Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

فلسطین جل رہا ہے

24اکتوبر 1945ء کو جب اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا اس وقت سے آج تک مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود حل نہ ہوسکے۔ سلامتی کونسل کی تمام تر قراردادیں بے اثر ہوئی۔ اقوام متحدہ کی چھوٹی سی صیہونی ریاست اسرائیل کو 42ہزار فلسطینی بچوں، بوڑھوں ، عزت مآب خواتین کو شہید کرنے سے باز نہ رکھ سکی۔ بلکہ سیکورٹی کونسل کی جنگ بندی کیلئے پاس کی جانے والی قراردادوں کو اسرائیل نے جوتے کی نوک پر رکھ کر مسترد کردیا اور اس طرح دنیا میں امن کے نام نہاد ادارے اقوام متحدہ کا وجود بے مقصد ہوکررہ گیا۔ آج اقوام متحدہ امن عالم کی علمبردار ہونے کے بجائے علم ادب اور شعور کی دنیا میں کفن چوروں کی انجمن کا روپ دھار چکی ہے۔ دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان میں گزشتہ ہفتہ کے دوران صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شبہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی بگڑی ہوئی صورت حال پر غور و غوض کیلئے ایوان صدر پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستان پی ٹی آئی کے سوا تمام قابل ذکر سیاسی، مذہبی جماعتوں کے سربراہان نے شرکت کی۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی حکومت اب تک تقریباً85ہزار ٹن بارود بموں کی شکل میں غزہ کی شہریوں پر برسا چکی ہے، غزہ کی تقریباً21لاکھ آبادی میں سے نوے فیصد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ۔36ہزار کے لگ بھگ مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ خان یونس میں انیس ہزار مکانات اور کاروباری املاک تباہ ہوچکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پناہ گزین کیمپس، ہسپتال ، سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی عمارتیں بمباری سے تباہ ہوچکی ہیں۔ رفح میں خیموں میں پناہ گزین مہاجرین ٹینکوں کی گولہ باری اور بمبوں سے لقمہ اجل بن گئے۔ آخر کیوں انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار امریکہ بہادر کو دنیائے اسلام میں 42ہزار بے گناہ شہیدوں کا قتل عام نظر نہیں آتا۔ اسرائیل کی ایک چھوٹی سی ناجائز ریاست کو سپر پاور امریکہ کی مکمل اشیر باد حاصل ہے۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔ مغربی دنیا کے عوام کے دل مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ ڈھڑکتے ہیں۔ عالم کفر میں بھی اسلامی ممالک سے بڑھ کر فلسطینی عوام پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف جلسے جلوس احتجاجی ریلیوں کا انعقادکر چکے ہیں لیکن مغربی ممالک کے حکمران مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ پر اسلام کا جھنڈا لہرانے والوں کے خون کے پیاسے نظرآتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ میں وسطیٰ لندن میں تین لاکھ افراد نے مظاہرہ میں شرکت کی۔ لیکن کیا دنیا بھر کے نعروں، کانفرنسوں ، ریلیوں سے اسرائیل کی عالمی غنڈہ گردی کو لگام دی جاسکی ہے۔ ہرگز نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کے حکمرانوں کو عالمی دنیا کے اسلام دشمن رویوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہو کر فلسطین میں فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیر پا امن کیلئے اسلامی ممالک کے سربراہان کی عالمی کانفرنس کے پاکستان میں انعقاد کو یقینی بنانا ہوگا۔فوری طورپر اسلامی سربراہان پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیا جائے جو پوری دنیا میں حکمرانوں سے روابط کر کے فوری جنگ بندی کرواتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنا نے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو قائل کیا جائے کہ وہ اپنے دفاع کیلئے متحد اور منظم ہوجائیں۔ اسلامی دنیا اپنے وسائل کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دیں۔ امریکہ اور آئی ۔ ایم۔ایف کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے پاکستان اسلامی دنیا کو باور کروائے کہ معاشی طور پر ایک مستحکم پاکستان عالم اسلام کی دفاعی محاذ پر قیادت کرسکتاہے۔ عالم استعمار متفقہ طور پر عراق، لیبہٰ، کویت،یمن، اردن، افغانستان ،مصر اور شام کی عسکری اور دفاعی لائن کو بری طرح متاثر کرچکا ہے۔ فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے اور آئندہ باری باری تمام اسلامی ممالک امریکہ بہادر کا شکار ہوتے رہیں گے۔
اسلامی دنیا جو تیل اور دوسری قدرتی دولت سے مالا مال ہے ان کو باور کروانے کی ضرورت ہے کہ عالمی استعماری قوتیں اسلامی دنیا کے ممالک کو معاشی، اقتصادی اور دفاعی طور پر مستحکم اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے خلاف مختلف عالمی فورم ہا کے ذریعہ برسر پیکار ہیں ۔اسلامی دنیا کے متعدد ممالک مغربی دنیا کے معتصبانہ رویہ کی بدولت معاشی، اقتصادی اور دفاعی طور پر بر باد ہو چکے ہیں۔ ایران کی عسکری طاقت کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ کئی بار اقتصادی پابندیوں سے ایران کو مفلوج کرنے کی سعی کر چکا ہے۔ ریاست پاکستان کی شکست اور ریخت میں بھی امریکہ کا کردار نمایاں رہا ہے۔ ناقابل اعتبار دوستی کا امریکہ بہادر چیمپئن ہے۔ اسلامی دنیا کے ممالک فلسطین کی موجودہ صورت حال میں اخلاقی، سفارتی، ریلیوں اور سیمینار پر اکتفا کر بیٹھے ہیں۔ اسرائیل جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کو خاطر میں نہیں لاتا وہ عالم کفر اور اسلامی دنیا میں نعروں اور درخواستوں سے متاثر ہوکر فلسطین میں ڈھائے جانے والے مظالم سے باز نہیں آئے گا۔ اسلامی دنیا کے حکمران غالباً اپنی تباہی و بربادی کا انتظار کر بیٹھے ہیں۔ جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو بند کر کے یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ بلی کی جارحیت سے اپنے آپ کو محفوظ کرچکا ہے۔ جیسے ایک مولوی صاحب بھینسے کو اپنی فصل کھانے سے روکنے کے لیے قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنا رہے تھے۔لیکن وہ فصل کھانے سے باز نہیں آرہا تھا ۔ایک زمیندار نے سوٹی اٹھا کر ماری جس سے وہ بھاگ گیا۔ عالمی استعماری کی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی دنیا کو دفاعی ساز و سامان سے لیس کرنا ہوگا۔ موجودہ وقت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران اگر اپنی اسلحہ فیکٹریوں کو بطور اپنی دفاعی صنعت کے فروغ پر توجہ دیتے ہوئے اسلامی دنیا کو اپنے دفاع کے لیے ضرورت کا ساز و سامان تجارتی بنیادوں پر فراہم کرسکیں تو نہ صرف عالم اسلام دنیا کی سپر پاور بن سکتا ہے بلکہ اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو کر عالمی استعمار کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے سرشار ہو سکتاہے۔ بہر حال اس وقت فلسطین پکار رہا ہے۔
کہاں ہیں کہاں محافظ خودی کے
ثناء خانے تقدیس مشرق کہاں ہیں

یہ بھی پڑھیں