معروف اسرائیلی مصنف یووال نووا ہاراری نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ نیکسس نامی ایک امریکی کمپنی پانچ کروڑ سے زائد پاکستانی شہریوں کے موبائیل ڈیٹا تک رسائی رکھتی ہے اور ان کے موبائیل فونز کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس خوفناک انکشاف کے بعد تقریبا ًتمام بارہ کروڑ سے زائد موبائیل فون استعمال کرنے والے پاکستانیوں کی سائبر سیکیورٹی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ہاراری کے مطابق 2014ء اور 2015ء کے دوران امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے ’’اسکائی نیٹ‘‘نامی ایک مصنوعی ذہانت کا سسٹم نصب کیا۔ یہ نظام لوگوں کی آن لائن سرگرمیوں، سفری ریکارڈز، اور سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر ان کو مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں متعدد افراد کو محض شبہ کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
ایک سابق سی آئی اے اور این ایس اے کے ڈائریکٹربھی اس بات کی تصدیق کر کہ امریکہ ایسے سسٹمز کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اس سے قبل پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کا ڈیٹا لیک ہونے کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ یہ لیک نہ صرف عام شہریوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس میں چیف آف آرمی سٹاف سمیت اعلیٰ عسکری قیادت بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور تشویشناک بات تو یہ ہے کہ لیک ہونے والے ڈیٹا میں بائیو میٹرک معلومات بھی شامل ہیں۔ اسی سال مارچ میں، ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)نے وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 2019ء سے 2023 ء کے دوران تقریباً 27لاکھ پاکستانیوں کا نادرا ڈیٹا لیک ہوا۔یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ امریکہ، چین، اور دیگر ممالک میں بھی ایسے سسٹمز کی نگرانی کی جا رہی ہے جو عوامی ڈیٹا کے تحفظ کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ 2013ء میں ایڈورڈ اسنوڈن کے انکشافات نے اس بات کو عیاں کیا کہ کس طرح بڑے ممالک اپنے شہریوں کی معلومات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کئی ملکوں نے اپنے ڈیٹا تحفظ کے قوانین کو سخت کر دیا ہے۔
دنیا بھر میں کئی ممالک نے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سخت قوانین بنائے ہیں۔ مثلا یورپی یونین کی جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن نے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے عوام کو اپنی معلومات کے تحفظ کا یقین دلایا گیا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے کیلیفورنیا کی کنزیومر پرائیویسی ایکٹ کے تحت عوامی ڈیٹا اور انکے پرائیویسی کے حقوق کو مزید تحفظ فراہم کیاہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ حکومتی ادارے، جیسے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)اس مسئلے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہے؟ اگر ہم اپنی شہریوں کی معلومات کو محفوظ نہیں رکھ سکتے تو پھر یہ کہاں تک درست ہے کہ ہم عالمی سطح پر اپنی سکیورٹی کو محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ بین الاقوامی سطح پر معلومات کی چوری اور ان کے غلط استعمال کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایک ایسا میکنزم بنائے جو شہریوں کی معلومات کی حفاظت کو یقینی بنائے۔پاکستانی شہریوں کے ڈیٹا لیک ہونے سے صرف ان کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس کے سنگین نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بائیو میٹرک ڈیٹا کسی غیر قانونی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف ان افراد کے لیے بلکہ ملک کی سکیورٹی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
ہاراری کی کتاب میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایسے سسٹمز کی مدد سے عوام کی نگرانی کی جا رہی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بنتی ہے۔عوامی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگ اپنی معلومات کی حفاظت کرسکیں۔ جدید ٹیکنالوجی جیسے بلاک چین کا استعمال کرنا بھی مفید ہوگا تاکہ ڈیٹا کی سیکیورٹی میں بہتری لائی جا سکے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کی خاصیت ہے کہ یہ معلومات کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ایسے ادارے قائم کرنا بھی ضروری ہے جو ڈیٹا سیکیورٹی کے مسائل کا جائزہ لیں اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات تجویز کریں۔آج کے دور میں، جہاں ہر چیز ڈیجیٹل ہو رہی ہے، شہریوں کا ڈیٹا زیادہ خطرے میں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ حکومت اس مسئلے پر غور کرے اور ایسا نظام وضع کرے جو نہ صرف موجودہ ڈیٹا لیک کی روک تھام کرے بلکہ مستقبل میں بھی اس قسم کے خطرات سے بچنے کے لیے مئوثر ہو۔ پاکستانیوں کا ڈیٹا ان کی زندگیوں کی ایک اہم اساس ہے جسے محفوظ رکھنا ہر حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ اس کے بغیر ہم ایک ایسی دنیا میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں ہماری شناخت، ہماری رازداری، اور ہماری سکیورٹی دا پر لگی ہوئی ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں یا ملک کا ڈیٹا کسی بھی طریقے سے کہیں بھی لیک نہ ہو سکے۔