آج سے قبل راقم یہ سمجھتا تھا کہ مکافات عمل کا آفاقی اور فطری اصول محض افراد ہی پر لاگو ہوتا ہے یعنی محض ذاتی اور انفرادی زندگی میں اگر کوئی فرد اچھا کرے گا تو اس کا بدلہ بھی بھلائی کی شکل میں پائے گا اور اگر اس سے کچھ برا سرزد ہوگا تو اس کا صلہ بھی ویسا ہی ہوگا مگر حالیہ سیاسی اور عدالتی بلکہ ریاستی بحران کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے ادارہ جاتی بلکہ یوں کہیے ریاستی سطح پر بھی یہ اصول یعنی ’’مکافات عمل‘‘ حرکت میں آسکتا ہے۔
ہم زمانہ طالب علمی سے ہی سنتے چلے آرہے ہیں کہ وطن عزیز کی قومی سطح پر تنزلی کا ’’سنگ بنیاد‘‘ مولوی تمیز الدین کیس سے رکھ دیا گیا تھا۔ بعدازاں تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے ’’مقدمات‘‘ نے اس پر ایک ’’عالی شان‘‘ عمارت تعمیر کر ڈالی جو آج ہمارے ہاں ایک ’’قومی یادگار‘‘ کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہے…!!
عام تاثر بلکہ تاریخ میں درج امر واقعہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں بلاتفریق ریاستی اداروں نے ایک دوسرے کے اختیارات پر تجاوز کو ایک ’’قومی فریضہ‘‘ سمجھ کر سرانجام دیا۔مقننہ کو ہمیشہ انصاف کی فراہمی سے منسلک اعلیٰ اداروں سے یہ شکایت رہی کہ قانون سازی کے عمل اور بنائے گئے قوانین کو کالعدم قرار دینے کی روش نے مقننہ کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔
ادارہ جاتی سطح پر انتظامیہ ہمیشہ یہ گلہ کرتی نظر آئی کہ ’’جمہوری عمل‘‘ کے نتیجہ میں بننے والی حکومتوں کو ’’عدالتی مداخلت‘‘ نے برطرف کرکے یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈال کر Over Stepping یا پھر یوں کہیے اختیارات سے تجاویز کرکے معاشی اور سیاسی استحکام کو نقصان پہنچایا۔ اعلیٰ عدلیہ سے اپنے فیصلوں کے ذریعہ انتہائی تسلسل کے ساتھ ماضی کی برسراقتدار ’’سیاسی عمل‘‘ کے نتیجہ میں بننے والی حکومتوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ انہوں نے اپنے انتظامیہ اختیارات کا غیر آئینی اور قانون سے بالاتر ہو کر استعمال کیا۔ بہرحال یہ سلسلہ ہماری ریاستی تاریخ کا وہ تسلسل اور ایک ایسی حقیقت ہے جس سے صرف نظر کرنا شائد ممکن نہ ہو اور ویسے بھی ماضی کے ان غیر متوازن رویوں کا جائزہ لے کر ان سے سبق سیکھنا ریاستی اور عوامی مفاد کے عین مطابق ہونے سے کسی ذی شعور کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔
قارئین کرام بات ہو رہی تھی مکافات عمل کی، آج جس طرح مقننہ نے اعلیٰ عدلیہ کو ’’آڑے ہاتھوں‘‘ لیا ہوا ہے یوں محسوس ہو رہا ہے جسے ماضی کے غصے کا اظہار ادارہ جاتی سطح پر بہت ’’جاریانہ‘‘ اور ’’بے دردانہ‘‘ انداز میں کر رہی ہے۔ راقم نے یہ بھی پہلی مرتبہ محسوس کیا ہے کہ ’’ادارہ جاتی ناراضگی‘‘ ’’ذاتی غصہ‘‘ سے زیادہ شدید اور پرخطر ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے مقننہ ایک لمبی ’’نیند‘‘ کے بعد ’’خواب غفلت‘‘ سے بیدار ہوئی ہے اور عدلیہ پر اس طرح حملہ آور ہوئی ہے جیسے کوئی اچانک اس کی اصتراحت میں مخل ہوا ہو یا پھر کسی نے اسے اچانک شدید انداز میں کسی ایسے عمل سے مشتعل کیا ہو جو اسے بہت ناگوار گزرا ہے۔ کچھ بھی ہو مگر قارئین کرام ایک بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ہماری ریاستی نظام میں کہیں نہ کہیں بہت بڑی قابل اصلاح خرابی موجود ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ادارہ جاتی اور ذاتی محاذ آرائی سے بالاتر ہو کر کھلے دل اور وسیع سوچ کے ساتھ اس خرابی کی تشخص اور نشان دہی کریں اور پھر اسے اس نظام سے نکال باہر پھینکیں۔ میرے قارئین کو یہ بات شائد محض ایک روایتی اور ’’قلمی بحث‘‘ محسوس ہو مگر قارئین کرام دل پر ہاتھ رکھ کر پوری ایمان داری سے بتائیے کہ ہم کب تک محض حکومتوں، اسمبلیوں اور چہروں کو بدل بدل کر معاشی اور سیاسی استحکام کے سراب کے پیچھے ریگستاں میں ’’شطر بے مہار‘‘ کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے رہیں گے۔
راقم کے اس مشاہدے سے اگر میرے قارئین میں سے کسی کو اختلاف ہے اور وہ میری اس بات کو محض کالم کا پیٹ بھرنے کا ذریعہ سمجھ رہا ہے تو پھر آئیے اور اس اہم قومی مسئلہ کے حل کے لئے ایک قومی اور عوامی بحث اور مذاکرے کا آغاز کریں۔ ہر ذی شعور شہری اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ ایک جمہوری، عملی اور فکری انداز میں قومی بحث کا اہتمام کیا جائے کہ اپنے اس پیارے وطن کو مشکلات اور مسائل کے جنگل سے کیسے آزاد کروایا جاسکتا ہے…؟
یاد رکھیئے ہماررا مسئلہ ریاستی سطح پر محض حکومتی اور سیاسی ناکامی یا خرابی ہی نہیں ہے بلکہ ہمیں معاشرتی اور اخلاقی بحران کے اس ’’کوہ گراں‘‘ کا بھی سامنا ہے جو ہمارے مستقبل کو دن بدن تاریکی کے اس گڑھے کی طرف گامزن کئے ہوئے ہے جس کا انجام قیامت خیز ہے اور اگر ہم نے بروقت اس کا ادراک اور تدارک نہ کیا تو پھر….
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے
تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں