بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے ! پاکستان کی توانائی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آچکا ہے، جہاں موجودہ حکومت نے آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ طے پائے معاہدوں کے خاتمے کا فیصلہ کر کے عوام کی امیدوں کو جلا بخشی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے ان آئی پی پیز کی جانب سے عوام کے حقوق کی پامالی اور قومی خزانے کی لوٹ مار جاری تھی۔ ان کمپنیوں کی وجہ سے ملک کو فائدے کی بجائے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ مگر اب حکومت نے جرات مندی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ آئی پی پیز وہ کمپنیاں ہیں جو بجلی کی پیداوار کے لیے نجی شعبے میں کام کرتی ہیں۔ 1990 کی دہائی میں شروع ہونے والے اس نظام نے متعدد معاہدوں کے ذریعے عوامی سطح پر بجلی کی فراہمی کو متاثر کیا۔ ان معاہدوں میں شامل کمپنیوں نے طے شدہ قیمتوں پر بجلی فراہم کرنے کا عہد کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاہدے عوامی مفاد میں نہیں رہے۔ مہنگائی، اقتصادی مشکلات، اور معیشت کی عدم استحکام کے باعث عوام کو بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔حکومت نے حال ہی میں پانچ آئی پی پیز کے معاہدوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ حبکو پاور، روش پاور، اے ای ایس لال پیر پاور، صبا پاور پلانٹ، اور اٹلس پاور جیسی کمپنیوں نے اس فیصلے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدے 1994 اور 2002 کی بجلی کی پالیسیوں کے تحت طے پائے تھے۔ معاہدوں کے خاتمے سے حکومت کی توقع ہے کہ وہ 300 ارب روپے کی بچت کرنے میں کامیاب ہوگی جو کہ نہایت بڑی رقم ہے۔حکومت نے آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ بجلی کی پیداوار کے لیے طے شدہ رقم ہوتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔ بجلی کے نرخوں میں 0.65 روپے فی یونٹ کی کمی کی امید ہے، جو سالانہ 65 ارب روپے بنتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی حکومتیں آئی پی پیز سے بجلی خرید رہی ہیں۔ بھارت نے غیر موثر آئی پی پیز کے معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لیا اور انہیں ختم کیا۔ بھارت میں تاتا پاور، ایڈانی پاور، اور ریلائنس انرجی جیسی بڑی کمپنیوں کے معاہدے ختم کئے گئے۔ اسی طرح، بنگلہ دیش نے بھی اپنی توانائی کی پالیسیوں کا جائزہ لیا ہے۔ وہاں کی حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیے اور انہیں مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنگلہ دیش میں میسرز انرجی پاور اور اکھنور پاور جیسے آئی پی پیز کے نام سر فہرست ہیں اور بنگالی حکومت کے اس اقدام سے بجلی کی قیمتوں میں کمی اور سپلائی میں بہتری آئی۔مغربی ممالک میں بھی آئی پی پیز کا کردار اہم ہے۔ امریکہ میں جنرالی الیکٹرک، ڈوک انرجی، اور ایگزیجن جیسی کمپنیاں توانائی کی پیداوار میں نمایاں ہیں۔ انہوں نے معاہدوں کی شفافیت اور عوامی مفاد کی خاطر کئی اقدامات کیے ہیں، جو کہ دیگر ممالک کے لیےمثال ہیں۔حکومت آئندہ ہفتے مزید 18 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے جا رہی ہے، جن کی مجموعی کیپسٹی 4267 میگاواٹ ہے۔ یہ کمپنیاں بھی 1994 اور 2002 کی بجلی کی پالیسیوں کے تحت وجود میں آئیں۔ ان سے بھی بجلی ٹیک اینڈ پے موڈ میں حاصل کی جائے گی، یعنی جتنی بجلی لی جائے گی، اتنی ہی ادائیگی کی جائے گی۔ اس سے حکومت کو مزید مالی فوائد حاصل ہونے کی امید ہے۔حکومت کے اس فیصلے کا عوام کی زندگیوں پر مثبت اثر پڑے گا۔ بجلی کے نرخوں میں کمی سے صارفین کے بوجھ میں کمی آئے گی، جس کا اثر ان کے بجلی کے بلوں پر محسوس کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کی مالی حالت بھی مستحکم ہوگی، جس سے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز دستیاب ہوں گے۔ اس فیصلے پر عوامی حلقوں نے مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یہ کہنا بجا طور پردرست ہوگا کہ ” دیر آید درست آید “۔ عوام امید کرتی ہے کہ یہ اقدام ان کے حقوق کی بحالی کی طرف ایک قدم ہو گا۔ اس فیصلے کے ذریعے ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ملکی مفاد کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے میں حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اسکا سہرا وزیر اعظم شہباز شریف اور انکی پوری ٹیم کے سر ہے اور یہ نئی آنے والی حکومتوں کے لئے ایک مشعل راہ بھی ہوگا۔ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کے معاہدوں کا خاتمہ ایک بڑی کامیابی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔اگر یہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو ملک کی توانائی کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ یہ وقت ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرے، تاکہ توانائی کے علاوہ دیگر شعبوں میں اصلاحات ایک نئے دور کی شروعات کا آغاز ہوں۔