Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مقام شہادت اور یحییٰ سنوارؒ

ٹیپو سلطان شہید ؒ کی طرح میدان جنگ میں آخری سانس تک انتہائی غلیظ ترین صہیونی فوج سے لڑتے ہوئے شہادت نوش فرمانے والے تحریک حماس کے سر بلند قائد انقلابی شہابی صفات سے مالا مال عظیم الشان مرد مجاہد شیخ یحییٰ سنوار شہید رحمہ اللہ علیہ کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ یقینا وہ اس وقت اللہ کے عرش کے نیچے اللہ پاک کی مہمان نوازی سے لطف اندوز اور جنت الفردوس میں فلسطینی شہداء کی محفل کے دولہا بنے ہوئے ہوں گے، شیخ یحییٰ سنوار شھید کی حیات۔ خدمات۔ اور شہادت پر تو سب ہی لکھ رہے ہیں،مگر ہم اپنے کالم میں پہلے حضرت یحییٰ سنوار کی محبوبہ یعنی ’’شہادت‘‘کے مقام کاقرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیں گے ،مسلمان کس قدر خوش نصیب ہیں کہ رحمت دو عالم ﷺ کی تعلیمات نے جہاں مسلمانوں کے لیے زندگی کو قیمتی بنایا اور اس کو گزارنے کے لیے وہ طور طریقے سکھائے جن کی بدولت انسانی حیات کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوا تو وہاں ایک مسلمان کی موت کو بھی بہت اعلیٰ اور ارفع بنا دیا۔اگر ایک مسلمان دین کی خاطر اپنی گردن کٹواتا ہے اور اپنے لہو کا نذرانہ راہ الٰہی میں پیش کرتا ہے تو وہ ایسا انمول ہو جاتا ہے کہ لاکھوں زندگیاں بھی اس کی ظاہری موت پر قربان کی جا سکتی ہیں۔
سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت دونوں ہی اسلام کا نصب العین اور طرئہ امتیاز ہیں،قرآن و سنت نے شہادت کے جو فضائل بتائے اور ان پر جو انعامات الہی گنوائے ان پر یقین رکھنے والے حضرات کی ایسی بے مثال جماعت تیار ہوئی، جن کے لیے شہادت سے بڑھ کر اور کوئی انعام نہیں تھا ان کے سپہ سالار برسر میدان دشمنوں کو کہتے تھے اللہ کی قسم میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جو موت سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسے تم شراب کو محبوب رکھتے ہو،چونکہ شہادت ایک مسلمان کے لیے سب سے بلند ترین مرتبہ ہے اس لیے ہر مسلمان کو اللہ پاک سے مقبول شہادت کا سوال بار بار کرنا چاہیے۔ اللہم ارزقنی شہادۃ فی سبیلک،اے اللہ مجھے اپنے راستے کی شہادت نصیب فرما دیجئے۔۔شہادت کسی مسلمان کے لیے دنیا اور اخرت دونوں میں نور ہے۔اسی لیے ایک شاعر نے کہا ہے۔
جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا
شہادت کی موت چونکہ سب سے اعلیٰ وارفع درجے کی موت ہے۔ ایسی موت جسے قرآن پاک میں اللہ پاک نے زندگی قرار دیا اور باوجود جسم کے کئی ٹکڑے ہو جانے کے اللہ پاک نے شہید کو مردہ کہنے اور سوچنے پر بھی سخت پابندی لگا دی۔ اسی لیے اللہ کی مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور افضل ہستی نبی کریم ﷺ بار بار اللہ تعالیٰ سے شہادت کی موت مانگا کرتے تھے۔شہادت کا مقام علمی اور لفظی طور پر تو دنیا میں سمجھا سمجھایا جا سکتا ہے، مگر اس کی اصل حقیقت کا ادراک ہمارے لیے ممکن نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا اور سمجھایا ہے اور جب کوئی مومن شہادت پا جاتا ہے تو وہ بھی اس مقام کو دیکھ لیتا ہے مگر باوجود زندہ ہونے کے اس کا رابطہ زندہ لوگوں سے کٹ جاتا ہے وہ انہیں نہیں بتا سکتا کہ وہ کس حال میں ہے کس لذت میں ہے اور کس بلند مقام پر فائز ہے۔اگر کسی ایک شہید کو بھی موقع دے دیا جائے کہ وہ زندہ لوگوں کو اپنے حالات بتا سکے تو پھر کوئی مسلمان بھی شہادت سے محرومی کا تصور بھی نہیں کرے گا اور سب لوگ دیوانوں کی طرح شہادت کی طرف لپکیں گے، مگر اصل ایمان تو ایمان بالغیب ہے، بغیر دیکھے بغیر محسوس کیے اور بغیر چکھے مان لینا۔پھر شہادت عشق کا اعلی مقام ہے اور عشق کی باتیں راز ہوتی ہیں جب بھی کوئی ایمان والا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شہادت پا لیتا ہے تو اس کی ایک خواہش یہ بھی ہوتی ہے کہ اسے اجازت دے دی جائے کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے دنیا کے افراد کو اپنا حال بتا سکے، مگر اسے اس کی اجازت نہیں دی جاتی، کیونکہ اگر یہ اجازت مل جائے تو پھر نہ غیب غیب رہا اور نہ راز راز ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھیں کہ انہوں نے شہادت کے فضائل اور شہادت کے مقام کو کھول کر بیان فرمایا، ایمان والوں کے لیے تو ان کا اشارہ ہی کافی تھا مگر اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل کہ آیات پر آیات نازل فرمائیں اور شہدا کا پیغام پیچھے والوں تک پہنچایا، اور پھر حضرت آقا مدنی ﷺکا اپنی محبوب امت پر عظیم احسان کہ شہادت کو اتنی تفصیل اور خوبصورتی سے بیان فرمایا کہ گویا کہ اس کے عظیم مقام کو انکھوں کے سامنے رکھ دیا، یہ آپ ﷺکا خود اپنی ذات اقدس کے لیے بار بار شہادت کی تمنا فرمانا کیا اس کے بعد کسی اور فضیلت کسی اور تقریر کسی اور تحریر کسی اور ترغیب یا کسی اور مضمون کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اس مخلوق میں سب سے افضل اور افضل ترین ہیں۔ کون سا مقام ہے جو آپ ﷺ کو حاصل نہیں اور کون سی منزل ہے جو آپ ﷺ کے دسترس میں اللہ تعالیٰ نے نہیں دی پھر قیامت تک آپ ﷺکے مقامات کی مزید بلندی کا اللہ تعالیٰ نے ایک مستحکم اور عجیب نظام قائم فرما دیا ہے۔ ہر روز ہر لمحہ اور ہر گھڑی آپ ﷺ کی شان میں مزید بلندی ہوتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر اگلا لمحہ اور ہر اگلا مرحلہ پچھلے سے زیادہ بہتر اور زیادہ شان والا ہے مخلوق میں سب سے زیادہ فضیلت حضرات انبیاء اور ملائکہ کی ہے،بالاتفاق آپ ﷺتمام انبیاء علیہم السلام اور تمام رسولوں کے سردار اور امام ہیں اس ساری صورتحال کے باوجود آپ ﷺ کا اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں بار بار قتل ہونے اور شہید ہونے کی تمنا کا ظاہر فرمانا اس امت کو کیا سکھاتا ہے؟اب ایک نظر اس طرف دیکھیں حضرت آقا محمد مدنی ﷺنے ہر معاملے میں اپنی امت کی فکر فرمائی اور اپنی امت پر ہر معاملے میں احسان عظیم فرمایا شہادت جیسی اونچی میٹھی دل کش اور انمول نعمت آپ ﷺکی امت کے زیادہ سے زیادہ افراد کو نصیب ہو اس لیے آپ ﷺنے شہادت کو عجیب طریقے اور عجیب الفاظ میں بیان فرمایا کہ میری محبت یہ ہے میری چاہت یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جاں یعنی شہادت پائوںجب اللہ تعالیٰ کے حبیب اللہ تعالیٰ کے محبوب ساری مخلوقات کے محبوبﷺ کی محبت اور چاہت یہ ہے کہ آپ ﷺ کو شہادت ملے تو اندازہ لگائیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہونا شہادت پانا کتنی عظیم نعمت ہے اب ایک مسلمان کے لیے یہ کام آسان ہو گیا کہ وہ اپنے نفس کو شہادت کے لیے تیار اور راضی کرے ہر نفس میں زندہ رہنے کی بہت خواہش ہوتی ہے یہ دنیا اپنے اندر بڑی کشش رکھتی ہے اس کشش کو توڑنے کے لیے اس سے بڑی کشش کی ضرورت پڑتی ہے ۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں