افغانستان کی طرف سےتعلقات میں ناہمواری اور ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی بات ہے اس پر حکومتی سطح پر کتنی ایک تشویش دکھائی دیتی ہے؟ بھارت نواز طالبان ان ساری کارروائیوں میں مصروف ہیں اور بھارت انہیں ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیں زیر کرنےکی سعیء بد میں مبتلا ہے اور ان عوامل پر غور کرنے کی بجائے حاکم اپنی حکومت کی مضبوطی کے وہم میں غرق رہتے ہیں اور ان کے ہوا خواہ اپنے مفادات سمیٹنے میں مصروف، اور یہ آج کی بات نہیں 76برس سے بننے ٹوٹنے والی سب حکومتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے پاس چوتھی بار وزارت عظمی کی زمام آقتدار آئی ہے۔ اس کے انداز سلطانی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں، یہ ایسا پرانا اور پیش پا برتن ہے جو پرانی ہی شراب سے بھرا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں