Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستان کی عالمی بحالی اورشر پسندی کی سازش

پاکستان کی عالمی سیاست میں ایک نیا باب کھل رہا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم اور سعودی سرمایہ کاروں کے وفد کے دوروں کے بعد 15اور 16اکتوبر کو اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جو نہ صرف ملک کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ ایک تاریخی لمحہ بھی۔ اسی روز15اکتوبر کوپی ٹی آئی نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے مگر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کی اپنے معزز مہمانوں کے استقبال کی تمام تیاریاں مکمل ہیں، ایس سی او خوش اسلوبی سے آگے چلےگی جبکہ شرپسند عناصر کو رخنہ ڈالنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اجلاس کے پس منظر میں پاکستان کے اندرونی حالات اہم ہیں۔ خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی جانب سے ملک کی خارجہ پالیسی کے خلاف بیانات اور تنقید نے قومی یکجہتی کو متاثر کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے کی جانے والی غیر ذمہ دارانہ سیاست دراصل ملک کے مفادات کے خلاف ہے۔ ان کی متنازعہ سرگرمیوں نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کی شبیہ متاثر کی ہے، جو اس اجلاس کے موقع پر ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اجلاس کے دوران یہی منفی قوتیں شرپسندانہ سرگرمیوں کا آغاز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عین اس اہم موقع پر احتجاج کی کال دینا اس گروہ کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ حکومت اور ادارے ابھی تک اس معاملے میں متوازن رویہ اختیار کر رہے ہیں لیکن عوامی توقعات یہ ہیں کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں ۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے اور پی ٹی آئی جیسے ملک دشمن عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرے۔ انتہا پسند جماعت کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنا ملک کی بقا اور سلامتی کے لئےناگزیر ہوچکا۔ایس سی او کی اہمیت صرف اقتصادی یا دفاعی مسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تنظیم باہمی اعتماد اور سیاسی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ یہ اجلاس مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اپنی حیثیت کو مستحکم کرنے کا موقع ملے گااور یہ اجلاس اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان کی عالمی بحالی کی ضرورت اس وقت شدت سے محسوس ہو رہی ہے جب بین الاقوامی منظر نامے پر نئے چیلنجز ابھر رہے ہیں۔ اسرائیل نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کو مکمل تباہ کر دیا ہے ۔ ایران لیبیا، شام، اسرائیل اور یمن سمیت روس اور یوکرائن براہ راست حالت جنگ میں ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں ہیں اور اقتصادی مسائل نے دنیا کو نئے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے نہ صرف جنگوں میں شامل ممالک کو امن پر قائل کرنے کی کوشش کرے بلکہ ان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے۔
پاکستان میں مقامی مسائل بھی عالمی سطح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، اور اقتصادی بحران نے ملک کی صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے، پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اجلاس موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کو اپنی موجودہ صورت حال سے آگاہ کرے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے حمایت طلب کرے۔ پاکستان اپنے ترقیاتی منصوبوں اور معاشی اصلاحات کا ذکر کرے اور عالمی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی اس کی عالمی حیثیت کے لئے اہم ہے۔ اقتصادی مسائل، جیسے بیروزگاری، مہنگائی، اور قرضوں کا بوجھ، نہ صرف اندرونی مسائل پیدا کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی شبیہ متاثر کرتے ہیں۔ اس لئے پاکستان کو اس اجلاس کے دوران اپنی اقتصادی ترقی کے منصوبوں کی تشہیر کرنی چاہئے تاکہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔
اس وقت پاکستان کی عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ آ رہا ہے، اور شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس اس تبدیلی کا عکاس ہے۔ تیزی سے بہتر ہوتی عالمی ساکھ کے لئے یہ وقت ہے کہ ہم سب ایک پلیٹ فارم پر آئیں، قومی مفادات کو پیش نظر رکھیں اور نئے سفر کا آغاز کریں۔ اس اجلاس کے ذریعے ہمیں اپنی شناخت کو بحال کرنے کا موقع مل رہا ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ حکومت اور عوام دونوں کو مل کرآگے بڑھنا ہوگا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط حیثیت حاصل ہو۔ اجلاس کے دوران ہمیں یہ دکھانا ہوگا کہ ہم نہ صرف ایک مستحکم ملک ہیں، بلکہ عالمی برادری کے لئے ایک اہم پارٹنر بھی ہیں۔ یہ اجلاس پاکستان کے لئے ایک نیا دور لے کر آ سکتا ہے۔ ہم نے اس موقع کو صحیح معنوں میں استعمال کیا تو پاکستان کی عالمی سیاست میں ایک نئی روشنی اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں