Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

تحریک پاکستان سے تکمیل پاکستان تک

کسی بھی قوم کے لیے نظریہ اور عقیدہ روح کی حیثیت رکھتا ہے اور نظریہ ہی کسی قوم کے اندر احساس ذمہ داری کو جنم دیتا ہے کسی قوم کے لئے نظریات وہ قوت اور طاقت ہوتے ہیں جو تہذیبوں کو جنم دیتے ہیں اور انقلابات کو تحریک کرتے ہیں اسی سوچ و فکر ، نظریات خیالات نے اسلامیان ہند کے جذبوں کو جلا بخشی اور 23مارچ1940ء کو اس تابناک اور درخشندہ صبح کا ظہور ہوا جس میں اکابرین ملت اسلامیہ نے ایک واضح نصب العین اور مقصد حیات کے تعین کے لیے قرارداد پاکستان کی صورت میں لائحہ عمل کا اعلان کیا اور یوں صرف سات سال کی قلیل مدت میں برصغیر کے مسلم حیرت پرستوں کا کاروان اپنے محبوب قائد محمد علی جناح ؒکی نڈر اور بے باک قیادت میں آزادی جیسی عظیم نعمت سے سرفراز ہوااور اس طرح 14اگست1947ء کو دنیا کےنقشہ پر مملکت خداداد پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پرجلوہ گر ہوا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان ہند نے آگ اور خون کے دریا کو عبور کرتے ہوئے شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کے خواب کی تعبیرکوعملی جامہ پہنایا،پاکستان ایک طویل تاریخی جدوجہد اور بےمثال قربانیوں کا ثمر ہے۔
آج قیام پاکستان سے قبل کے حالات پر نظر ڈالتاہوں تو طوق غلامی میں مسلمانوں کا قومی تشخص بری طرح متاثر نظرآتا ہے برصغیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، عزت مآب خواتین کی فریادیں اور سسکیاں، ہندو بنیا کی غیر مساویانہ پالیسیاں اور پھر اس ظلم و بربریت کے خلاف مسلمانوں کا غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے اپنے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کروانا ۔جہاد کو اپنا نصب العین سمجھنا اور پوری جرأت کے ساتھ حکومت ہند کے خلاف نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے اعلان کرنا سینے پر گولی کھائیں گے پاکستان بنائیں گے۔
پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ اس مملکت خداداد کی اساس اور بنیاد بھی ایک نظریہ پر رکھی گئی۔ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الاللہ یہی وہ نظریہ تھا جو تصور پاکستان ، تحریک پاکستان ، حصول پاکستان اور تکمیل پاکستان کا باعث بنا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اس نوزائیدہ مملکت کے استحکام کے لیے تین اصول اتحاد، ایمان اور تنظیم وضح کیے ۔ کیا ہم نے قائد کے ان فرمودات پرعمل پیرا ہو کر وطن عزیز کی ترقی ،خوشحالی اور سلامتی کے لیے اپنے ملکی وسائل کو بروئے کارلایا ہے۔ کیا ہم آزادی کی اس نعمت کو جو اپنے پہلو میں مسرت کا ایک لامتناہی سلسلہ زلف محبوب کی دلکشمی کو تھامے ہوئے خیبر کی پہاڑیوں سے لے کر بحر ہند کی بے قرار موجوں تک پھیلی ہوئی ہے اس سے انصاف کر سکے ہیں۔ جب ان پہلوئوں پر غور کرتا ہوں تو لامحالہ قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول میں ہم نے بحیثیت قوم کیا کھویا کیا پایہ یہ ایک تجزیہ ذہن میں ابھرتا ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد قائد اعظم محمد علی جناحؒ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ بطل حریت خان لیاقت علی خان قتل کردیئے گئے ۔ پاکستان پر وڈیروں نےقبضہ کرلیا کبھی جاگیردار اورکبھی صنعت کار مملکت خدا داد کی قسمت کے مالک بن بیٹھے۔ ملک میں سیاست کے نام پر کاروبار اور شخصی تجارت کو فروغ دیا گیا۔ کبھی مارشل اور کبھی جمہوریت غریب عوام کی آہوں اور سسکیوں کا مداوا کر سکی اور نہ ہی آمریت میں مظلوم کو دادرسی مل سکی۔ دولت کی غیر مساویانہ اور غیر منصفانہ تقسیم نے امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنا دیا۔ ملک میں مذہبی منافرت، فرقہ پرستی نے مساجد کے تقدس اور حرمت کو پامال کیا ۔ میرٹ اور اہلیت کی جگہ دولت ، اقرباء پروری، برادری ازم اور علاقائی تعصب نے لے لی۔ ووٹ غریب ، مزدور کسان ڈالتے ہیں جبکہ بیلٹ بکس سے ایک جاگیر دار ، سرمایہ دار اور صنعت کار جنم لیتا ہے۔ پڑوسی ملک چین ہم سے بعد میں آزاد ہوا آج چینی قوم اور حکمرانوں کی جہد مسلسل نے چین کو دنیا کا سپر پاور بنا دیا ہے۔ جو آج سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا حق رکھتا ہے لیکن ہم ایک خدا اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پیرو کار ہوتے ہوئے اپنے سوہنی دھرتی مملکت خداداد پاکستان کی تزین و آرائش میں بہت پیچھے رہ گئے۔ پاکستان کی تاریخ محنت کشوں کی ایک باقاعدہ سیریل ہے ہم اپنی کوتاہیوں اور دوسروں کی غداری سے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے پاکستان، علامہ اقبال کے پاکستان ، مولانا شبیر احمد عثمانی کے پاکستان وطن عزیزی کے قیام کی جہد مسلسل میں ہزاروں شہیدوں اور غازیوں کے پاکستان کو دولخت کربیٹھے۔ 1970ء میں دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی مملکت دولخت ہوگئی ناخن سے گوشت جدا ہوگیا۔
گویا اپنوں کی سازشوں اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی مکارانہ چالوں سے پاکستان دو لخت ہوگیا۔ قدرتی وسائل سےمالامال مملکت خدا داد آج بھی کسی راہبر رہنما اور مسیحا کی تلاش میں ہے۔ اس ملک کے محنتی کسان ، بہادر اور جفاکش مزدور ، غیرت مند شہری ملک کی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہمہ تن مصروف عمل ہیں ۔صرف ایک شعبہ جس میں بدیانتی اور ریاکاری سے اجتناب کیا گیا جس کے نتیجہ میں آج پاکستان کا شمار دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں ہوتا ہے اسلامیان پاکستان نے 28مئی 1998ء چاغی کے پہاڑوں کی ہیت ناک گونج اور اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے ذریعہ استعماری قوتوں کو بالعموم اور اپنے دشمن بھارت کو پیغام دے دیا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے سات ایٹمی دھماکے کرکے برصغیر میں جوہری طاقت کے توازن کو برابر کر دیا آج اللہ کے فضل و کرم سے مملکت خدادکی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی مخافظت کے لیے وطن عزیز کے سپوت اور مجاہد اپنے خون کا نذرانہ لیے ساحل کراچی سے لیکر سیاہ چین کی بر فیلی اور نوکیلی چوٹیوں کا دفاع کرتے ہوئے میدان کا رزارمیں کود جانے کو تیار کھڑے ہیں ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بحیثیت مسلمان پاکستانی قوم کے وطن عزیز کے استحکام ،دفاع تزین وآرائش کے لیے قومی و ملی یکجہتی کے فروغ کے لیے تمام تر صلاحیتوں اور قوتوں کو بروئے کار لانا ہوگا ۔پاکستان کے قومی تشخص کو دنیا بھر میں اجاگر کرنےکےلیےاپنے تمام تروسائل کو یکجاکرنا ہوگا ۔ ملکی سا لمیت کے لیے ہر پاکستانی خواہ بوڑھا ہو یا جوان ،عورت ہویا مرد پنجابی یا بلوچی آج کے ملکی حالات کو مد نظررکھتے ہوئے گلی گلی اورکوچے کوچے قومی یکجہتی اور اتحاد کو پار ہ پارہ کرنے والی منفی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ وطن عزیز دنیا کے نقشہ پر ایک بڑی طاقت ور اسلامی مملکت بن کر ابھرے ۔

یہ بھی پڑھیں