رسول اکرمﷺ کی ذات مبارکہ سے محبت کا دعویٰ ہر ایک مسلمان کرتا ہے۔ ہمارے ہاں میلاد اور سیرت کانفرنسوں کے نام سے منعقد ہونے والے اجتماعات میں نبی اکرمﷺ کے اوصاف اور فضیلت بیان کی جاتی ہے اور واقعات بیان کئے جاتے ہیں لیکن ہمارا اجتماعی اور انفرادی اخلاق و کردار پستی اور زوال کی طرف گامزن ہے۔ المیہ یہ ہے قوم کی راہنمائی کرنے والے زیادہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں حالانکہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے علم و عمل سے قوم کی تعلیم و تربیت کریں گے۔ اس میں علماء، صحافی، دانشور، ادیب اور سرکاری عمال سب شامل ہیں۔ بقول اقبالؒ
قافل حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
کیا ہمارے مذہبی اجتماعات کا مقصد صرف یہی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی شان اور سیرت بیان کرکے ثواب حاصل کریں؟ یہ ذکر نیم شب، قیام الیل، طویل سجدے، حج اور عمرے، درودوسلام کی محفلیں اور مذہبی اجتماعات کے بعد بھی جب جھوٹ، بددیانتی، منافقت، کرپشن، وعدہ خلافی، بے ایمانی اور دوسری اخلاقی جرائم نہیں چھوڑتے تو پھر ان سب کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ قرآن مجید تو ایسی صلوۃ کو ہلاکت قرار دیتا ہے۔ اگر ان ظاہری عبادتوں سے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو ان کا مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکتا بقول حکیم الامت
یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سرور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
جہاں تک آپﷺ کی بعث کا تعلق ہے تو قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بنیادی مقصد توحید رسالت کے بعد اخلاق کی تعمیر اور آپس کے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے دلوں میں محبت و مودت پیدا کرنا ہے۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں انہی کا فقدان ہے۔ ہم اخلاقی زوال کا شکار ہیں اور سیاسی، مذہبی اور دوسرے امور کہ وجہ سے باہمی اختلافات کا شکار ہیں۔ اگر گزشتہ پچاس سال کا گراف بنایا جائے تو ہمارا معاشرہ زندگی کی تمام جہتوں میں نیچے کی طرف پی گیا ہے۔ ہمارا جتنا بڑا کوئی راہنما ہوتا ہے خواہ مذہبی پیشوا ہو یا سیاسی راہنما ہو یا کسی بہت بڑے حکومتی اور ریاستی عہدہ پر فائز ہو، بعض اوقات ایسے حرکت کرتا ہے کہ اس کا امیج لمحوں میں زمیں بوس ہوجاتا ہے اور عوام سوچتے ہیں کہ
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری
جہاں تک رسول اکرمﷺ کے مقام و مرتبہ کا تعلق ہے تو تاریخ انسانی میں ایک منفرد اور عظیم المرتبت شخصیت ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے آخری نبی اور رہنما بنا کر بھیجا۔ ان کی زندگی ایک مثالی نمونہ ہے جس میں ہر شعبہ زندگی کے لئے ہدایت موجود ہے۔ ان کی شخصیت میں عدل، رحم دلی، حکمت، صداقت اور بہترین اخلاق کا عملی نمونہ بھی تھا۔
ان کے اخلاق و کردار کو قرآن مجید نے ’’عظیم اخلاق‘‘ (وِن لعل خلق عظِیم)کہہ کر بیان کیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کا ہر عمل اور ہر قول سراسر محبت، شفقت اور ہمدردی کا عکاس تھا۔ ان کی زندگی میں موجود ہر پہلو میں ایک کامل انسان اور بہترین اخلاق کا پیکر نظر آتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی رحم دلی اور درگزر سے پیش آتے تھے اور معاف کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی سچائی اور ایمانداری تھا۔ ان کی دیانت داری کا یہ عالم تھا کہ قبل ازنبوت بھی لوگ انہیں ’’صادق‘‘ اور’’امین‘‘کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ وہ اپنے قول کے سچے، وعدوں کے پابند اور اپنے دوستوں اور دشمنوں دونوں کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ان کی شفقت اور انسان دوستی بھی بے مثال تھی۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ غریبوں، یتیموں، بیوائوں اور مظلوموں کی مدد کی اور ان کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کئے۔ مدینہ کی ریاست کے قیام کے دوران، انہوں نے معاشرتی انصاف، رواداری، اور برابری کی بنیاد پر ایک مثالی معاشرہ قائم کیا جہاں مسلمان، یہودی، عیسائی اور دیگر تمام اقوام امن و سکون کے ساتھ رہتے تھے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان کے اخلاق و کردار کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے ہمیں اپنی زندگی میں سچائی اور دیانت داری کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی گفتار اور عمل میں وہی صداقت اور ایمان داری دکھانی ہوگی جو حضرت محمد ﷺ کی شخصیت کا جزو لاینفک تھی۔ دوسرا اہم پہلو معافی اور درگزر کا ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے اور انتقام کی بجائے محبت اور ہمدردی کو فروغ دینا چاہیے۔
حضرت محمد ﷺ کے اخلاق کی پیروی کا ایک اور عملی طریقہ یہ ہے کہ ہم معاشرتی انصاف کو فروغ دیں۔ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، خاص طور پر وہ جو کمزور، غریب یا بے سہارا ہوں۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو بھائی چارے، مساوات اور انسان دوستی کی تعلیم دی۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں ان اصولوں کو اپنانا چاہیے اور معاشرے میں ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کا ایک اہم درس محبت، تحمل اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ان اخلاقی اصولوں کو نافذ کریں اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔ آپ ﷺ کا طرز زندگی، ان کی تعلیمات اور ان کے اعلیٰ اخلاقی اصول ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، اور اگر ہم ان کی پیروی کریں تو ہم نہ صرف اپنی ذاتی زندگیوں میں بلکہ پورے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔