شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر وزیر اعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، آرمی چیف جنرل عاصم منیرسمیت وزیر خارجہ اسحاق ڈار مبارکباد کے حقدار ہیں وہیں چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے اسلام آباد کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے۔ کامیاب سفارتکاری کی یہ ایک بہترین مثال ہے۔ اس سے عالمی دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا اور اقوام عالم میں پاکستان کی قدر اور اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ پاکستان کو سری لنکا بنانے اور پاکستان پر بم گرانے کے باتیں کرنے والی شر پسند جماعت کے سربراہ آج جیل کی کوٹھڑیوں میں پڑے سڑ رہے ہیں تودوسری طرف پاکستان کو تنہا کرنے کی باتیں کرنے والے بھارت کے وزیر خارجہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو پاکستان میں بیٹھا دیکھ کر خود ہی پاکستان سے بہتر تعلقات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان، جو ایٹمی طاقتیں ہیں اور پیچیدہ تاریخ رکھتی ہیں کے درمیان سفارتی کشیدگی میں ایک نرمی کے آثارنظر آئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان غیررسمی گفتگو کا آغاز کرکٹ سے ہوا جو دونوں ممالک میں ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان نے اس موقع پر آنے والے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ذکر کیا جو کہ فروری 2025 ء میں پاکستان میں منعقد ہوگی۔ یہ ٹورنامنٹ صرف ایک کھیل کا موقع نہیں بلکہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے جہاں وہ عالمی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ ہلکے پھلکے موضوعات کے ذریعے گفتگو کا آغاز کرنے سے دونوں ممالک کی طرف سے سنجیدہ سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر بات چیت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اسحاق ڈاراور جے شنکر کے ساتھ بیٹھنے کا انتظام خاصی دلچسپی کا باعث بنا۔ انڈین میڈیا پر بھی کھانے کی میز پر دونوں وزرا کی گفتگو موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ یہ نشست کا انتظام پاکستانی وزارت خارجہ نے جان بوجھ کر کیا تھا، جو کہ گفتگو کے لیے غیر رسمی راستے ہموار کرنے کا اشارہ تھا۔ دوپہر کے کھانے کے دوران دونوں عہدیداروں نے دوستانہ مکالمے کا آغاز کیا جس کی ابتدا کرکٹ جیسے باہمی دلچسپی کے موضوعات سے ہوئی۔ اگرچہ کوئی رسمی پیشرفت یا اعلان نہیں ہوا لیکن یہ تعامل ایک مثبت لہجے کی نشاندہی کرتا ہے اور مستقبل کی ممکنہ بات چیت کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔بین الاقوامی فورمز پر ایسے غیر رسمی تبادلے عموما اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے طور پر کام کرتے ہیں، جس سے رہنماں کو ایک دوسرے کے ارادوں کا اندازہ لگانے کی اجازت ملتی ہے ۔ اس کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت نے اسحاق ڈار اور جے شنکر کے درمیان ملاقات کی درخواست کی جو کہ بہت سے لوگوں کے لیے حیرت انگیز تھا۔ یہ اقدام بھارت کی جانب سے اس کی روایتی سخت پوزیشن سے ایک انحراف کی نشاندہی کرتا ہے جو مودی کی حکومت کے تحت رہی ہے۔اسحاق ڈار کے ذریعے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا فیصلہ بھارت کی جانب سے ایک ٹیکٹیکل اپروچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نے دونوں ممالک کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ غیر رسمی انداز میں اپنی نیتوں کو جانچیں، بغیر عوامی توقعات بڑھانے یا سیاسی ردعمل کی دعوت دئیے۔
اجلاس کے دوران جے شنکر نے پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اسلام آباد سے واپس جا رہا ہوں اور حکومت پاکستان کی شاندار مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ان کا یہ پیغام ایک مثبت لہجے کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعامل کے وقت عام طور پر نظر آنے والی روایتی بیان بازی سے ایک انحراف ہے۔ اس طرح کے اشارے مزید بات چیت کے لیے ایک بنیاد قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے سفارتی روابط کے لیے ایک زیادہ سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔دونوں ممالک ایسے موڑ پر ہیں جہاں علاقائی تعاون اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی نہایت اہم ہے جبکہ دونوں ممالک اندرونی چیلنجز کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
پاکستان اقتصادی مشکلات میں ہے جبکہ بھارت اندرونی خلفشار کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے اور بہت ساری علیحدگی پسند تحاریک منہ کھولے بھارت کا للکار رہی ہیں۔ یہ عوامل دونوں طرف سے عملی خارجہ پالیسی اپنانے کی ترغیب کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ جس میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا شامل ہے۔ کرکٹ سفارتکاری اگرچہ ایک علامتی بات ہے، لیکن یہ ایک بڑی تصویر کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔ کشمیر کا تنازعہ، سرحد پار دہشت گردی، اور تجارتی تنازعات جیسے سنجیدہ مسائل اب بھی صلح کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔ دونوں جانب سے سیاسی ارادہ لازمی ہے تاکہ یہ بات چیت سطحی اشاروں سے آگے بڑھ سکے۔